افسانے

میر ے بچپن کی کہانی

میرے بچپن کی کہانی
نزہت قریشی
جب ہم چھوٹے چھوٹے تھے تو جیسے کہ ہر بچے کو کہانی سُننے کا شوق ہوتا ہے، تو ہمیں بھی کہانی سُننے کا شوق تھا۔ اب ہر روز نئی نئی کہانیاں کہاں سے سُنائی جائیں، کوئی بھی کہانی شروع کی جاتی تو ہم پہلے سے اعلان فرماتے کہ یہ تو سُنی ہے۔ کوئی اور کہانی سُنائیں تو اُنہی میں تھوڑی بُہت تبدیلی کے ساتھ وہ کہانیاں ہمیں سُنا دیتے۔ بچپن بھی کتنا معصوم دور ہوتا ہے نا ۔ فوراً دھوکہ کھا لیتے تھے۔ ایک کہانی جو مجھے اچھی بھی لگتی تھی اور سُننے میں مزہ بھی آتا تھا۔ وہ کہانی آپ کو بھی سُناتی ہوںمیری مادری زبان چونکہ ہند کو ہے ، تو کچھ الفاظ ہندکو کے بھی شامل کروں گی۔ ترجمے کے ساتھ۔
کہانی:۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شکاری شکار کی غرض سے شہر کے قریبی جنگل میں گیا وہ شکار کی تلاش میں پھرتا رہا مگر اُسے کچھ نہ ملا۔ اچانک اُسے ایک مینا نظر آئی۔ اُس نے جال ڈال کر مینا کو پکڑ لیااور گھر کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں مینا نے رونا اور فریادیں شروع کر دیں۔کیونکہ جنگل میں درخت پر اُس کے گھونسلے میں اُس کے ننھے بچے رہ گئے تھے۔ وہ روتی جاتی اور فریاد کچھ یوں کرتی جاتی۔
ہوا آسی تے اُڈ جاسُن ٹک ٹڑوں ٹڑوں( ہوا جب آئے گی تو میرے بچے اُڑ جائیں گے)
مینہ آسی تے رُڑ جاسُن ٹک ٹڑوں ٹڑوں (بارش جب آئے گی تو وہ بہہ جائیں گے)
بلی آسی تے کھا جاسی ٹک ٹڑوں ٹڑوں (بلی آ کر اُن کو کھا جائے گی) ( ٹک ٹڑوں ٹڑوں۔ مینا کی آواز ہے)
اتنے میں اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ قریب ہی ایک باز نے اُس کی فریاد سُن لی۔ اُ نے اُسے بچانے کی ٹھانی اور اپنی قُر بانی پیش کر کے وہ شکاری کے پاس آ بیٹھا شکاری نے جب دیکھا کہ اتنا قیمتی پرندہ اُس کے پاس آ گیا ہے تو اُس نے فوراً ہی اُسے پکڑ لیا۔ اُس کے پاس ایک ہی پنجرہ تھا۔ اُس نے سوچا کہ مینا سے تو اُسے کوئی خاص فائدہ نہ ہو گا۔ لہٰذا مینا کو اُڑا دیتا ہوں اور باز کو پنجرے میں بند کر دیتا ہوں۔ کیونکہ اس کے اچھے پیسے مل جائیں گے۔ چنانچہ اُس نے ایسا ہی کیا اور مینا کو آزاد کر دیا ۔ مینا آزاد ہو کر اپنے بچوں کے پاس چلی گئی۔
تو آپ نے دیکھا کہ پرندےہوں یا جانور ہر ایک دوسرے سے ہمدردی اور محُبت کا ثبوت اپنی قُر بانی دے کر دیتے ہیں۔ ہم انسان تو اشرف المخلوقات ہیں ۔ ہم میں عقل و شعور ہے ۔ تو پھر ہم کیوں ایک دوسرے کو تکلیف دیتے اور نُقصان پُہنچاتے ہیں۔ کیوں سرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں۔ بے غرض محُبت اور قُربانی سے کیوں غافل ہیں۔ آئیں یہ عہد کریں کہ ہم بھی ایک دُوسرے کے لی بے غرض محُبت اور ایثار و قُر بانی کے لیے ہمیشہ تیار رہیں گے۔

Quraishi Jahan

I am Nuzhat Quraishi. Principal The Smart School Shabqadar Campus. I am a writer and want to write articles.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!