تعلیم

مل کر معاشرہ سدھاریں

7آج ایک محترم سے بات ہوئی جو بے حد خوف کا شکار تھے کہنے لگے بھائی مجھے زندگی دنیا اچھی نہیں لگتی کافی بار خودکشی کرنے کیلیئے نکل بھی گیا پھر اپنے دو بیٹوں کے بارے میں خیال آیا اور پھر ارادہ ختم کر لیا میں نے پوچھا جناب اس سب کی کیا وجہ ہے یہ بتائیں کہنے لگے میں بتانا تو چاہتا ہوں پر بتانے سے ڈرتا ہوں بہت زیادہ انھیں بتانے پر آمادہ کیا تو کہنے لگے میں بچپن سے ایک مہذب انسان تھا معاشرے میں میری بڑی عزت تھی ہر شخص میرے بارے میں اچھا گمان رکھتا تھا کیونکہ میرا کرداد ہمیشہ مثبت رہا پھر جوانی میں کچھ نئی رونقوں سے آشنا ہوا تو میں لوگوں سے کال پر لڑکی بن کر باتیں کرتا تھا ایک شخص جسکا تعلق میرے ہی علاقہ سے تھا میں نے اس سے بھی لڑکی بن کر بات کی اور اسکی کچھ نازیبا گفتگو میں نے ریکارڈ کر لی اور اسطرح میں نے اسے بلیک میل کر کے چالیس ہزار بٹور لیئے بس یہ خوف کا مرض اسی دن سے مجھے لاحق ہوگیا پھر رفتہ رفتہ مجھے انکی طرف سے بہت سی دھمکیاں ملتی رہی اور آج پانچ سال کا عرصہ بیت گیا اب حالات تو موافق ہیں پر دل میں ایک چبھن ہے ایک ملال ہے کہ میں نے ایک برائی کر کے اپنے سارے کردار کو تباہ کردیا کہنے لگے سر آپ سے پہلے کافی سارے سائکیٹریسٹ کو دیکھا چکا ہوں کافی مہینے دواؤں کا استعمال بھی کر چکا ہوں پر مکمل حل نہ مل سکا مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرا کوئی علاج ہی نہیں پانچ سال سے یہ بات میں نے کسی کو بھی نہیں بتائی تمام مسائل اور گفتگو سننے کے بعد میں نے ان سے کہا جناب آپکا علاج نہ دواؤں سے ممکن ہے نہ ڈاکٹرز سے آپ نے جس شخص سے یہ سلوک کیا اس سے جاکر معافی مانگیں اور اسے کہیں میں آپکے پیسے بھی جلد لوٹا دونگا اور پھر کہا جب کوئی پریشانی طویل عرصے تک دل میں رکھی جائے تو وہ کوئی خطرناک بیماری بن کر ابھرتی ہے اس نے بے حد دعائیں دیتے ہوئے کہا بھائی جان آپکے مشورے نے کافی حوصلہ بخشہ . نہ جانے لوگ کس عالم میں ہیں کیا سوچے جارہے ہیں اپنی خطاؤں پر معافی مانگنے کو برا سمجھتے ہیں ڈرتے ہیں پھر اسی انا کی بھینٹ چڑھ کر اپنے گلے میں پھندہ ڈال کر خودکشی کر لیتے ہیں اگر ہر خطا کے بعد معافی مانگ کی جائے تو تسکین قلب حاصل ہوگا پر ہم تو اسے ناگوار سمجھتے ہیں اسی لیئے آج نرم بستر پر بھی سکون میسر نہیں دواؤں میں شفا نہیں دعاؤں میں اثر نہیں کہنے کو سارا زمانہ ساتھ ہے پر حقیقت میں کوئی اپنا نہیں غلطی پر معافی مانگنا ذمہ دار اور احساس والے لوگوں کی نشانی ہے اور یہی لوگ معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہے آئیں ایک دوسرے سے معافی مانگ کر رشتوں کو بہتر بنائیں۔

ارسلان چوہدری

جو لکھوں گا سچ لکھوں گا سچ کے سوا کچھ نہیں لکھوں گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!