اسلامک

کاشانہء نبوی میں خواتین کی تعلیم

کاشانہء نبوی میں خواتین کی تعلیم
عہد نبویؐ میں خواتین کی سب سے بڑی درس گاہ خود کاشانہ ء نبوت تھا جہاں خواتین کی آمد ورفت کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا تھا اور وہ براہِ راست رسولؐ سے سوالات پوچھتیں، بالعموم یہ سوالات ازواج مطہرات کی موجودگی میں ہوتے تھے جن سے وہ خود بھی مستفید ہوتی تھیں اور بسا اوقات ازواج مطہرات کی خدمت میں حاضر ہوکر ان سے بھی علمی استفادہ کرتی تھیں۔ بعض امور جو مزید وضاحت طلب ہوتے تھے یا خواتین کو براہِ راست پوچھنے میں جھجک محسوس ہوتی تھی تووہ ازواج مطہرات کی وساطت سے معلومات حاصل کرلیتی تھیں۔امہات المومنین کو ہدایت فرمائی کہ وہ ہر بات عورتوں کو سکھائیں، اور مسلمانوں سے کہا کہ انہیں نصف تعلیم کے لیے، حضرت عائشہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔آ پ ؓانصاری خواتین کی تعریف میں کہتی ہیں:’’انصار کی خواتین بہت اچھی ہیں وہ دین کو سمجھنے میں نہیں شرماتیں۔‘‘
عصر حاضر کے معروف سیرت نگار ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی نے مکی اور مدنی ادوار میں کاشانہء نبوت میں خواتین کی مسلسل آمد ورفت رہتی تھی۔ مکی دور کے حوالے سے صدیقی صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہمارے قدیم وجدید سیرت نگاروں نے مردوں کی حاضری کی روایات درج کی ہیں لیکن عورتوں کی خدمت نبوی میں آمد کے بارے میں کم لکھا ہے۔ وہ عموماً خواتین اور بچوں کے بارے میں معلومات کو یوں بھی خاطر میں نہیں لاتے جو ان کی مردانہ عصبیت کی دلیل ہے اور یہی عصبیت متاخرین میں شدت سے ملتی ہے۔
انہوں نے مکی دور کی مختلف خواتین کے حوالے سے یہ تبصرہ کیا ہے کہ بیت نبوی میں حاضری دینے والی بیشتر خواتین قریشی ہوتی تھیں یا مکہ مکرمہ کی باسی عورتیں۔ ان میں رشتہ دار بھی تھیں اور غیر رشتہ دار بھی، بوڑھی اور بزرگ خواتین بھی تھیں اور جوان و نوخیر بچیاں بھی ہیں ان کے علاوہ ان میں مسلم خواتین بھی شامل تھیں اور غیر مسلم خواتین بھی، عمرہ و حج اور زیارات کعبہ کو آنے والے حضرات اور عرب مردوں کے ساتھ ان کی خواتین بھی کاشانہء نبوی میں حاضری دیا کرتی تھیں اور ہجرت کے بعد رسولؐ کے مبارک گھروں میں ان مکی اور قریشی خواتین کی آمدورفت کا سلسلہ حسب دستور برابر جاری رہا تھا۔
ان کے نزدیک انصاری خواتین میں مدنی اقدار معاشرت اور کچھ اہل سیروحدیث کی غالب توجہ کی بناء پر ان کی در دولت نبویؐ پر حاضری کے واقعات کا تناسب زیادہ ہے۔
اس آمد و رفت سے جو دینی تعلیمات حاصل ہوئیں جو مختلف اور متنوع موضوعات پر مبنی ہیں اور احادیث کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ان صحابیات کے ذریعہ امت تک پہنچا جو نہ صرف خواتین سے متعلق مخصوص احکام پر مشتمل ہے بلکہ دین کی عمومی تعلیمات اور آفاقی احکام کا بھی احاطہ کئے ہوئے ہے۔
مخلوط اور علیحدہ مجالس
خواتین بعض اوقات ایسی مجلس نبویؐ میں بھی شریک ہوجاتی تھیں جہاں وہ مردوں کے سامنے نجی زندگی کے بارے میں سوالات کرتی تھیں جن کا تعلق خواتین کے مسائل سے ہوتا تھا مگر اﷲ کے نبیؐ نے کبھی انہیں ایسا کرنے سے منع نہیں کیا تھا۔ مساجد میں نماز کے موقع پر خواتین کی صف علیحدہ اور مردوں کے پیچھے ہوتی تھی۔اسماء بنت یزید کی روایت ہے کہ:
’’وہ رسولﷺ کی خدمت میں حاضر تھیں اور کچھ مرد اور خواتین بھی بیٹھے تھے آپؐ نے فرمایا: کیا کوئی ایسا شخص بھی ہے جو اپنی بیوی سے جو کچھ کرتا ہے اسے لوگوں کو بتاتا پھرتا ہے اور کیا ایسی بھی عورت ہے جو اپنے شوہر کے ساتھ جو کچھ کرتی ہے اسے عورتوں کو بتاتی ہے، لوگ خاموش رہے میں نے کہا: اے اﷲ کے رسولؐ! خدا کی قسم عورتیں اور مرد دونوں ایسا کرتے ہیں۔ آپؐ نے اس سے منع فرمایا۔‘‘
البتہ اس کے شواہد بکثرت ہیں کہ مساجد اور عید گاہوں میں خطبہ کے دوران ان کی نشست مردوں سے علیحدہ ہوتی تھی اور وہ خود بھی اس بات کو پسند کرتی تھیں کہ ان کے لیے علیحدہ تعلیم کا بھی انتظام کیا جائے جیسا کہ ابو سعید خدری سے روایت گزر چکی ہے جس میں خود خواتین نے اپنے لیے علیحدہ مجلس میں تعلیم دینے کی درخواست فرمائی جسے آپؐ نے قبول فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ جب مسجد نبوی میں خواتین کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا تو حضورؐ نے اختلاط سے بچنے کے لیے مسجد نبوی میں ان کی آمد و رفت کے لیے ایک علیحدہ دروازہ مخصوص فرمایا جسے باب النساء کا نام دیا گیا۔اور دیگر مجالس مثلاً امہات المومنین کے حجروں میں اور براہِ راست نبیؐ سے بیت النبیؐ میں بھی جاری رہا۔
شوق تعلیم
زمانہ جہالت میں بہت زیادہ لوگ تعلیم یافتہ نہ تھے مگر حضور ؐ کے دور میں تعلیم و تربیت کا کام عروج پہ تھا۔ مرد اور خواتین سب لوگ اس کام میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں رہتے تھے۔ علم کے فروغ کے لیے حضورؐ کی خصوصی دلچسپی، توجہ اور ترغیبات کا نتیجہ تھا کہ خواتین نے اپنی تعلیم کے لیے آپ سے علیحدہ دن مقرر کرنے کی درخواست کی جسے آپؐ نے قبول کرلیا۔ خواتین حضورؐ سے بلا تکلف سوالات کیا کرتی تھیں اور وہ دین کو حاصل کرنے کے لیے حیا کو رکاوٹ نہ بننے دیتی تھیں۔خواتین کی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ ،ذوق وشوق اور لگن کا اندازہ حضرت عائشہ کی اس روایت سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ:
’’رسولؐ کے زمانہ میں کوئی آیت نازل ہوتی تو ہم اس میں مذکور حلال و حرام اور امر و نہی کو ذہن نشن کرلیتی تھیں اگرچہ اس کے الفاظ ہمیں زبانی یاد نہ بھی ہوتے۔‘‘
عہد نبویؐ میں خواتین مختلف معاملات میں حضورؐ کی طرف رجوع کرتیں اور انہیں اپنے مسائل بتاتیں۔ ان کے سوالات مختلف نوعیت کے ہوتے تھے جن میں خواتین کی مسائل یا شوہر کے ساتھ معاملات کا بھی ذکر ہوتا تھا۔جیسے حضرت ثابت بن قیس کی بیوی کی طرف سے علیحدگی کے مطالبہ پر آپ نے اسے بطور مہر وصول کردہ باغ واپس لوٹانے کو کہا جس کے بعد انہیں علیحدہ کردیا گیا۔

ANWAR UL HAQ

انوارالحق عباسی پی ایچ ڈی (اسلامک سٹدیز) سکالر

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!