اسلامک

خلافت بنو عباس کا قیام (عباسی تاریخ) کست نمبر (1) کمنٹ میں اپنی رائے سے آگاہ کریں یہ سلسلہ آگے چلنا چاہیے یا نہیں؟

بنوہاشم اور بنواُمیہ میں رقابت کا آغاز
اسلام سے پہلے عرب میں قریش کو سب سے اعلٰی قبیلہ سمجھا جاتا تھاوہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھےاور خانہ کعبہ کے متولی تھے۔ مکہ کی شہری ریاست قصی بن کلاب نے قائم کی تھی۔ انہی کی اولاد قریش کہلائی۔ وہ بوڑھے ہوگئے تو اُنہوں نے اپنی ذمہ داریاں اپنے بڑے بیٹے عبدلدار کے حوالے کر دیں۔ دوسرا بیٹا عبدلمناف کم سنی کی وجہ سےکوئی اہم منصب حاصل نہ کر سکا۔ تاہم اُن کی اولاد نے بنوعبدالدار سے جھگڑا کر کے اکثر منصب حاصل کر لیے۔ البتہ خانہ کعبہ کی کلیدبرداری اور پرچمِ جنگ انہی کے پاس رہنے دیئے۔
خاندان قریش کے سر براہ عبدمناف بن قصی بن کلاب کے چار بیٹے (عبدشمس، نوفل، مطلب، اور ہاشم) تھے۔ پانچوی صدی عیسوی میں عبدمناف کی وفات کے بعد ان کے بیٹے عبدشمس کو قبیلہ قریش کے منصب امار تفویض کیا لیکن انہوں نے اپنے بھائی ہاشم کو ان کی عربوں میں عزت وتوقیر، فہم و فراست اور قلبی و ذہنی صلاحیتوں کی بدولت اپناجانشیں نامزد کر دیا۔ سقایہ اور رفادہ جیسی اہم مزہبی خدمات بھی بنوں ہاشم کے سپرد کر دیں گئیں۔ یہ ہاشم ہی تھے جنہوں نے عربوں کے لئے دو موسموں میں تجارتی سفر مقرر کیئے۔ یہ فخر بھی انہیں ہی حاصل ہوا کہ قیصر روم نے ایک معاہدے کی رو سے تسلیم کیا کہ قریش کے قافلوں پر سفر کے دوران کوئی بھی حملہ نہیں کر سکے گا بلکہ اُن کی حفاظت کا پورا بندو بست کیا جائے گا۔
حضرت ہاشم جب بوڑھے ہوگئے تو عبد شمس کے بیٹے اُمیہ نے ان کی قیادت و سیادت کو چیلنج کر یا اور اپنے دعویٰ کو تسلیم کرانے کے لیے استصواب چاہا۔ (دوسرے سرداروں کی رائے طلب کی) دونوں کے درمیان مناظرہ طے پایا جس میں حضرت ہاشم کو فتح ہوئی اُمیہ کو بطورِ ہرجانہ پچاس اُونٹ دینے پڑے نہ صرف اتنا ہی بلکہ دیگر شرائط کے مطابق اسے دس سال کے لیے ملک بدر ہونا پڑا اور وہ ملکِ شام چلا گیا جہاں وہ قریب بیس برس مقیم رہا۔ جب وہ واپس لوٹا تو خاندان عبدمناف دو گروہوں میں بٹ چکا تھا حضرت ہاشم کی وفات کے بعد ان کے نو عمر فرزند عامر جو شبیہتہ لحمد کے لقب سے یاد کیے جاتے تھے ان کے جانشین ہوئے۔ ان کی پرورش ان کے چچا مطلب نے کی تھی اس لیے وہ تاریخ میں عبد لمطلب کے نام سے مشہور ہوئے۔ (حرب بن اُمیہ بن عبدشمس) آپ کاہمعصر تھا ۔ اس عبدلمطلب کی جگہ خانہ کعبہ کی تولیت حاصل کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اول اول یہ لڑائی اور دُشمنی ایک معمولی سی چیز تھی جس کے اثرات محدود تھے۔ جیسا کے حرب بن اُمیہ اور عبدلمطلب بن ہاشم معاملات سے ظاہر ہوتا ہے لیکن در حقیقت یہ جنگ خاصی خطرناک تھی، یہ جنگ تھی قیادت اور سیادت کی، دو قیادتیں برسرپیکار تھیں ان میں سے ایک دُنیوی تھی جسے دولت و ثروت ، امارت ووجاہت، اور شان و شوکت پر بھروسہ تھا، دوسری روحانی تھی جس کے پیش نظر یہ تھا کہ شعوری دینی حسنِ معنوی کو سوسائٹی اور عوام میں بیدار کیا جائےاور اُبھارا جائے۔
ظہورِ اسلام:
حضرت محمدؐ بعثت سے بنو اُمیہ میں دوہرا اناد پید ہوا ایک اس وجہ سے کہ بُت پرستی اور آبائی دین پر ضرب پڑتی تھی معاشی مفادات بھی خطرہ میں تھے دوسرا یہ کہ بنوہاشم کی کامیابی ان کی سرداری اور قیادت کے خامہ کا اعلان تھی۔ بلخسوس جنگ بدر میں جب ابو جہل اور دوسرے بڑے لیڈر قتل ہوگئے اور مکہ کی سیادت ابو سفیان کے حصہ میں آئی تو بنو اُمیہ نے مدینہ کی اسلامی ریاست کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔ فتح مکہ نے بالآخر بنو اُمیہ کی تالیف قلب کی اور جلد ہی آپ کے زیر سایہ عربوں کے باپمی تعصبات مٹ گئے اور اس کی جگہ اسلامی اخوت و محبت اور بھائی چارہ نے لی اور اس طرح ملت اسلامیہ اور اُمت محمدیؐ بنیاد رکھی گئی۔ جس میں رنگ و نسل، کالے گورے، عجمی عربی، پاشمی و اُموی کی کوئی تشخیص باقی نہ رہی۔ دور خلافت راشدہ میں بنو ہاشم بنواُمیہ نے اس دینی جذبہ سے فروغ اسلام کے لیے کام کیا۔
چنانچہ حضرت عمر فاروق (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے زمانے میں یزید بن ابی سُفیان نے فتح دمشق میں نمایاں کردار ادا کیا اور معاویہ بن ابو سفیان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ حضرت عمر فاروق (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی شہادت کے بعد حضرت عثمان (رضی اللہ تعالٰی عنہ) خلیفہ بنائے گئے جن کا تعلق بنو اُمیہ سے تھا۔ بنو اُمیہ اپنی ذاتی قابلیتوں کی وجہ سے پہلے ہی خلافتِ اسلامیہ کا ایک ضروری جزو بنے ہوئے تھے۔ حضرت عثمان (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے خلیفہ مقرر ہو جانے کے بعد ان کی نرم مزاجی اور مروان بن الحکم کے اقتعدار سے فائدہ اُٹھا کر بنو اُمیہ نے اپنی طاقت اور اثر کو یک لخت اس قدر بڑھا لیا کہ وہ تمام عالمِ اسلام پر چھا گئے۔
باہمی کشمکش کا احیاء:
عام مسلمان اوور با لخصوص بنو ہاشم اس غیر معمولی اثر سے خوش تھے۔ فضامیں عبداللہ بن سبا نے نئے نئے عقائد گھڑ کر دور افتاد علاقوں کے عوام کو جن کی دینی تربیت ناپختہ تھی حضرت عثمان (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے خلاف بھڑکایااور ایک ایسی شورش برپا ہوئی جس کے نتیجے کے طور پر حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) کو شہید کر دیا گیا۔ اگرچہ حضرت علی (رضی اللہ تعالٰی عنہ) اس فتنہ سے مکمل طور پر دامن کش رہےلیکن فتنہ وفساد اور خون ریزی کا بازار گرم ہو کر رہا اور اُموی ہاشمی کشمکش حضرت حسن (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی دستبرداری امیر معاویہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی خلافت کے قیام اور شہادتِ حسین (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی صورت میں ملتِ اسلامیہ کا خرمن امن کو تُباہ کرنے میں کامیاب رہا۔
آخری الفاظ:
اگر آپ نے یہ آرٹیکل پسند کیا تو (انشاء اللہ) اگلے کست میں (ہاشمی تاریخ )پر نظر ڈالیں گے ۔ کمینٹ میں رائے اپنی رائےدیں
( اللہ پاک ہم سب کا حامی و مدد گار ہو)

Muhammad Yousaf Iqbal

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ خوش آمدید اگر آپ اردو ادب اور شاعری کے دلدادہ ہیں تو آپ صیح جگہ پر ہیں میرے ساتھ بنے رہیں!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!