افسانے

اگرہم چاہیں تووہ لوگ بچ سکتے ہیں

اگرہم چاہیں تووہ لوگ بچ سکتے ہیں
وہ لوگ ایساکیوں کرتے ہیں؟کیاایسی بھی کوئی زندگی ہوتی ہے؟کیاوہ سچ میں مجبور ہیں؟یاپھرفریب ہے؟
کیاوہ زندہ ہیں یامرچکےہیں ؟کیاکوئی ان کوجانتاہےکےوہ کیسےجیتےہیں؟کیایہ بھی کوئی زندگی ہے؟کیاوہ خوشی کی پہچان بھول چکے ہیں؟وہ کیوں اوروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں؟
ہاں میں اُن کی بات کررہاہوں جوآپ کے گھر کےسامنے والی سڑک پہ کوڑے دان کے پاس بیٹھےہیں۔ جب بھی کوئی شخص کوئی کھانے والی چیزکوڑےدان میں پھینکتاہےتووہ لوگ اُسےنکال کریاتوخودکھالیتے ہیں یاپھراپنےبچوں کو کھلادیتےہیں۔ہم سب اپناکھاناایسے ہی زائع کردیتےہیں۔کیوں کیاہم ایسانہیں کر
سکتےکےجوکھاناہم نےکوڑےدان میں پھینکناہوتاہےاُسے پہلےسےہی بچاکران لوگوں کودےدیاجائے۔
کیاہم ایسانہیں کر سکتے کےہم جو کپڑے چھوٹےہونےپرباہرپھینک دیتےہیں۔اُن کپڑوں کوانہیں دے دیاجائے۔
کیاخوش رہنے کا حق ہمیں ہی ہے انہیں خوش رہنے کاحق نہیں ہے۔کیازندگی صرف ہماری ہے ان کی نہیں۔کیا انسان صرف ہم ہی ہیں یہ لوگ نہیں۔اگرکوئی بھی کسی کے آگےہاتھ پھیلاتا ہے تو وہ مجبور ہو کر ہی ایسااکرتاہے۔کسی کو اس کام سےخوشی نہیں ملتی۔
ہمارے لیے بس ہمارے بچےضروری ہیں۔توپھراُن بچوں کاکیاجوہر گلی میں ہر سڑک پربھیک مانگ رہےہیں۔اُن بچوں کاکیاجن کے پاس سردی ہویاگرمی بدن پرپہننے کےلیے کچھ نہیں ہے۔
ایسی بیوہ مائیں کیاکریں جن کی بیٹیاں ابھی تک گھرمیں بیٹھی ہیں۔کیا ہم اپنی مہینے کےبعدآنےوالی تنخواہ میں سےایک ہزار بھی ان کو ن نہیں دے سکتے۔جو پیسے ہم لوگ فضول کاموں میں لگاتے ہیں وہ ان کی خوشی کے لیے لگا دیں توکیا یہ زیادہ اچھانہیں ہے۔اگر یہی پیسا ہم ایک بیوہ عورت کی بیٹی کی شادی کے لیے
لگائیں تو کیا کوئی غریب غلط کام کرے گا۔تو کیا کوئی بیٹی کوئی غلط قدم اُٹھائے گی؟
ہم اپنے معاشرےکو غریب ہونے سے بچاسکتے ہیں اگر ایک دوسرےکی مدد کرنا شروع کر دیں۔ہمارے ملک میں موجود ہربچہ تعلیم حاصل کر سکتا ہے اگرہم چاہیں تو۔ہمارے ملک میں کوئی بھی بھوک کے ساتھ نہیں سوئے گا اگر ہم چاہیں تو۔توچلیں اپنے ملک کو سب مل کر بچائیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button