اسلامک

حقیقت نزول قرآن

یہ نزول قرآن کا مہینہ ہے۔بچپن کا وہ سادہ تصور ابھی تک ہمارے اذہان میں بیٹھا ہوا ہے کہ خدا ساتویں آسمان سے بھی اوپر عرش پر ہے،وہ وہاں سے زمین پر پیغام بھیجا ہے اور یہ بیغام ایک فرشتہ کے وسیلے سے پہنچتا ہے،فرشتہ بھی پرواز کرنے والی مخلوق ہے جس کے باقاعدہ پر ہیں،وہ ہمیشہ زمین وآسمان میں آتا جاتا رہتا ہے،وہ زمین پراترتا ہے یعنی نزول کرتا ہے،اس نزول سے ہم جسمانی نزول مراد لیتے ہیں،جیسے بارش اترتی ہے،یہ اور اس طرح کی دیگر بہت سی غلط تصویریں ہمارے اذہان میں بیٹھی ہوئی ہیں۔بعض اوقات وہ بچپن کی تصویریں،جو اب بدل گئی ہیں،یاد آتی ہیں تو ان تصویروں پر بے ساختہ ہنسی آتی ہے۔ہم سب ایسے ہی ہیں،ہمارے اذہان میں بھی ایسی بہت سی بچگانہ تصویریں ہوں گی جو بدل کراب حقیقی ہوگئی ہیں لیکن کچھ شعبے ایسے ہیں جہاں ابھی تک بچگانہ تصویریں باقی ہیں۔اکثر معارف دین کے بارے میں ہمارا تصور ایسا ہی،ان میں سے ایک وحی اور نزولِ قرآن ہے۔نزول قرآن سے ہم یہ مراد لیتے ہیں جیسے بارش اترتی ہے،چھت سے کوئی فرش پر آتا ہے،آسمان سے جسمانی طور پر کوئی چیز زمین پر اترتی ہے،جبکہ نزول کا معنی یہ نہیں ہے۔خدا خود قرآن مجید میں فرمایا ہے؛
واذاسالک عبادی عنی فانی قریب؛
(سورہ بقرہ،آیت نمبر ۱۸۶)
”جب میرا بندہ میرے بارے میں پوچھے تو اسے بتاؤ کہ میں بہت قریب ہوں٬،
خدا وند تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا تمہارے دلوں کے حال بھی جانتا ہے،تماری سرگوشیاں بھی سنتا ہے تمہیں اونچا اونچا بولنے کی ضرورت نہیں،تم دل میں جو سوچتے ہو،تمارے سینوں میں جوپنہان ہے،وہ بھی الله کو معلوم ہے۔قریب ذات ہی ساری چیزوں سے آگاہ ہے۔
ان الله علیم،٬بذات الصدور
(سورہ آل عمران،آیت نمبر ۱۱۹)
،،بے شک اللہ دلوں کی پنہان باتیں بھی جانتا ہے؛؛۔
جو تم نے دلوں میں پنہان رکھا ہوا ہے اور اسے باہر نہیں نکالتے ہو،کبھی نکل ہی نہیں سکتیں،ہمیشہ اندر ہی رہیں گی،ان سے بھی خدا آگاہ ہے۔جب خدا اتنا علیم وبصیر اور آگاہ اور قریب ہے تو اسے انسان کو پیغام دنیے کیلئے ڈاک اور ڈاکیے کی ضرورت نہیں،خدا انسان سے دور نہیں ہے۔امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں؛
داخل فی اللاشیاء لابالممازجۃ،خارج عن اشیاء لا بالمبابه
خدا کو اس طرح سے پیش نہ کرو کہ انسان کو خدا اسے کاٹ دو اور خدا کو انسان سے کاٹ دو اور نہ خدا کو مخلوق سے اس طرح ملاؤ کہ خدا مخلوق میں مخلوط نظر آنے لگے۔خالق ومخلوق کا بہت گہرا اور قریبی رابطہ ہے،ہم خالق سے دور ہیں،ہمیں کہا گیا ہے کہ سفر قربی (نزدیک ہونے کا سفر) کرو،یہ سارے کام کرو تاکہ تم بھی اپنے پروردگار کے قریب ہو جاؤ جیسے وہ تمہارے قریب ہے۔

Tasawar Hussain

کی محمد سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح وقلم تیرے ہیں

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!