اسلامک

حضرت ابو بکر صدیق،حضرت عمر اور بیمار شخص کا واقع

حضرت ابو بکر صدیق اور بیمار شخص:-
حضرت ابو بکر صدیق کے وصال کے بعد حضرت عمر نے خلافت سنبھالی تو حضرت عمر کو حضرت ابو بکر کی ایک بات یاد آئی،کے ہر صبح حضرت ابو بکر صدیق بھیس بدل کر ایک برتن میں کچھ کھانے کی چیز لے کر کسی جگہ کی طرف چل دیتے اور ایسا ہر روز دہراتے۔حضرت عمر نے بھی بالکل ایسا ہی کیا اور اگلے دن صبح برتن میں کھانا لیا اور چل دیئے۔حضرت عمر بہت دیر بعد اس مقام پر پہنچ گئے جہاں حضرت ابو بکر صدیق روزآنہ جایا کرتے تھے۔اور وہاں کیا دیکھتے ھیں کہ ایک شخص ہے جس کے پورے جسم پر کسی قسم کی بیماری ہے،اور وہ کوئی کام کرنے کے قابل نہیں۔حضرت عمر یہ دیکھ کر حضرت ابو بکر صدیق کے اور بھی دیوانے ہو گئے کے کیسے حضرت ابو بکر نے ایک اجنبی شخص جو اپنے لیےکچھ کر بھی نہیں سکتا اس کا اتنا خیال رکھا۔اس کے بعد حضرت عمر نے ایک نوالہ بنایا اور اس شخص کو کھلایا۔
جس پر وہ شخص بولا کے تم کون ہو۔تم یقیناً ابو بکر نہیں ہو۔جس پر حضرت عمر نے حیرت کا اظہار کیا اور اس شخص سے پوچھا کے،اے شخص تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کے میں ابو بکر نہیں بلکہ کوئی اور ہوں۔تو اس شخص نے جواب دیا کہ مجھے کیسا نا پتہ چلتا حضرت ابو بکر صدیق روزآنہ میرے لیے کھانا لاتے تھے،میں کھانے کو چبا نہیں سکتا اس لیے وہ میرے لیے کھانے کو چباتے تھے،اور پھر مجھے اپنی زبان سے وہ چبایا ہوا کھانا کھلاتے تھے۔اس قدر اللّٰہ کی مخلوق سے محبت کرتے۔ اس کے بعد حضرت عمر نے اس شخص کا خیال رکھنے کی زمہ داری سنبھالی ۔
حضرت ابو بکر صدیق کی زندگی میں ہمارے لیے سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔لیکن کچھ شر پسند لوگ صرف شر پھیلانے کیلئے اور مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے کے لیے حضرت ابو بکر صدیق اور دیگر صحابہ کرام کی گستاخی کرتے ہیں۔تمام مسلمان مل کے بھی حضرت ابو بکر کی حضور کے ساتھ بتائے گئی غار میں ایک رات کے احسان کو بھی نہیں اُتار سکتے۔حضرت ابو بکر عرب میں صدیق کے لقب سے پکارے جاتے کیوں کے آپ نے کبھی صداقت کے دامن کو نہیں چھوڑا۔
حضرت ابو بکر صدیق کو حضرت محمد نے اسلام کا پہلا خلیفہ مقرر کیا جس زمہ داری کو آپ نے بھرپور طریقے سے سے انجام دیا اور اسلام کا نام دنیا میں سر بلند کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے،اور کامیاب بھی ہوئے۔مزید یہ کہ حضرت ابو بکر صدیق کے بارے میں جتنا بھی بیاں کیا جائے کم ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!