اسلامک

اپنی ساری کشتیاں جلانے والے طارق بن زیاد کا تاریخی خطبہ

عزم و ہمت کے پہاڑ طارق بن زیاد نے جب ساری کشتیاں جلا دیں تو ان کے لشکر کا دشمن سے وادئ لکہ کے مقام پر سامنا ہوا،  وہاں طارق بن زیاد نے ایک تاریخی خطبہ دیا
اس خطبے سے آپ کے عزم و حوصلے اور سرفروشی کے جذبات کا اندازہ ہوتا ہے
 طارق بن زیاد نے اپنے لشکر سے کہا لوگو تمہارے لیے بھاگنے کی جگہ ہی کہاں ہے تمہارے پیچھے سمندر اور آگے دشمن  لہٰذا خدا کی قسم تمہارے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ تم خدا کے ساتھ کئے گئے وعدے پر پورے اترو
اور صبر سے کام لو
اس جزیرے میں تم یتیموں سے زیادہ بے آسرا ہو  جو کسی کنجوس کے دسترخوان پر بیٹھے ہوں
دشمن تمہارے مقابلے کے لئے اپنا پورا الاؤ لشکر  اور اسلحہ لے کر آیا ہے  اس کے پاس وافر مقدار میں غذائی سامان بھی ہے اور تمہارے لیے تمہاری تلواروں کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں،تمہارے پاس کوئی غذائی سامان نہیں سوائے اس کے جو تم اپنے دشمن سے چھین سکو
اگر زیادہ وقت اسی حالت میں گزر گیا کہ تم فقر و فاقہ کی حالت میں رہے اور کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہ کرسکے تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی
اور ابھی تک تمہارا جو روب دلوں پر چھایا ہوا ہے ہے اس کے بدلے دشمن کے دل میں تمہارے خلاف جرات و جسارت پیدا ہو جائے گی
لہذا اس برے انجام کو اپنے آپ سے دور کرنے کے لیے ایک ہی راستہ ہے وہ یہ کہ تم پوری ثابت قدمی سے اس سرکش بادشاہ کا مقابلہ کرو،اگر تم اپنے آپ کو موت کے لیے تیار کرلو لو تو اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانا ممکن ہے
اور میں نے تمہیں کسی ایسے انجام سے نہیں ڈرایا جس سے میں خود بچا ہوا ہوں ،اور نہ میں تمہیں کسی ایسے کام پر آمادہ کر رہا ہوں جس میں سب سے سستی پونجی انسان کی جان ہوتی ہے،اور جس کا آغاز میں خود اپنے آپ سے نہ کر رہا ہوں
یاد رکھو اگر آج کی مشقت پر تم نے صبر کر لیا تو طویل مدت تک لذت و راحت سے لطف اندوز ہو گئے اللہ کی نصرت و حمایت  تمہارے ساتھ ہے
تمہارا یہ عمل دنیا اور آخرت دونوں میں تمہاری یادگار بنے گا اور یاد رکھو جس بات کی میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں اس پر پہلے لبیک کہنے والا میں خود ہوں
جب دونوں لشکر ٹکرائیں گے تو میرا یہ عزم ہے کہ میرا حملہ اس قوم کے سرکش ترین فرد راڈرک پر ہوگا اور میں
انشاء اللہ اسے اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا
تم میرے ساتھ حملہ کرو اگر میں راڈرک کی ہلاکت کے بعد ہلاک ہوا تو راڈرک کے فرض سے تمہیں سبکدوش کر چکا ہوں گا،اور تم میں ایسے بہادر اور ذی عقل افراد کی کمی نہیں جن کو تم اپنی سربراہی سونپ سکو،اگر میں راڈرک تک پہنچنے سے پہلے ہی کام آگیا تو میرے اس عزم کی تکمیل میں میری نیابت کرنا تمہارا فرض ہوگا
تم سب مل کر حملہ جاری رکھنا ، اور پورے جزیرے کی فتح کا غم کھانے کی بجائے اس ایک شخص کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لینا تمہارے لیے کافی ہوگا،کیونکہ دشمن اس کے بعد ہمت ہار بیٹھے گا
طارق  کےساتھی پہلے ہی شوق شہادت اور جذبہ جہاد سے سرشار تھے،طارق کے اس خطبے نے ان کے اندر ایک نئی روح پھونک دی،وہ وادی لکہ کے معرکے میں اپنے جسم و جان کو فراموش کرکے لڑے،یہ جنگ آٹھ دن متواتر جاری رہی کشتوں کے پشتے لگ گئے
اور بالآخر فتح مسلمانوں کا مقدر بنی راڈرک کا لشکر بری طرح پسپا ہوا اور خود راڈرک بھی اس تاریخی معرکہ میں کام آیا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button