اسلامک

اس تحریر کو پڑھنے کے بعد آپ زنا کا سو چے گے بھی نہیں؟

تمام حمد و ثنا اللہ رب العزت کے لیے ہے جو اس ساری کائنات کا خالق ،مالک اور ہر شے پر غالب ہے۔ تمام تر رحمتیں اور بر کتیں یوں سرور کونین آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر اور ان کی آل پر اور ان کے اصحاب پر کروڑوں درود و سلام پیارے آقا
صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر۔
آج میں اس موضوع کو تحریر کرتے ہوئے میں ذہنی کرب و اذیت کا شکار ہوں۔ زنا جیسے کبیرہ گناہ اس وقت سر زد ہوتے ہیں جب ہم اپنے دین سے انتہائی دور ہوتے ہیں، ہمارے اندر اس گناہ کی سزا کا کوئی خوف نہیں ہوتا ۔ زنا کے لغوی معنی ہیں، بدکاری، حرام کاری، اللہ کے نزدیک زنا ایک انتہائی قبیح قسم کا گناہ کبیرہ ہے، اور قانونی نقطہ نظر سے بھی قابل سزا جرم ہے ۔ قدیم زمانے سے لے کر آج تک ہر معاشرے میں زنا کو برائی اور گناہ ہی تصور کیا جاتا رہا ہے ۔ ارشاد باری تعالئ ہے : خبردار زنا کے قریب بھی نہ بھٹکنا کیونکہ وہ بہت بڑی بے حیائی ہے اور بہت بری راہ ہے ۔ لہذا عورتوں کا باریک اور نیم لباس ، جازب نظر اور شوخ لباس، گانے بجانے کا پیشہ اختیار کرنا سب فحاشی کے زمرے میں آتا ہے۔ زانی مرد ہو یا عورت ابتدا میں بحیثت مسلمان اس کا ضمیر ضرور ملامت کرتا لیکن کثرت گناہ کی وجہ اس کا ضمیر بھی مردہ ہو جاتا ہے ۔ آقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ و علیہ و سلم نے فرمایا ذنا سے بچو کہ اس میں چھ خصلتیں ہیں تین دنیا میں اور تین آخرت میں دنیا کی یہ ہیں 1۔ اس کے چہرے سے وجاہت چلی جاتی ہے 2۔ فقرومحتاجی لاتی ہے 3۔ اور عمر کو کم کر دیتی ہے اور آخرت میں 1۔ اللہ کی ناراضی ۔ 2۔ حساب کی سختی 3۔ دائمی جہنم کا موجب بناتی ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ۔ نوجوانو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو یعنی زنا نہ کرو

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!