ادب

سخی کون ہے?

سارہ دن کام کرنے کےبعد جب رات کو بستر پر لیٹتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ آج پورا دن کمایا کیا? لیا کیا? گنوایا کیا? اور خرچا کیا کیا? کیا ہم نے کبھی یہ سوچا آج دیا کیا? کیا کوئ خیر کا کام کیا کوئ ایسا کام جس کا کہیں کوئ اندراج نہیں.جسکا آپ کے سوا کسی کو پتا نہیں لیکن وہ دو جہانوں کو پالنے والا رب جانتا ہے کیا آپ نے کیا کیا کس کا بھلا کیا کس کی مشکل کو حل کیا کس کا سہارا بنے.
“کلوزنگ ود سنٹنس رومی کہتے ہیں
اصل سخی وہ ہے جو کسی کو دے کر خوش ہوتا ہے. جو کسی کو خوش کر کے خوش ہو تا ہے.جو کسی کی مدد کر کے سکون حاصل کرتا ہے. اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ تم نے مجھے اس قابل سمجھا کہ میں تمہاری مدد کر سکوں تمہارے کام آسکوں. اور میری اس مدد کو قبول کیا اور میرا بخل ختم کیا.اور تم نے میرے بخل کو سخاوت میں بدل دیا.
کیونکہ اگر کوئ شخص اپنے گھر پر کسی دربار پر یا کسی بازار میں کھانے کی دیگیں بھی پکا کر بیٹھ جاۓ اور کوئ کھانے والا نہ آۓ تو وہ کیڑے مکوڑں کے کام آتا ہے.
اگر کوئ شخص کسی زندہ انسان کی مدد نہ کر سکا تو وہ کس قسم کا سخی ہے کیونکہ مردہ شخص کو تو غریب بھی کندھا دینے آجاتا ہے.
الللہ تعالئ دل میں بخل رکھنے والوں سے سخت نفرت کر تا ہے پھر وہ چاہے راتوں کا عبادت گزار ہو. اور سخی انسان سے محبت کرتا ہے پھر وہ سارا دن غفلت میں گزار دے. اللہ تعالئ کبھی دل میں بخل رکھنے والوں سے دوستی نہیں لگاتا اور سخی انسان سے دوستی توڑتا نہیں ہے. کوئ بھی انسان پیسے سے سخی نہیں ہوتا دل سے سخی ہوتا ہے. دل کی کیفیت معنی رکھتی ہے.لہذا اپنا دل بڑا کیجیے.اور لوگوں کی مدد کرے کیونکہ الللہ پاک دینے والوں کو پسند کرتا ہے.
خدارا ابھی وقت ہے دیکھے اپنے آس پاس کو ن آپ کی مدد کے انتظا ر میں ہے. کس کے گھر کا چولا آپ کی مدد سے چل سکتا ہے.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!