ادب

یہ ہے کمٹ منٹ؟

میں بوڑھے ہیڈماسٹر کی باتیں کبھی بھلا نہیں پاؤں گا ۔عام طور پر 15 سال کی عمر میں آپ کو اپنے اساتذہ کی باتیں یاد نہیں رہتی ،لیکن یہ کہانی ایک ایسا سبق ہے ،جسے میں کبھی بھول نہیں پایا ۔میں جہاں بھی گیا ،یہ کہانی میرے ساتھ رہی۔وہ سوموار کا ایک عام سا دن تھا ،جب صبح کے اسمبلی میں ہیڈ ماسٹر طالبعلموں کو زندگی کی اہم باتوں کے متعلق بتا رہا تھا اور ان پر ڈٹے رہنے کا درس دے رہا تھا ۔یہاں سے کہانی کا آغاز ہوتا ہے ۔
لندن کے کسی علاقے میں ایک بوڑھا شخص رہتا تھا ۔وہ ہر روز صبح سویرے اٹھ کر سب وے جاتا ۔وسطی لندن جانے والی ٹرین پر سوار ہوتا اور گلی کے کونے میں بھیک مانگنے بیٹھ جاتا ۔زندگی بھر اس کا یہ معمول تھا اور تقریبا بیس سال سے وہ گلی کی اس جگہ بھیک مانگ رہا تھا ۔اس کا گھر بہت گندا تھا اور اندر سے آنے والی بدبو گردونواح کے لوگوں کو پریشان کرتی ۔ہمسایوں کے لیے مزید بدبو برداشت کرنا مشکل تھا ۔انہوں نے جگہ صاف کرنے کے لیے پولیس کو بلا بھیجا ۔پولیس نے دروازہ توڑ کر گھر کی صفائی کر دی ۔گھر میں ہر طرف روپوں کی تھیلیاں بکھری پڑی تھیں ،جو بوڑھے نے برسوں کی بھیک سے کمائی تھی ۔پولیس نے رقم گنی تو پتہ چلا ،بوڑھا شخص تو لاکھ پتی بن چکا ہے ۔
پولیس والے بوڑھے کو یہ خبر بتانے دروازے کے باہر اس کا انتظار کرنے لگے ۔جب وہ شام کو واپس لوٹا ، تو پولیس کے سربراہ نے اسے بتایا کہ اسے مزید بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں ۔وہاب لاکھ پتی بن چکا ہے ۔بوڑھا خاموش رہا ۔اس نے اندر جا کر دروازہ بند کر لیا ۔اگلی صبح وہ حسب معمول اٹھا ۔سب وے گیا ۔ٹرین میں سوار ہوا اور گلی کی نکڑ پر بیٹھ کر بھیک مانگنے لگ گیا ۔
مجھے یہ کہانی سن کر ہیڈ ماسٹر کی وہ باتیں یاد آتی ہیں کہ انسان کو جن چیزوں سے راحت محسوس ہوتی ہے اس کو اسی طرف توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔وہ فرماتے تھے ہم نے اپنے لائحہ عمل سے وفادار رہنا چاہیے اور لوگوں کی تمام تر نا پسندیدگی کے باوجود اپنی کمنٹمنٹ مضبوط رکھنے چاہیے ۔اور وہ یہ بھی فرماتے تھے کہ ہم اپنی تقدیر کے خود مالک ہیں ۔ہمیں کسی اور کو اپنی تقدیر لکھنے کی اجازت ہرگز نہیں دینی چاہیے ۔انسان کو چاہیے کہ وہ محنت کرے اور مستقل مزاجی سے کرے یقینا کامیابی اس کے قدم چومے گی ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!