اسلامک

بابری مسجد کے انہدام کی 28 ویں برسی

بابری مسجد کے انہدام کی 28 ویں برسی

ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کی 28 ویں برسی 6 دسمبر 2020 کو ہوئی۔  اس مسجد کے انہدام کے باعث ہندو اور مسلمانوں کے درمیان فسادات شروع ہوۓ۔ 6 دسمبر  ہندوستان کی سب سے متنازعہ تاریخ ہے۔ کیونکہ یہ دن بابری مسجد کے انہدام کی برسی کا دن ہے۔
نومبر 2019 کو سپریم کورٹ نے رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کی۔ جس کے بعد ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 5 اگست 2020 کو مندر کی بنیاد رکھی تھی۔

بابری مسجد کی تاریخ

بابری مسجد مغل ظہیر الدین بابر کے نام سے منسوب ہے۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کی بڑی مساجد میں سے ایک مسجد بابری مسجد تھی۔ اسے مغل سالار میر باقی نے تعمیر کروایا تھا۔ بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے سن 1483 عیسوی میں اپنے حکم سے دربار بابری سے منسلک ایک نامور شخصیت میر باقی کے۔ ذریعےاتر پردیش کے مقام ایودھیا میں تعمیر کروایا۔ یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار بھی تھی۔

بابری مسجد کا پس منظر

بابری مسجد کے تین گنبد تھے۔ جس میں درمیانی گنبد بڑا اور ساتھ والے دو گنبد  چھوٹے تھے۔اس مسجد کو پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا جبکہ صحن کو بھی پتھروں سے بنایا گیا۔ اور صحن میں ایک کنواں بھی بنایا گیا۔ گنبد کو چھوٹی اینٹوں سے بنایا گیا اور اس پر چونا لگایا گیا۔
مسجد کی چھت کو اونچا بنایا گیا تاکہ مسجد کو ٹھنڈا رکھا جا سکے۔ جالی دار کھڑکیاں بھی بنائی گئیں تاکہ مسجد ہوادار رہ سکے۔ اس کے علاوہ ایک خوبی یہ بھی تھی ۔کہ اگر کوئی شخص محراب میں کھڑے ہو کر سرگوشی کرتا تھا۔ تو مسجد کے کسی بھی کونے میں اسے سنا جا سکتا تھا۔
ہندووں کے مطابق مسجد ایسی جگہ تعمیر کی گئی تھی جہاں اس سے پہلے غیر اسلامی ڈھانچہ موجود تھا۔ مسجد کو 1992 عیسوی میں انتہا پسندوں ہندوؤں کے ہاتھوں شہید کیا گیا۔

بی جے پی اور ویشو ہندو پریشد کے اعلیٰ رہنما

سن 1980 عیسوی میں وشوا ہندو پریشد نے بھارتی جنتا پارٹی کے ہمراہ مل کر مہم شروع کی تھی۔ تاکہ رام پر وقف کردہ ایک ہیکل کی تعمیر کی جا سکے۔
دسمبر 1992ہزاروں ہندوکارسیکوں نے بی جے پی اور ویشو ہندو پریشد کے اعلیٰ رہنماؤں اور فوجی دستوں کے ہمراہ سینکڑوں مصلحے نوجوانوں کی موجودگی میں بابری مسجد کو منہدم کردیا۔ جس کے بعد دہلی اور ممبئی سمیت ہندوستان کے کئ علاقوں میں تقریبا 2 ہزار مسلمانوں کو ہندو فسادات میں مار دیا گیا۔

ہندوؤں کا پروپیگنڈا رام مندر

بابری مسجد ہندووں کے نظریے کے مطابق رام مندر پر تعمیر کی گئی۔ لیکن مسلمان اس بات کو مسترد کرتے ہیں۔ بابری مسجد کے انہدام کی وجہ سے آج بھی ہندو اور مسلمانوں میں سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ اور اس

کا مقدمہ آج بھی ہندو سپریم کورٹ کے زیر سماعت ہے۔
ہندوؤں کے پاس کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ بتائیں کہ انہوں نے مسجد کو کیوں منہدم کیا اس کے پیچھے صرف اور صرف ہندوؤں کا پروپیگنڈا تھا کہ انہوں نے کہا کہ یہ مسجد رام مندرکی جگہ تعمیر کی گئی ہے اس لئے منہدم کی گئی ہے۔ یہ صرف اور صرف ان کی انتہا پسندی اور شرپسندی ہے کہ انہوں نے یہ قدم اٹھایا۔
1949 میں مسجد کو بند کروا دیا گیا تھا۔ اور چالیس برس تک مسجد بند رہی۔ اور 6 دسمبر 1992 کو مسجد مسمار کر دی۔

سال2000 ویشو پریشد کی جانب سے رام مندر کی تعمیر نوکااعلان کیا گیا۔ جنوری 2002 میں وزیر اعظم باجپائی کے دفتر میں اودیا سیل کا قیام ہوا اور فروری 2002 میں بی جے پی کی جانب سے انتخابی منشور سے رام مندر کی تعمیر کی شرک خارج کر دی گئی۔
رام مندر کی تعمیر کیلئے 15 مارچ کو اعلان ہوا اور مارچ 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کے دو ہزار افراد کو شہید کر دیا گیا۔ 2003 میں ماہرین آثار قدیمہ کی جانب سے مندر کے شواہد کا اعلان کیا جس پر مسلمانوں نے اعتراض کیا اور جواب بھی دیا تھا۔

سات ہندو رہنماؤں پر مقدمہ

ستمبر 2003 میں اسی مسجد کے مسمار پر اکسانے والے سات ہندو رہنماؤں پر مقدمہ چلانے کا اعلان کیا گیا۔ اکتوبر 2003 میں مسلم تنظیموں کی جانب سے ماہرین آثار کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

بابری مسجد انہدام کی گیارہویں برسی

بابری مسجد انہدام کی گیارہویں برسی پر حیدرآباد دکن میں فسادات ہوئے جس میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ اوربابری مسجد کو ختم کرنے کی ابھی بھی مکمل کوشش کی جا رہی ہے لیکن ابھی بھی مسجد کے کچھ حصے ہندووں کے شر سے محفوظ  ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!