BIOGRAPHY

Hafiz Jalandri

حفیظ جالندھری

Hafeez Jalandhar

Hafeez Jalandhar was born in 1900 in the city of Punjab. The original name was Mohammad Hafeez. The initial education was obtained from early education and later came to Lahore

He could not continue his education due to financial constraints. His inclination was towards poetry from his childhood. His hidden talents were developed by the discipleship of Maulana Ghulam Qadir Grami. His companionship further ignited the art of Hafeez Jalandhari Bakhshi. He made a name for himself through his hard work and teacher training. Maulana Grami was very proud of him. He was associated with various journalism institutes and was also associated with All India Radio.

Hafiz Jalandari’s largest career is the creation of Pakistan’s national tragedy. He wrote beautiful national anthems for Pakistan. Apart from this, he said, “O Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him), the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) Titled titled

That is why he is remembered by the name of ‘Ferdowsi Islam’. He was a poet by nature. His poetry contains songs and music. Ghazals are full of sobs and sighs. Effective and sweet words are the essence of his poetry.

حفیظ جالندھری

حفیظ جالندھری مشرقی پنجاب کے شہر جالندھر میں 1900 پیدا ہوئے۔حفیظ جالندھری کا اصل نام محمد حفیظ تھا ۔حفیظ تخلص اور ابوالاثر کنیت تھی ابتدائی تعلیم جالندھر سے حاصل کی اور بعد میں لاہور چلے آئے

معاش کی تنگی کی وجہ سے مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکے ۔ان کا میلان بچپن ہی سے شاعری کی طرف تھا ۔مولانا غلام قادر گرامی کی شاگردی سے ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ترقی ملی ۔ان کی صحبت نے حفیظ جالندھری کے فن کو مزید جلا بخشی۔انہوں نے محنت اور استاد کی تربیت سے بڑا نام کمایا ۔مولانا گرامی کو ان پر بڑا فخر تھا ۔وہ مختلف صحافتی اداروں سے منسلک رہے اور آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستہ رہے ۔

حفیظ جالندھری کا سب سے بڑا کارنامہ پاکستان کا قومی ترانہ کی تخلیق ہے۔انہوں نے پاکستان کے لئے خوبصورت قومی ترانے لکھا ۔اس کے علاوہ انہوں نے رسول پاک حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ خاتم النبیین کے حیات طیبہ کو ،،شاہنامہ اسلام،، کے عنوان سے منظوم کیا ۔اس طرح انہوں نے اسلام کی ابتدائی تاریخ کو موثر انداز سے پیش کرکے امت مسلمہ کی خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

اس لیے انہیں ،،فردوسی اسلام،، کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔وہ بالطبع شاعر تھے۔ان کی شاعری میں ترنم اور موسیقیت پائی جاتی ہے ۔وہ اپنی شاعری کے ذریعے پورا منظر قاری کے سامنے لے کے آتے ہیں ۔ان کی غزلوں میں سوز و گداز اور کسک پائی جاتی ہے ۔تاثیر اور شیرینی کلام ان کی شاعری کی جوہر ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button