کھیل

کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی حقیقت یا دیوانے کا خواب

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے آج ایک ٹویٹ کی جس میں انہوں نے کہا کہ پی سی بی 2023 سے 2031 کے درمیان ہونے والے 8 انٹرنیشنل کرکٹ ایونٹ کی میزبانی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا اور اس سلسلے میں ہم اپنا پورٹ فولیو بنا رہے ہیں اور ایک طاقتور بولی دیں گے جس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر شائقین کرکٹ نے بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق رائے دینی شروع کر دی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کسی بڑے آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا یا یہ ایک دیوانے کا خواب ہی ہے.

قارئین 2023 کے بعد 2 ون ڈے ورلڈ کپ ہوں گے ٹی ٹونٹی کے ورلڈ کپ اسی طرح وومن کے بھی ایونٹ ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ اگر پاکستان کو 2027 یا 2031 کے ون ڈے ورلڈ کپ کی میزبانی مل جائے کیونکہ اس سے ملک میں کاروبار کے مواقع پیدا ہوں گے پاکستان کی سیاحت کو بھی فروغ ملے گا سیکورٹی صورتحال پر بھی اعتماد بڑھے گا مگر کیا ہم ون ڈے ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے تیار ہیں؟ اگر غیر جانبداری سے اسکا جائزہ لیا جائے تو اس کا جواب ہے کہ نہیں.

ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل کرنے کے لیے دیگر بورڈز کی حمایت درکار ہو گی جو کہ انڈیا جیسے مخالف ملک اور بگ تھری جیسے ممالک سے حاصل کرنا مشکل ہے کیونکہ اگر سیکورٹی پر وہ مطمئن ہو بھی جائیں تو سہولیات کے فقدان کا جواز پیش کیا جائے گا انتظامی معاملات کا بہانہ بنایا جائے گا ایک روزہ عالمی کپ کی میزبانی کے لیے کم از کم دس انٹرنیشنل سطح کے گراؤنڈ چاہیے اور پاکستان کے پاس موجود گراونڈز میں سے صرف 5 میدان اس قابل ہیں جن میں ڈے اینڈ نائٹ میچ کی سہولت ہے اور اگر باقی سہولیات کا جائزہ لیں تو فیصل آباد اور راولپنڈی کے کرکٹ گراؤنڈ میں باقی سہولتوں کا کافی فقدان ہے ڈریسنگ رومز میڈیا باکس اور دیگر ضروریات کے ساتھ ساتھ شائقین کی گنجائش بھی کم ہے اور گراونڈز میں چھت بھی نہیں ہے سہولیات اور گنجائش کے حوالے سے کراچی لاہور اور ملتان کے میدان قدرے بہتر ہیں.

اس کے علاوہ پشاور میں دو عالمی معیار کے گراؤنڈز زیر تعمیر ہیں وہ کب تک مکمل ہوتے ہیں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا اس کے علاوہ راولپنڈی میں بھی دنیا کا ایک سب سے بڑا گراؤنڈ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے کہ جس میں ڈیڑھ لاکھ افراد کی گنجائش ہو گی مگر ابھی تک بات اعلان سے آگے نہیں بڑھ سکی اگر پی سی بی واقعی کسی بڑے ایونٹ کی میزبانی کے لیے سنجیدہ ہے تو کم از کم دس عالمی معیار کے میدانوں کا پیپر ورک کرے کام شروع کروائے تا کہ جب بولی لگے تو پی سی بی کی بولی کو باقی ممالک سنجیدہ لیں وہ تبھی ممکن ہے جب عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے وگرنہ بات کرنے سے سوشل میڈیا پر واہ واہ سمیٹ لیں گے مگر میزبانی مشکل ہے

ہاں البتہ مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی بولی کے لیے سنجیدگی سے غور کریں تو اس کے امکانات بڑھ سکتے ہیں کیونکہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے لیے تین سے چار عالمی معیار کے میدان بھی کافی ہیں تھوڑی بہت موجود گراؤنڈز کی حالت بہتر کر کے اور ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے. اگر دیکھا جائے تو مالی لحاظ سے تو فائدہ مردوں کے ہی ایک روزہ یا ٹی ٹونٹی عالمی کپ کی میزبانی سے ہی حاصل ہو گا باقی خواتین یا انڈر 19 جیسے ایونٹ کی میزبانی سے کوئی خاص مالی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ گورے دیسوں میں بھی مردوں کے مقابلے سے ہی زیادہ ریونیو حاصل ہوتا ہے.

پی سی بی کا میزبانی کی بولی میں شامل ہونا یقیناً ایک خوش آئند امر ہے مگر عملی طور پر نئے میدانوں کی تعمیر اور پرانے میدانوں کی تزئین و آرائش اور دیگر عالمی معیار کی سہولیات کی فراہمی کی اشد ضرورت ہے وگرنہ آخری دفعہ 1996 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں لاہور کے قذافی سٹیڈیم کی لائٹس ٹرپ کر گئیں تھیں جو کہ ایک عالمی سطح کی شرمندگی کا باعث بنا تھا اس لیے میزبانی حاصل کریں تو کوشش کریں کے عالمی سطح پر عزت کمائیں ورنہ شرمندگی سے بہتر ہے کہ نہ ہی کریں مشہور ضرب المثل ہے کہ برے رونے سے بہتر ہے کہ بندہ چپ رہے میزبانی لینی ہے تو دن رات ایک کریں کام کریں ورنہ چپ بھلی.

اعجاز یات

میں پاکستان کی اور عالم اسلام کی سیاسی اور جنگی تاریخ پہ لکھتا ہوں اس کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ قومی اور بین الاقوامی مسائل اور کھیلوں کے متعلق لکھتا ہوں

4 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
نوٹ: اگر آپ اپنی پروڈکٹس،سروسز یا آفرزکا مفت اشتہار لگوانا چاہتے ہیں تو نیوزفلیکس ٹیم، عوام تک آپ کا پیغام پہنچانےکا موقع فراہم کر رہی ہے. شکریہ_ اپنا پیغام یہاں لکھیں
error: Content is protected !!

Adblocker Detected

Note: Turn Off the AdBlocker For this Site