اسلامک

حضرت داؤد علیہ السلام کی حالات زندگی

حضرت داؤد علیہ السلام اللہ تعالی کے برگزیدہ نبی اور پیغمبر ہے حضرت آدم علیہ السلام کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کو قرآن مجید نے خلیفہ کے لقب سے نوازا ارشاد باری تعالی ہے اے داؤد ہم نے تم کو زمین پر خلیفہ بنا دیا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو-کتاب زبور حضرت داوود علیہ السلام پر نازل ہوئی آپ علیہ السلام پیغمبر ہونے کے ساتھ ساتھ بادشاہ بھی تھے حالانکہ بنی اسرائیل میں جتنے بھی نبی آئے ان کا تعلق لاوی بن یعقوب سے تھا جبکہ بادشاہت دوسرے خاندان یہودا بن یعقوب میں سے تھی

جبکہ اللہ تعالی نے دونوں اعزازات سے نوازا جب آپ علیہ السلام تلاوت فرماتے تو چرند پرند پہاڑ جن و انس سمندر وغیرہ آپ علیہ السلام کی سحر انگیز آواز سے مسحور ہوکر سب اللہ کی حمد و ثنا میں محو ہو جاتے اللہ تعالی نے اس کو دوسرا معجزہ یہ بھی فرمایا کہ لوہے کو ان کے لئے نرم فرمایا وہ آگ کے بغیر اپنے ہاتھوں سے لوہے کو موڑ لیا کرتے نوجوانی میں آپ علیہ السلام طالوت کے فوج میں شامل تھے اور آپ علیہ السلام کو کم عمری کی وجہ سے اسلحہ نہ دیا گیا بلکہ ایک غلیل دی گئی تھی جس سے انہوں نے جالوت بادشاہ کو پتھر مار کر قتل کیا تھا بادشاہ کو زمین پر گرتے ہیں دشمن کی فوج بھاگ گئی قرآن مجید میں ارشاد ہے داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کر ڈالا اور اللہ نے اسے بادشاہی اور دانائی بخشی آپ علیہ السلام خلافت کے زمانے میں بھیس بدل کر بازاروں میں جاتے اور اپنی رعایا سے پوچھتے کہ داؤد علیہ السلام کیسےآدمی ہےسب اس کی تعریف کرتے کیوں کہ آپ علیہ السلام کی دور خلافت میں لوگ بہت آرام اور سکون سے رہتے تھے ایک دفعہ ایک فرشتہ انسانی شکل میں ظاہر ہوا آپ نے اس سے بھی یہی سوال پوچھا جس نے جواب میں فرشتے نے جواب دیا

کے داؤد علیہ السلام بہت اچھے آدمی ہیں مگر اس میں ایک عادت ایسی بھی ہے کہ اگر وہ نہ ہوتی تو کامل انسان ہوتے آپ علیہ السلام نے پوچھا وہ کیا عادت ہےفرشتے نے جواب دیا کہ وہ یہ ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کے لئے خرچ بیت المال میں سے لیتے ہیں یہ سن کر آپ علیہ السلام نے دعا فرمائی اے اللہ مجھے کوئی ایسا ہنر سکھا دیں جو میں اپنے ہاتھوں سے کروں اپنے خاندان کے اخراجات پورے کر سکوں ان کی دعا قبول ہوئی اور آپ علیہ السلام کو اللہ نے ذرا بنانے کا ہنر سکھا دیا اللہ کو سب سے زیادہ محبوب نماز اور محبوب روزے حضرت داؤد علیہ السلام کی تھی آپ علیہ السلام نصف رات تک سوتے اور باقی رات کا تہائی حصہ میں عبادت میں کھڑے ہوتے ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں ہفتے کا دن صرف عبادت کے لیے مخصوص تھا اور اس دن شکار سمیت ہر دنیاوی کام ممنوع تھا لیکن مچھلی کے شوقین لوگوں نے اس کی نافرمانی کی اس پر اللہ نے انکی شکلوں کو مسخ کر دیا پھر تین دن بعد سب مر گئے سو سال کی عمر میں آپ علیہ السلام وفات پا گئے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button