اسلامک

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا

۔ ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا

ام المومنین حضرت عائشہ سے متعلق چیدہ چیدہ معلومات

نام عائشہ
لقب. صدیقہ اور حمیرا
کنیت .ام عبد اللہ
قریش کے خاندان بنوں تیمم سے تھیں-

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کا سلسلہ نسب

  
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوئی.والدہ کا نام ام رومان رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ صدیقہ کا زمانہ طفولیت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ جیسے جلیل القدر باپ کے زیر سایہ بسر ہوا- وہ بچپن ہی سے بہت ذہین تھی اپنے بچپن کی تمام باتیں انہیں یاد تھی- کہا جاتا ہے کہ کسی دوسرے صحابی یا صحابہ کی یاداشت اتنی اچھی نہ تھی-

 

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کا بچپن

بچپن میں ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ گڑیوں سے کھیل رہی تھیں۔  کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے- عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی گڑیوں میں ایک پروں والا گھوڑا بھی تھا– حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “گھوڑے کے تو پر نہیں ہوتے”-

انہوں نے بے ساختہ کہا۔ کیوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑوں کے تو پر تھے-حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر تبسم فرمایا-

نکاح

رسول ﷺ کے نکاح میں آنے سے پہلے حضرت عائشہ  کی نسبت جبیر بن معطم کے بیٹے سے ہوئی تھی ۔ مگر ان لوگوں نے یہ نسبت اس لیے ختم کردی کہ حضرت ابوبکر صدیق  اوران کے اہل خانہ مسلمان ہو چکے تھے- اس کے بعد خولہ  بنت حکیم کی تحریک پرحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر صدیق  کو حضرت عائشہ کیلئے پیغام بھیجا-

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ رسول کریم ﷺ کے منہ بولے بھائی تھے-خولہ رضی اللہ تعالی عنہ تعجب سے پوچھا” کیا بھائیوں کی اولاد سے نکاح جائز ہے”- تو آپ ﷺ نے ارشادفرمایا- دین کے لحاظ سےابو بکر رضی اللہ عنہ بھائی ہیں-

حضرت ابو بکر صدیق کی رضا مندی

 صدیق اکبر کے لیے اس سے بڑی کونسی بات تھی۔  کہ ان کی بیٹی رحمت اللعالمین ﷺ کے نکاح میں آئے- فورٰا راضی ہو گئے- چنانچہ چھے سال کی عمر میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ہجرت سےتین سال قبل رسول کریم ﷺ کے نکاح میں آ گئیں- حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خود نکاح پڑھایا- ان کا 5 سو در ہم حق مہر مقرر ہوا۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح کی بشارت حضور ﷺ کو خواب میں ہوچکی تھی- آپ ﷺ  نے خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص کوئی چیز آپ ﷺ کو دکھا رہا ہے- اور کہتا ہے” یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھولا تو حضرت عائشہ تھی-

نکاح انتہائی سادگی سے

آپ  رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح انتہائی سادگی سے ہوا ۔وہ فرماتی تھیں.” جب رسول اللہ ﷺ سے نکاح فرمایا تھا ۔میں اپنے ہم جولیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی- مجھے اس نکاح کا حال تک معلوم نہ ہوا۔ یہاں تک کہ میری والدہ نے مجھے گھر سے باہر نکلنے سے منع کر دیا”-

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ پیدائشی مسلمان تھیں ان سےروایت ہے کہ” میں نے اپنے والدین کو پہچانا تو انھیں مسلمان پایا”-
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزے ازل سے کفر و شرک کا سایہ تک نہ پڑا۔

 

ہجرت

سن13بعثت میں رحمت عالم ﷺ حضرت ابوبکر صدیق کی معیت میں ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے- مدینہ پہنچ کر سرور کائناتﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق  ،حضرت علی ، ابورافع رضی اللہ تعالٰی عنہ او ر عبداللہ بن اریقط کو اپنے اہل و عیال لانے کے لئےمکہ بھیجا۔ واپسی پر حجرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ حضرت فاطمۃ الزہرا حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا، حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا، امّ ا یمن رضی تعالیٰ عنہا اور اسامہ بن زید  تھے۔

اور عبداللہ بن اریقط کے ہمراہ عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ، ام رومان رضی اللہ عنہ، عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہااور اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہاتھی۔
مدینہ پہنچ کرحضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہامحلہ حارث بن خزرج میں اپنے والد محترم کے گھر اتری۔ مدینہ کی آب و ہوا شروع شروع میں مہاجرین کو موافق نہ آئی، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سخت بیمار ہو گئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نہایت ذمہ داری سے ان کی تیما رداری کی۔ جب وہ صحت یاب ہوئے تو خود بیمار ہوگئیں۔

مرض کی شدت

مرض کا حملہ اتنا شدید تھا کہ سر کے بال گر گئے تاہم جان بچ گئی۔ جلد صحت بحال ہوئی تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا
“یارسول اللہ ﷺحضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکو آپ رخصت کیوں نہیں کرا لیتے-”
فرمایا، میرے پاس مہر نہیں ہے”۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے پاس سے 500 درہم حضور ﷺ کی خدمت میں بطور قرض حسنہ پیش کیے۔ جو آپﷺ نے قبول فرمائے ۔ اور وہی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بھیج کر انہیں شوال سن 1حجری میں رخصت کرا لیا۔ اس وقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر نو سال کی تھی ۔ بعض جدید سیرت نگار اس طرف گئے ہیں ۔ کہ رخصتی کے وقت ان کی عمر سترہ برس کے لگ بھگ تھی۔

واقعہ تحریم

سرور عالم ﷺ کا معمول تھا کہ سفر کی نماز کے بعد ازواج مطہرات  کے پاس تھوڑی دیر کے لئے تشریف لے جاتے۔  ایک دفعہ حضرت زینب کے پاس زیادہ دیر ہوگئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو رشک ہوا۔ انہوں نے تجسس کیا تو معلوم ہوا کہ حضور ﷺ نے حضرت زینب کے ہاں شہدکھایا ہے۔  جوانھیں کسی نے تحفے کے طور پر بھیجا تھا۔

حضرت عائشہ  نے حضرت حفضہ سے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ ہمارے اورتمھارے گھرتشریف لائیں تو کہنا۔  : کیا آپ نے مغافیر کا شہد کھایا ہے (یہ ایک پھول ہوتا ہے جیسے شہد کی مکھی چوستی ہے اس میں کتنی قدرے بو ہوتی ہے اورآقائے دو جہاں کوبوہر طرح کی ناپسند تھی۔

آپﷺ کی حضرت عائشہ کے گھر آمد

جب حضور ﷺ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں تشریف لائے۔  تو یہی سوال جواب ہوئے اور پھر جب حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہااور عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی یہی گفتگو فرمائی۔  تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت مبارک میں تکدر پیدا ہوا۔

چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے حجرہ مبارک میں دوبارہ گئے اور انہوں نے معمول کےمطابق شہد پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہد نہ کھانے کی قسم کھا لی۔ اس پر آیت نازل ہوئی-جسکا مفہوم یہ ہےکہ جو چیز اللہ تعالٰی نے آپﷺپر حلال کی ہے، آپﷺاپنی بیویوں کے کہنے پر حرام کیوں کر رہے ہیں۔

 

آپﷺکی وفات:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاکی شادی کے 9 سال بعدآقائے دو جہاں ﷺ تیرہ دن علیل رہے۔ 9یا 12 ربیع الاول کو سن11 کو سرور کونینﷺ نےروح اطہرنے عالم اقدس کی طرف پرواز کی۔ اس وقت حضور ﷺ کا سرمبارک حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کےسینےمبارک پر رکھا ہوا تھا۔پھر انھیں کا حجرہ مبارک کوحضور ﷺ کے آرام گا ہ بننے کا شرف حاصل ہوا۔

رحلت نبی اکرم ﷺ کے وقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر 18 برس تھی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے ۔ کہ آپ  رضی اللہ تعالی عنہا سےعقلمند،ذہین اور بلیغ کسی کونہیں دیکھا۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کا اخلاق

اخلاق کے لحاظ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کامقام لوگوں میں بہت بلند تھا۔ وہ بے حد فیاض، مہمان نواز تھیں۔ ایک بار عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک لاکھ درہم بھیجے۔  انہوں نے اسی وقت غریبوں میں تقسیم کردئیں۔۔ اس دن روزے سے تھی شام ہوئی تو خادمہ نے کہا ۔ ” امیرالمومنین” کیا اچھاہوتا ۔ آپ نے اس رقم سے کچھ گوشت کی افطار کے لئے خرید لیا ہو تا فرمایا” تم نے یاد دلایا ہوتا”۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی کوئی اولاد نہ تھی۔انہوں نےسرورعالمﷺ کےارشاد کے مطابق اپنی کنیت “ام عبداللہ”  رکھی تھی۔

وفات

رمضان سن 58 ہجری میں محسنہ امت بیمار ہوئی ۔ چند روز کی علالت کے بعد 17 رمضان ( 13 جون سن678)کو نماز وتر کے بعد شب کو وفات پائی۔ نماز جنازہ حضرت ابو ہریرہ نے پڑھائی اور وصیت کے مطابق جنت البقیع میں مدفون ہوئیں۔انکے انتقال کی خبر سے تمام عالم اسلام میں صف ماتم بچھ گئی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button