ادب

لیڈر (قائد) اور تاریحی واقعات کا غلط استعمال

لیڈر (قائد) ایک ایسی شحصیت ہوتی ہے جسکو اپنے لوگوں کو ایک مقصد کے لیۓ یکجاکرنےاورانکاجذبہ اُبھارنےکی خداداد صلاحیتیں عطا کی گئی ہوتی ہیں- ایک قائد کو اپنے لوگوں اور اُن کے جزبات کا بخوبی پتہ ہوتا ہے- وہ یہ جانتا ہے کہ اِن کو کس طرح کسی کام پر اُبھارنا ہے اور اپنی قوم کی قوتوں کو کیسے بروۓکار لانا ہے- ایک قوم کئی افراد پر مشتمل ہوتی ہےلیکن یہ ممکن نہیں کہ ہر فرد میں یہ صلاحیتیں موجود ہوں- لوگ اکثر کسی اعلیٰ شخصیت یا قائد کے تاریخی واقعات سن کر خود بھی کوشش کرتے ہیں کہ شاید اسی طرح عمل کر کے وہ بھی لیڈر بن جائیں گے یا اُس شخصیت کے برابر آ جائیں گے- لیکن یہ کرتے ہوۓ وہ بہت چیزوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جن کا اثر لوگوں پر اُلٹا ظاہر ہوتا ہے- آج ہم اِسی پر بات کریں گے کہ کسطرح اس حداداد صفت اورصلاحیت قائد اور تاریخی واقعات کا غلط استعمال کیا جاتا ہے- جبکہ یہ ایک قائد ہی اچھی طرح جانتا ہے-

ہم نے یہ واقعہ اکثر سنا ہوا ہے کہ ایک استاد اپنے ایک لاپروہ شاگرد کو کہتا ہے کہ “آپ کبھی امتحان میں پاس نہیں ہو سکتے” لیکن وہ طالبعلم نہ صرف پاس ہوتا ہے بلکہ اوّل پوزیشن بھی ھاصل کرتا ہے- اب اسی واقعہ کو سننے کے بعد اکثر اساتذہ اپنے شاگردوں کی صلاحیت اور فطرت کو سمجھے بغیریہی بات اُن سے کہہ دیتے ہیں کہ شائد یہ بھی کامیاب ہو جائیں لیکن یہ بات اُن پر منفی اثرانداز ہوتی ہے- خدا نے ہر انسان کو مختلف اور منفرد صلاحیتیں عطا کی ہوتی ہیں- اِنہیں صلاحیتوں کا ایک قائد کو اچھی طرح پتہ ہوتا ہے- اِسی طرح ہر انسان کی ایک بات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی الگ ہوتی ہے- کوئی اسطرح کی بات کو چیلنج سمجھ کر لیتا ہے اور کامیاب ہو جاتا ہے- لیکن دوسرا انسان جسکی فطرت الگ ہوتی ہے وہ اِس سے دل برداشتہ ہو جاتا ہے اور سوچنے لگ جاتا ہے کہ شاید وہ اس کام کے قابل ہی نہیں ہے- لیکن سچ تو یہ ہے کہ اُس اُستاد نے اپنے شاگرد کی فطرت کو صحیح سمجھا ہی نہیں- وہ بس ایک تاریخی واقعہ کو دہرا کر خود کو لیڈر ثابت کرنا چاہتا ہے- یہ واقعات ہم میں سے اکثر کےساتھ پیش آۓ ہوتے ھیں- اِنکا سامنا میں نے بھی کیا ہے-

یہیں پر دورِ حاظر کے ایک لیڈر کی مثال دیتے ہوۓ میں انظمام الحق کا ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ جب وہ ایک میچ میں جلد آؤٹ ہو گۓ اور جب واپس کمرے میں پہنچے تو کپتان عمران خان نے جنہیں خدا نے قائد کی صلاحیتیں عطا کی ہوئی ہیں، اُن سے یہ نہیں کہا کہ آپ تو کرکٹ ہی نہیں کھیل سکتے- اِسکے بجاۓ اُنہوں نے اِنظمام کی صلاحیتوں اور فطرت کا صحیح اندازہ کرتے ہوۓ یہ کہا کہ آپنے وہ جو ایک چوکا لگایا تھا وہ بہت زبردست تھا- اِنظمام خود کہتے ہیں کہ عمران کی اس بات نے اُنکا دل بہت بڑا کر دیا اور اگلے تمام میچوں میں اُنہوں نے بہت عمدہ کارکردگی دِکھائی جو کہ اسی بات کا نتیجہ تھا- لہذاٰ اِس تحریر کا حاصل یہی ہے کہ ہمیں کسی کی فطرت کو سمجھے بغیر کوئی ایسا جملہ نہیں کہہ دینا چاہیۓ جو کہ اُسکی صلاحیتوں کیلیۓ زہرِ قاتل ثابت ہو- اور تاریخ کے واقعات سن کر اور اِنکی گہرائی کو جانے بغیر خود کو لیڈر ثابت کرنے کے لیۓ اِنکو بروۓ کار نہیں لانا چاہیۓ تاکہ ہم ایک دوسرے کو تکلیف پہنچانے کا باعث نہ بنیں-

Muhammad Irfan Yasin

My name is Muhammad Irfan Yasin. I'm an electrical engineer. I have done my graduation from Institute of Space Technology, Islamabad. Other than this I am very fond of writing.

4 Comments

  1. اچھا لِکھا گیا ہے- ہمیں کسی کی دل آزاری نہیں کرنی چاہیے- اور دوسروں کے جزبات کو سمجھنا چاہیے-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button
نوٹ: اگر آپ اپنی پروڈکٹس،سروسز یا آفرزکا مفت اشتہار لگوانا چاہتے ہیں تو نیوزفلیکس ٹیم، عوام تک آپ کا پیغام پہنچانےکا موقع فراہم کر رہی ہے. شکریہ_ اپنا پیغام یہاں لکھیں
error: Content is protected !!

Adblocker Detected

Note: Turn Off the AdBlocker For this Site