تعلیم

پاکستان کا تعلیمی نظام اور ڈگری ہولڈرز بے روزگاروں کا طوفان

پاکستان کا تعلیمی نظام اور ڈگری ہولڈرز کا بے روزگاروں کا طوفان اخر وجوہات کیا ہے کہ ہمارے نوجوان کو اسکی تعلیم کے باوجود روزگار نہیں مل پاتا اور وہ دربدر ٹھوکریں کھا ہے؟
پاکستان جوکہ پسماندہ ممالک میں شمار ہوتا ہے تو عرشوں پہلے یہاں گنتی کی سرکاری یونیورسٹی تھی۔ جہاں تک دور دراز کے طلباء کا پہچنا اور وہاں کے حالات سے باخبر رہنا مشکل تھا اسلئے کچھ لوگوں تک ہی اعلیٰ تعلیم مخصوص ہوتی تھی جبکہ اکثر مقامی تعلیمی نظام کے مطابق تھوڑا بہت پڑھ پاتے تھے۔
وقت کے ساتھ حکومتوں اور لوگوں نے تعلیم کی اہمیت و افادیت کو محسوس کیا اور اعلی تعلیم کے راستے ہموار ہوئے۔ گویا اب بھی تعلیم کے مواقع فراہم کرنے میں بہت کام کرنا باقی ہے اور دور دراز کے طلباء کو بہت سے اعلیٰ تعلیم کے لئے بہت سے مسائل درپیش ہیں۔
مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایا ہمارے جوان جو اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکے وہ پاکستان میں تعلیمی نظام اور ڈگری ہولڈرز بے روزگاروں کا طوفان میں کیسے جکڑ چکے اسکی بہت سی وجوہات ہے۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ موجودہ جوان گزرے کل کے جوان سے زیادہ باشعور پے مگر وہ گزرے کل کے نوجوان جتنا باعمل نہیں ہے۔ ہمارا جوان پڑھ لکھ تو گیا ہے مگر ہماری تعلیم نظام میں اتنی استعداد نہیں کہ اسکو کتابوں کے سوا عمل کے میدان کا راستہ دکھا سکے۔ اسکا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کتاب ہمیں کچھ نہیں سکھاتا بلکہ کتاب ہی تو ہمیں بنیادی سوچ فراہم کرتی ہے اب اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے لیب پریکٹس اور عملی میدان فراہم کرنے میں ہمارے ادارے مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ اس لئے صاحب استطاعت اپنے مالی استطاعت کے مطابق اور غیر معمولی قابل طلباء کو غیر ملکی وظائف پر بیرون ملک تعلیم کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ایک لمبی اور غور طلب بحث ہے۔
تو جہاں تک بات ہے پاکستان کا تعلیمی نظام اور ڈگری ہولڈرز بے روزگاروں کا طوفان کی بات کی جائے تو ہم سے اپنے موجودہ وسائل اور اقربا پرور نظام میں جن طلباء کو زیور تعلیم سے اشنا کردیا ہے اول تو وہ اپنی تعلیم کے مطابق اہلیت نہیں رکھتے اور پاکستان میں میں انٹرنشپ کا تصور تو سرکاری اداروں میں برائے نام ہے۔ اور جہاں تک بات ہو مواقعوں کی تو پاکستان میں سرکاری سیکٹر میں مواقعوں کا قوی فقدان ہے اور سرکاری ادارے میں ملازمت کی اہلیت کوائف آپکے پاس ڈگری کے ساتھ تجربہ ضروری ہے۔
ایسے حالات میں نوجوان اپنی تعلیم کے لحاظ کم ملازمت پر مجبور ہو جاتے کہ کیونکہ گھریلوں اور دیگر اخراجات انکو مجبور کرتے ہیں کہ وہ خود کو کہی ایڈجسٹ کر لے۔

Akbar

Life Is Too Short Even To Full Smile

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
نوٹ: اگر آپ اپنی پروڈکٹس،سروسز یا آفرزکا مفت اشتہار لگوانا چاہتے ہیں تو نیوزفلیکس ٹیم، عوام تک آپ کا پیغام پہنچانےکا موقع فراہم کر رہی ہے. شکریہ_ اپنا پیغام یہاں لکھیں
error: Content is protected !!

Adblocker Detected

Note: Turn Off the AdBlocker For this Site