ادب

شکر گذار بنو اور خوش رہو

شکر گذار بنو اور خوش رہو
اسلام و علیکم معزز خواتین اور حضرات

جوں جوں وقت گذرتا جارہا انسان کی زندگی بہت مصروف ہوتی جارہی،خوشیاں ختم ہورہی، مایوسی بڑھتی جا رہی، لوگ مطلبی بن رے،دوست دشمن میں بدل رے،اپنے غیر بن گئے ہیں، اگر کچھ نہیں بدلا تو وہ اللّٰهَ سبحان و تعالٰی کی ذات ہے، اگر کچھ نہیں بدلا تو اللّٰهَ تعالیٰ کا پیار، جو انسانوں کے اتنے گناہوں کے بعد بھی انسانوں کے لیے نہیں بدلا. اللہ پاک کی نعمتیں اور رحمتیں ہے جو انسانوں کے لیے ہمیشہ کی طرح ایسی رہی جیسا وہ خواہش کرتا ہے. خدا کی تعریفیں کیا بیان کی جائیں، قلم بھی ٹوٹ جائے گا اللّٰهَ کی رحمتوں اور نعمتوں کے بارے میں لکھ لکھ کر. اے انسان جو تو کبھی اکیلے میں بیٹھ کر یہ سوچے تو پریشان ہی رہ جائے تیری سوچ ختم ہوجائے، لکھ لکھ کر ہاتھ تھک جائے، قلم بھی ٹوٹ جائے لیکن رب کی شان اور تعریف ختم نا ہو پائے. کیسے اس رب نے مویشیوں کی کھال سے انسانوں کے لیے آرامدہ چیزیں میسر کی، ایک مکڑی کو آگر ہم دیکھیں تو جس طرح وہ اپنا گھر بناتی ہے، دنیا کی طاقتوں کو بھی ہم استعمال کرلیں تو ہم ذرا برابر بھی ایسا کچھ بنا نہیں سکتے، یہ سب رب العزت کی شان ہے اور ہم ایک انسان ہے کہ ہم یہ سب بھول بیٹھے ہیں اور اپنے رب کا شکر ادا کرنا بھول گئے ہمیں ضرورت سے زیادہ اور اوقات سے آگے چیزیں مانگنے کی عادت ہوگئی ہے.
ہم انسانوں کو جو کبھی کوئی ہمارے گناہ یاد دلائے تو ہم میں ہمت ہی پیدا نا ہو کچھ مانگنے کی. ہم پھر اس میں خوش رئیں گے جو کچھ ہمیں ملا ہے اس پے ہی ہم شکر گزار بن جائیں گے. “کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ انسان کی خواہشات کا پیالہ کبھی نہیں بھرتا کیوں کہ اس میں ناشکری کے سوراخ ہوتے ہیں جو اس پیالے کو کبھی بھرنے نہیں دیتے.”
کیا انسان کی خوشی کے لیے اتنا کافی نہیں کہ وہ صحیح سلامت ہے اور کسی کا محتاج نہیں ہے. اس کے جسم کے سارے حصے صحیح سے کام کر رہے اس کو کسی کا محتاج نہیں ہونا پڑ رہا اس کو کسی کے آگے جھکنا نہیں پڑ رہا لیکن ہمیں یہ چیزیں کہاں چاہیے ہمیں وہ چیزیں خوشی کب دیتی ہیں جو رب العزت نے ہمارے لیے بنائی ہمیں تو وہ چاہیے جو انسانوں نے بنایا ہے. اور ہم مسلمانوں کے لیے تو اس سے بڑھ کر اور خوشی کی بات کیا ہونی چاہیے کہ ہم محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے ہیں، ہمیں سب امتوں سے بڑھ کر عزت حاصل ہے. لیکن ہمیں یہ نعمتیں راس نہیں آتی، دراصل سوچا جائے تو ہم خوش نصیب ترین انسان ہیں.
کہتے ہیں کہ مغرب کی نماز کے بعد کا وقت بہت پرسکون ہوتا ہے جب اندھیرا ہونا شروع ہوجاتا ہے اور خاموشی کے وہ لمحات اور بھی پرسکون لگتے ہیں تب کبھی اکیلے میں اپنے رب سے گفتگو کیا کریں اور اب خوشیوں کو یاد کیا کریں جو رب کی طرف سے ملی ہے اور شکر ادا کیا کریں. یقیناً اللّٰهَ تعالیٰ شکر گذار لوگوں کو پسند کرتا ہے. اپنے وقت سے کچھ وقت رب العزت کی شان بیان کرنے کے لیے ضرور نکالیں اور شکر ادا کیا کریں کیوں کہ آپ کے وقت کا سب سے زیادہ حقدار صرف اللہ پاک ہے.
اللہ آپ سب کو خوشیاں دے اور خوشیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے.

از قلم : پرھ رشید

Pirrah124

💕Student of literature dept 📝 Writer 📚 Books lover 🌧️🍂🌷Nature lover 🧕Love Islam 💭 Fond of philosophy

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
نوٹ: اگر آپ اپنی پروڈکٹس،سروسز یا آفرزکا مفت اشتہار لگوانا چاہتے ہیں تو نیوزفلیکس ٹیم، عوام تک آپ کا پیغام پہنچانےکا موقع فراہم کر رہی ہے. شکریہ_ اپنا پیغام یہاں لکھیں
error: Content is protected !!

Adblocker Detected

Note: Turn Off the AdBlocker For this Site