حاضر ہے حاضر ہے بھائی تیرا حاضر ہے

In افسانے
February 01, 2021

آج کی تحریر اس عظیم ہستی کے نام جو ہر بہن کی زندگی میں موجود ہے ہاں میں جانتی ہوں کہ آپ سب اس نام سے واقف ہو چُکے ہیں پر مجھے یہ کہنے دیں کہ ہر بہن کا بُرا خواب، ہر بہن کا کالا ٹیکہ اور ہر بہن کا باڈی گارڈ “بھائی”.

حاضر ہے حاضر ہے بھائی تیرا حاضر ہے
اللہ کی ذات کا بڑا کرم ہے کہ اس نے عورت کو جس بھی رُوپ میں پیدا کیا تو ساتھ میں کسی ایسے کو بھی پیدا کیا جو اُسے ہر اعتبار سے مکمل کرتا ہے۔ ماں کے ساتھ باپ کو بنایا، بیوی کی ساتھ شوہر کو اور بہن کے ساتھ بھائی کو بنایا اسکے علاوہ اور بھی بہت سے رشتے ہیں مگر جناب بات کریں بھائی پر تو میری تحریر ہر بھائی والی بہن کے لیئے ہے۔
میری پیاری بہنوں اگر آپ اپنی زندگی میں کسی ایسے شخص سے پریشان ہیں جو آپکو اپنے ذاتی نام کہ علاوہ کالی اور موٹی کہہ کر پکارتا ہے تو پریشان نا ہوں اس تحریر کو غور سے پڑھ لیں امید ہے فائدہ ہی فائدہ ہوگا۔

پر اُس سے پہلے میرا ہر اُس بہن کو سلام جو ایک نہیں دو نہیں بلکہ تین تین بھائیوں کو بہن کم ماں بن کر سدھارنے میں جٹی ہے گو کہ ایک یا دو بھائیوں والی بہن بھی اسی حال سے دو چار ہے پر جو درد تین بھائیوں والی بہن اُٹھا رہی ہے معذرت کے ساتھ پر وہ ایک یا دو بھائیوں والی بہن نہیں سمجھ سکتی۔ بات کریں بھائیوں پر تو بھائیوں کی بھی کئی قسمیں ہوتی ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:-

نمبر1۔ جنگلی بھائی
جیسے کچھ بھائی تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو سارا دن محض اپنی بہنوں کو ماں باپ سے ڈانٹ پڑوانے کی جدوجہد میں رہتے ہیں۔ اور اگر اُس میں کامیاب ہو جائیں تو ایک کونے میں بیٹھ کر اُس سے لُطف اندوز ہوتے ہیں نہ جانے وہ کونسا ایسا پُر مسرت موقع ہوتا ہے جسے وہ بیس برس بعد بھی یاد رکھتے ہیں اور نہ صرف یاد رکھتے ہیں بلکہ رشتے داروں کی بزمِ محفلِ میں مرچ مثالوں کہ ساتھ اُس بات کو دوہرا کر مزے لیتے ہیں۔

جنگلی بھائی ہوں اور چیخنے چلانے والی بہن نا ہو تو بھئ یہ تو خدا کا کوئی معجزہ ہی ہو سکتا ہے۔ بھائی تب تک چین نہیں لیتے جب تک وہ اپنی بہن کا کام بگاڑ نه دیں مثلاً بھائی ہمیشہ وہیں سے گزرے گا جہاں سے بہن نے پانچ سیکنڈ پہلے فرش کو رگڑ رگڑ کر صاف کیا ہو اور خدا کی کرنی تو دیکھیں کہ ماں اُس دس مرلے کے چکا چوند گھر کو چھوڑ کر بیٹی کو تیر ٹھیک اسی جگہ پر مارے گی جہاں پر بھائی نے کُچھ دیر پہلے ہی اپنی کارروائی کی ہوتی ہے اگر صفائی میں بیٹی بتائے کہ بھائی نے جان کر کیا ہے تو ماں کہ سامنے فرش بھی اپنی تصویر ایسے پیش کرتا ہے کہ جیسےاس مظلوم کی صفائی ہوئی ہی نہ ہو اور وہاں ایسا لگتا ہے کہ جیسے بہن کے سارے ستارے گردش میں ہیں۔
گیلا تولیہ بستر پر پھیکنا، ٹوتھ برش کا ڈھکن کھلا چھوڑ دینا، گندے کپڑوں کو مائیکل جیکسن کے انداز میں آدھا مشین کے اندر اور آدھا باہر پھینکنا، اپنی پلیٹ صاف کرنے کے بعد بہن کی پلیٹ سے کھانا یہ وہ تمام کام ہیں جنہیں جب تک بھائی سر انجام نہ دیں انکو سکون نہیں ملتا۔

نمبر2۔ سُست بھائی
ایسے بھائیوں کے تو ششکے ہی الگ ہوتے ہیں نہ خود اٹھ کر پانی پینے کی فکر نہ بہنوں کو ڈانٹ پڑوانے کی فکر یہ اپنے کام سے نہیں انداز سے پہچانے جاتے ہیں۔ اگر آپکا بھائی اسی قسم میں آتا ہے تو اس میں اسکا کوئی قصور نہیں چوں کہ یہ بہت منتوں اور مرادوں بعد اس دنیا میں آئے ہوتے ہیں اس لیے انکو ایسا بنانے میں سارا عمل دخل گھر کے بزرگ حضرات یعنی دادی اور نانی کا ہوتا ہے۔ اگر آپ نے برگر کھایا ہے اور ساتھ بیٹھے بھائی سے نہیں پوچھا تو جناب آپکی کلاس آپکی ماں کے لینے سے پہلے آپکی دادی یا نانی لیں گی اور اگر آپ کوئی کام کر رہی ہیں اور کام کے qدوران بھائی نے آپکو کوئی کام کہہ دیا اور آپکا جواب ہوا کہ کام ختم کرنے کے بعد کرتی ہوں تو آپ کا جو مقام اور قدر تھی وہ اب نہیں رہے گی اور آپکے گلاس دینے سے پہلے ہمارے بُزرگ وہ کام کر چُکے ہونگے۔ اور ایسی بہنوں کے لیے میری دل سے دعا ہے کہ انکو اپنا کھویا ہوا مقام واپس مل جائے۔

نمبر3۔ ٹیکس والے بھائی
ہمیشہ کے غریب اور بہنوں سے چنگی ٹیکس وصول کرنے والے یہ بھائی اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کی جیب میں آنے والا ٹیکس کالج کے فائن میں جاتا ہے اور ماؤں سے ملنے والی رقم دوستوں کے ساتھ مزے کرنے میں۔ اگر تو بہنوں نے ٹیکس دے دیا تو ٹھیک ورنہ دس کی چیز کو پندرہ کا بتا کر وصول کیا جاتا ہے بہنوں کو ایسے ہی بھائی پسند آتے ہیں اور اگر کوئی اُن بہنوں کو اصل بات بتا دے تو اُس سے بڑا دشمن اُن کے لیے کوئی نہیں ہوتا پھر چاہے وہ انکی اپنی سگی بہن ہی کیوں نہ ہو ایسے بھائیوں کے ہتھے چڑھنے والی عموماً چھوٹی بہنیں ہوتی ہیں اور مجھے ان معصوم بہنوں پر بہت ترس آتا ہے۔

نمبر4۔ ماموں
اب آپ سب سوچ رہے ہونگے کہ یہاں بات بھائیوں پر ہو رہی تو ماموں کا ذکر کہاں سے آگیا تو صبر کرو رکو ذرا -یہ مت بھولیں کہ ہمارے ماموں بھی تو اپنی بہنوں کے بھائی ہیں تو انکا ذکر تو بنتا ہے۔ ارے وہی جن کے قصے سن سن کر ہم بڑے ہوئے ہیں نہیں سمجھے؟ میں سمجھاتی ہوں یاد ہے جب بچپن میں ریموٹ کے پیچھے بھائی بہن لڑ پڑتے تھے اور بات ہاتھا پائی تک پونچھتی تھی تو فیصلہ ماں کے پاس آتا تھا تو ماں کیا کہتی تھی کہ ہمیں تو یاد ہی نہیں پڑتا کہ کبھی ہمارے بھائی نے ہم پر ہاتھ بھی اٹھایا ہو یا کبھی جھڑکا بھی ہو ہم تو کبھی نہیں لڑتے تھے پتہ نہیں ہماری اولاد کیوں اتنا لڑتی ہے۔ جی ہاں میں بھی اُسی کے بارے میں ہی بات کر رہی ہوں وہی بھائی جو صرف ہماری ماؤں کو ہی ملتے ہیں اور ہماریے ماموں کہلاتے ہیں۔ بھئ ہوتے ہونگے ایسے بھائی بھی پر قسم اٹھوا لو جو میں نے کبھی اپنی گنہگار آنکھوں سے دیکھا بھی ہو تو۔

کوئی تصویر سوشل میڈیا پر لگانی ہو تو بہن، کوئی فرمائش کروانی ہو تو بہن، تنگ کرنا ہو تو بہن، مشورہ چاہئے تو بہن، لوشن سے لے کر کھنگھی تک بھی بہنوں کی استعمال کرنے والے یہ کھوپرے جیسے ہمارے بھائی دراصل اپنی بہنوں سے بہت محبت کرتے ہیں وہ الگ بات ہے کھل کر اظہار نہیں کرتے۔ شاید بہنوں کو اس بات کا احساس نہ ہو پر یقین جانیے کہ یہی بھائی ہیں جو اپنی بہنوں پر سایہ کیے ہوتے ہیں اور اپنی بہن کو چبھنے والا ہر کانٹا نکالنے کہ لیے آگے رہتے ہیں باپ کی ماند یہ بھائی اپنی بہنوں پر جان دینے کے لیے بھی تیار رہتے ہیں اور اگر آپکے پاس آپکا بھائی ہے تو آپ بہت خوش قسمت ہیں یہ بھائی ہی تو ہیں جن کی وجہ سے بہنیں بغیر کسی خوف کے باہر جا سکتی ہیں کیوں کہ اُن کو پتہ ہوتا ہے کہ انکا بھائی ہمیشہ انکے لیئے موجود ہے۔

اگر اس رشتے کو سینچا جائے صبر و تحمل کے ساتھ تو یہ بہت خوبصورت رشتہ ہے جو وقت کے ساتھ مضبوط بھی ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہر بہن کے بھائی کو صحت والی زندگی دے اور انہیں مسکراتا رکھے۔
آمین ثم آمین
جزاک اللّہ

/ Published posts: 3

مجھے لکھنے کا بہت شوق ہے