اسلامک

جب خالدؓ کا گھوڑا”اشجر”اشک بہانے لگا۔۔۔۔(شاہ حسین سواتی)

تعارف۔۔۔۔
خالد بن ولید 592ء کوقریش کے ایک معزز قبیلے بنو محزوم میں پیدا ہوئے۔آپؓ ان بہادر صحابہؓ میں سے ایک تھے جنہوں نے کفر کو دیوار سے لگایا تھا۔اسلام سے پہلے بھی آپؓ کفار کے چند بہادر جوانوں میں سر فہرست تھے۔جب 8 ھجری میں مشرف بااسلام ہوئے تو اپنی زندگی اسلام پر قربان کر دی۔آپؓ کی پوری زندگی گھوڑے کے پیٹھ پر لڑتے گزری،بہترین تیر انداز ،زبردست جنگجو،مشہور نیزہ باز اور تلوار زنی میں ثانی نہیں رکھتے تھے۔جب میدان میں اترتے تو فتح آپؓ کی قدم چوم لیتی تھی۔
جہاد اور خالد بن ولیدؓ۔۔۔
خالدؓ وہ عظیم صحابیؓ ہیں جنکو آپﷺ نے سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوا کہہ کر پکارا۔اور یقینا آپؓ اللہ کی تلوار بن کر اسلام کےدشمنوں پر کھوندتی رہی ،ان کو کاٹتی رہی ،جب جہاد کا اعلان ہوتا خالدؓ صف اول میں نظر آتے،جب بہادر میدان کا رخ کرتے تو خالدؓ ان کے راہنمائی کرتے نظر آتے،کافر جب طاقت کا گیت گانے لگتے خالدؓ ان کی امیدوں کو خاک میں ملاتے،جہاں دشمن فوج جمع کر کے مسلمانوں پر حملے کی تیاری کرتا خالدؓ ان کے منصوبوں کو الٹ کے رکھ دیتے،جبلہ ابن ایہم غسانی ساٹھ ہزار کا لشکر لاتا ہے تو خالدؓ ساٹھ جانثاروں کو لیکر ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔جب دشمن ہزاروں کی تعداد میں سامنے آتا خالدؓ پورے لشکر پر شیر کی طرح حملہ آور ہو جاتے۔کافر صف بندی میں مصروف ہوتے اور خالدؓ ان کی صفوں کوتہس نہس کر چکا ہوتا۔جب میدان میں مقابلے کے لیے بلایا جاتا خالد ؓ کا چہرہ چمک اٹھتا،آگے بڑھتے اور بجلی کی سی تیزی سے دشمن کاٹ کے رکھ دیتے۔آپؓ نے تقریبا 125 جنگوں میں حصہ لیا اور کامیابی و کامرانی سمیٹ کر لوٹا۔
شام کے محاذوں میں۔۔
آپؓ جب شام کی سرزمین میں داخل ہوگئے تو دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔آگے کو بڑھتے گئے،حملہ کرتے،دشمن کا صفایا کرتے،علاقے فتح کرتے،اور اسلام کا جھنڈا شام کے کونے کونے میں لہرا کر دم لیا۔بازینطینی مقابلے میں آئے لیکن ٹک نہ سکے،رومیوں نے کوشش کی لیکن آپؓ کو روک نہ سکے،کفریہ طاقتیں جمع ہوئیں،ایک لاکھ فوج نے مل کر چڑائی کی لیکن خالدؓ کے فولادی ارادوں،بلندہمت اور حصلے کوشکست دینے میں ناکام ہوئی۔شام کی تاریخ رقم ہوئی تو ایک بہادر کے گرد گھومتی رہی۔وہ نڈر تھا،بے خوف ہو کر لڑتا،جان ہتیلی پر رکھ میدان میں اترتا،اللہ اکبر کی صدا لگاتا اور دشمن کے پرخچے اڑا دیتا،گھوڑا اس کی محبت ،تلوار اس کی اولاد بنی،میدان جہاد اس کی دنیا اور جہاد ان کا مشغلہ ٹہھرا،کافروں سے لڑنے میں وہ بے باک تھا،جب میدان کارزاں میں خون کی ندیاں بہتی خالدؓ مسلمانوں کے حوصلے کو سہارا دیتا،حالات کتنے بھی کٹھن ہوتے ،خالدؓ کا ایک ایک سپاہی جان شہادت نوش فرماتے،لیکن خالدؓ کے حوصلے بلندہوتے،اپنے ساتھیوں کو خون میں نہاتے دیکھتے لیکن ہمت پہاڑوں کو مات دیتی تھی۔
آخری ایام۔۔۔
خالدؓ کا جسم چھلنی چھلنی ہو چکا تھا۔بہت تک چکا تھا وہ موت کی تلاش میں نکلتے اور موت میدان سے دور کھڑی مسکراتی ۔وہ موت سے گلے لگانا چاہتے تھے اور موت بھاگ جاتی تھی،وہ میدان جہاد میں جان لٹانا چاہتے تھے لیکن جان لینے والے خود زندگی سے محروم ہو جاتے۔جب زندگی کا سفر ختم ہوا اور بستر مرگ پر آپؓ لیٹے تو فرمایا جب موت لکھی ہوئی نہ ہو تو تلواروں کے سائے میں بھی نہیں آتی۔فرمایا اگر میدان جہاد میں موت ہوتی تو خالدؓ کو بستر پر نہ آتی۔
اشجر بھی آنسو بہارہاتھا۔۔۔
جب خالد ؓ کی موت کا پیغام پہنچا ایک کہرام مچ گیا،ہر آنکھ اشکبار،دل زخمی اور مسلمان آفسردہ تھے ۔ہر آنکھ آنسو بہا رہی تھی،ہمت کے بندھن ٹوٹ چکے تھے،ضبط ختم ہو چکا تھا۔زمین بھی رو رہی تھی اور فلک بھی۔ جب خالدؓ کو قبر میں اتارا جا رہا تھا تو خالدؓ کا گھوڑا بھی برداشت نہ کر سکا اور ان کے آنکھیں بھی تر ہوگئیں ۔یہ تو خالدؓ کا ساتھی تھا جب موت سامنے ہوتی اشجر خالدؓ کو ہمت دیتا،خون کے دریا میں خالدؓ کے لیے سہارا بنتا،جب موت رقص کرتی تواشجر کی کھاری ضرب سے زمین کانپنی لگتی۔اشجر بھی میدان جنگ کا عادی تھا خالدؓ کے جانے پر یقینا آفسردہ تھا اور آنسو بہا رہا تھا۔
شاہ حسین سواتی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button