موہاٹہ پیلس کی تاریخی حیثیت کونسی عظیم شخصیت اس محل میں رہائش پذیر رہی؟

موہاٹہ پیلس کی تاریخی حیثیت کونسی عظیم شخصیت اس محل میں رہائش پذیر رہی؟

شہر قائد کراچی میں سیاحوں کی تفریح کا مرکز
کلفٹن میں بنا خوبصورت محل موہاٹہ پیلس ایک تاریخی حیثیت کا حامل ہیں۔ یہ خوبصورت محل سن 1927 میں ہندوستان کے مشہور مارواڑی تاجر رائے بہادر شیورتن موہاٹہ نے تعمیر کروایا۔
اس محل کی خوبصورت نقش سازی اس وقت کے مشہور مسلمان نفش ساز آغا حسین احمد نے تیار کی تھی۔

اس محل کی تعمیر کا مقصد کچھ یوں بتایا جاتا ہے کہ شیورتن موہاٹہ کی اہلیہ ایک ایسے مرض میں مبتلا تھی جس کا علاج ڈاکٹروں نے یہ بتایا کہ اگر مریضہ کو مسلسل سمندر کی تازہ ہوا والے ماحول میں رکھا جائے تو وہ بلکل صحتیاب ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ شیورتن موہاٹہ نے اپنی اہلیہ کی جان بچانے کے لیے سمندر کے پاس ایک بڑء رقبے پر یہ خوبصورت محل تعمیر کروایا۔ شیورتن موہاٹہ کی اپنی اہلیہ سے محبت کی نشانی موہاٹہ پیلس کو دوسرا تاج محل بھی کہا گیا کیونکہ موہاٹہ پیلس اور تاج محل کی کہانی قدرے ایک جیسی ہے۔ شاہ جہاں نے اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد اسکی یاد میں تاج محل تعمیر کروایا تھا جبکہ شیورتن موہاٹہ نے اپنی اہلیہ کو موت سے بچانے کےلئے موہاٹہ پیلس تعمیر کروایا۔

موہاٹہ پیلس کا کل رقبہ اٹھارہ ہزار مربع فٹ ہے۔ محل میں داخل ہوتے ہی پہلی نظر عمارت کے خوبصورت اور نگارنگ پھولوں سے سجے باغیچے پر پڑتی ہے محل کے در و دیوار پر خوبصورت پھولوں پرندوں کے نقش و نگار تراشے گئے ہیں جو دیکھنے والو کا دل جیتتے ہیں۔ محل کا اندرون حصہ اس قدر دلکش اور خوبصورت بنایا گیا ہے جیسے دیکھ کر بندا خود کو کسی مغلیہ دور میں تصور کرنے لگتا ہے۔ محل کی تعمیر گزری ، گلابی اور پیلے جودھ پوری پتھروں سے کی گہی ہیں محل کی دو منزلہ عمارت میں سولہ بڑے کھلے اور ہوا دار کمرے ہیں جبکہ محل کی چھت پر 5 خوبصورت گمبند بھی موجود ہے۔ محل کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہیں کہ محل کے نیچے سے ایک سرنگ نکلتی ہے جو ایک مندر سے جا ملتی ہے۔ سرنگ کو بنانے کا مقصد محفوظ راستے سے مندر میں جانا تھا ۔ تاہم یہ سرنگ بعد میں دونوں اطراف سے بند کر دی گئی تھی۔

محل میں رہائش اختیار کرنے کے بعد شیورتن موہاٹہ کی اہلیہ پر سمندر کی تازہ ہواؤں نے اپنا اثر دیکھانا شوروع کیا اور وہ آہستہ آہستہ صحتیاب ہونے لگی۔ لیکن شیورتن موہاٹہ کی بدقسمتی یہ تھی وہ اور ان کی اہلیہ اپنے اس خوبصورت محل میں صرف دو دہایاں ہی گزار سکے۔
شیورتن موہاٹہ کو اپنا یہ محل اس قدر عزیز تھا کہ پاک و ہند تقسیم کے بعد ان نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم ایسا کیا ہوا کہ ان کو موہاٹہ پیلس چھوڑنا پڑا۔

پاکستان بننے کے بعد کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت چنا گیا تو اس وقت سرکاری دفاتر کی کمی محسوس ہونے لگی لہذا حکومت کی طرف سے فیصلہ ہوا جس کہ پاس ایک سے زائد رہائش گاہیں ہیں ان کی ایک راہشگاہ حکومت تحویل میں لے کر سرکاری دفاتر قائم کرے گی حکومت کے اس فیصلے کا شکار شیورتن موہاٹہ کا موہاٹہ پیلس بھی بنا۔لہذہ حکومت نے شیورتن موہاٹہ کو ان کا محل سرکاری کاموں کےلیے خالی کرنے کا حکم جاری کیا جس پر وہ انتہائی دلبرداشتہ ہوگئے اور اسی رات پاکستان چھوڑ کر بمبئی انڈیا منتقل ہوں گئے۔ شیورتن موہاٹہ ایک خط حکومت کے نام چھوڑ کر گئے
جس پر یہ لکھا تھا کہ وہ موہاٹہ پیلس حکومت کو بطور تحفہ دے رہے ہیں۔

شیورتن موہاٹہ کا محل چھوڑنے
کے بعد موہاٹہ پیلس میں حکومت کی طرف سے وزارت خارجہ کا دفتر قائم کیا گیا جو کہ ایک عرصے تک قائم رہا۔ بعد ایوب خان کے دور میں اسلام آباد کو دارالحکومت بنایا گیا اور تمام سرکاری دفاتر اسلام آباد منتقل ہونا شروع ہوگئے۔ وزارت خارجہ کا دفتر اسلام آباد منتقل ہوا تو موہاٹہ پیلس دوسری بار خالی ہوا۔جس کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے ماہاٹہ پیلس میں رہائش اختیار کر کے اس خوبصورت محل کو ایک بار پھر آباد کیا۔ محترمہ فاطمہ جناح نے موہاٹہ پیلس کا انتخاب قائداعظم کی بمبئی والی رہائش گاہ کے بدلے میں کیا تھا۔ محترمہ فاطمہ جناح کے منتقل ہونے کے بعد اس عمارت کا سرکاری نام قصر فاطمہ رکھا گیا بہت کم لوگ ایسے ہیں جو محل کو اس نام سے جانتے ہو۔
سن 1967 میں محترمہ فاطمہ جناح کی وفات اسی محل میں ہوئی۔ محترمہ فاطمہ جناح کی وفات کے بعد محل ان کی بہن شیریں جناح کے حوالے کر دیا گیا جن نے محل کو عوام کی خدمت کےلیے ایک دہائی تک استعمال کیا 1980 میں شیریں جناح کا انتقال ہوا۔ ان کی جواہش تھی کے موہاٹہ پیلس طلباء کیلئے میڈیکل کالج بنایا جائے لیکن زندگی نے ساتھ نہ دیا۔ ان کی وفات کے بعد موہاٹہ پیلس پر ایک بار پھر تالا لگ گیا۔ 15 سال بند رہنے کے بعد بل آخر حکومت کو ترس ایا اور 90 کی دہائی میں محکمہ ثقافت نے ستر لاکھ کے عوض اس عمارت کو خریدا اور قومی ورثہ قرار دے کر عجائب گھر میں تبدیل کر دیا۔ جو کہ آج تک قاہم ہے۔

تحریر عمر لیاقت عباسی

اپنا تبصرہ بھیجیں