شوبز

سماجی تحفظ ہمارا بنیادی حق ہے

ہماری دسویں کی انگریزی کی کتاب میں ایک کہانی تھی کہانی کا نام (خوبصورت شہر) ہے اس میں بتایا گیا کہ تین بادشاہ کسی مقام پر اکٹھے ہوئے اور انہوں نے اپنے اپنے ملک کو خوبصورت بنانے کا اعلان کیا اور وعدہ کیا کہ ایک سال بعد دوبارہ مل کر تینوں ملکوں کا دورہ کریں گے اور جس ملک کا دارلحکومت خوبصورت ہوگا اسے خوبصورت شہر کانام دیا جائے گا خیر ایک سال بعد تینوں بادشاہ اکٹھے ہوئے ان کے ساتھ فیصلہ کرنے والے جج بھی تھے اور انہوں نے دورہ شروع کردیا سب سے پہلے جس شہر میں گئے وہاں بڑی بڑی عمارتیں ،پل اور خوبصورت سڑکیں بنی ہوئی تھیں۔ جج حضرات شہر کی خوبصورتی سے بہت متاثر ہوئے اور پھر دوسرے ملک کے دارلحکومت میں پہنچے اور وہاں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی خوبصورت پارک، باغ اور سڑکوں پر درخت لگے ہوئے تھے جج یہاں بھی بہت متاثر ہوئے اور پھر آخری شہر میں جاپہنچے اور وہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس ملک کا بادشاہ جس سڑک یا گلی سے بھی گزرا تو وہاں کے عوام نئے کپڑے پہنے پھول لے کر کھڑے تھے اور اپنے بادشاہ پر پھول پھینک رہے تھے تیسرے شہر کوجج صاحبان نے خوبصورت شہر کا درجہ دیا وجہ کیا تھی کہ اسے ہی خوبصورت شہر کا درجہ ملا۔ بڑی سادہ سی بات تھی ہر بادشاہ نے اپنی طرف سے اپنے شہر کو خوبصورت بنایا پہلے کا خیال تھا کہ عمارتیں ،سڑکیں اور پل بنانے سے شہر خوبصورت لگے گا دوسرے بادشاہ نے ملک میں سبز انقلاب برپا کردیا اس کے نزديک خوبصورتی سبزے میں تھی جبکہ تیسرے بادشاہ نے اپنی عوام پر توجہ دی اور انہیں خوشحال کیا اور جب تیسرے ملک کا بادشاہ اپنے شہر میں داخل ہوا تو عوام نے اپنے بادشاہ کا استقبال جوش وخروش کے ساتھ کیا اور ان کے شہر کو ہی خوبصورت شہر کا نام دیا گیا ۔اس کہانی کا لب لباب یہ ہے کہ وسائل عوام پر خرچ کرو ۔کسی انسان کو اگلے لمحے کا کوئی پتانہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوجائے ۔انسان بیمار ہوسکتا ہے معذور ہو سکتا ہے ،اس نے بوڑھا بھی ہونا ہے اور اس دنیا سے کوچ بھی کرسکتا ہے تو اس کے پیچھے اس کے خاندان کو کیا تحفظ ہے ۔ اگر متاثرہ شخص سرکاری ملازم ہے تو اسے تو کوئی مسلہ نہیں اور ناہی اس کے بیوی بچوں کو مسلہ ہے بلکہ انہیں تو سرکاری طور پر تحفظ مل جائے گا مگر ایک مزدور ،کسان ،پرائیویٹ ملازم ریڑھی یا چھابڑی لگانے والا اس کا یا اس کے خاندان کا کیا بنے گا اس لیے سرکار بلا حیل وحجت پاکستان کے تمام شہریوں کو تحفظ فراہم کرے یہ ہمارا آئینی حق ہے کوئی خیرات نہیں۔ حکومت ہر شہری کو سوشل سکیورٹی اور پنشن کے لیے رجسٹر کرے اور شہریوں کی ماہانہ کٹوتیوں سے کاروبار کرے اور انہیں سماجی تحفظ کرے ۔ سماجی تحفظ سے شہری بہت سارے ذہنی مسائل سے بھی بچے گا اور وہ نا صرف ملکی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے گا بلکہ کسی ملک دشمن سرگرمی میں بھی حصہ نہیں لے گا
عبدالرحمن شاہ

Abdur Rehman

استاد ،رائٹر،آرٹسٹ اور سماجی کارکن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
نوٹ: اگر آپ اپنی پروڈکٹس،سروسز یا آفرزکا مفت اشتہار لگوانا چاہتے ہیں تو نیوزفلیکس ٹیم، عوام تک آپ کا پیغام پہنچانےکا موقع فراہم کر رہی ہے. شکریہ_ اپنا پیغام یہاں لکھیں
error: Content is protected !!

Adblocker Detected

Note: Turn Off the AdBlocker For this Site