تعلیم

اگر ممکن ہو تو ایسا ضرور کرنا۔۔۔۔(شاہ حسین)

ہم معاشرے میں بہت سارے افراد مل کر زندگی گزارتے تو ہیں ۔لیکن اکثر ہمیں انہی افراد کے ہاتھوں ذلیل ہونا پڑتا ہے۔ہماری ذلت،رسوائی،اور بے عزتی اکثر انہی افراد سے وابستہ ہوتی ہے ۔کیونکہ ہم ان ضروری باتوں کو نظر انداز کرتے ہیں جن کی وجہ سے ہم نقصان اٹھا سکتے ہیں۔آئیے ذرا ان باتوں کو غور سے دیکھیں۔
نمبر 1:
اگر کوئی آپ سے مشترکہ کاروبار کرنا چاہے اور اپنااعتماد بنانا چاہتا ہے،تواس کھانے میں شریک کر کےکھانا کھاؤ،اوردیکھو کہ وہ کھانے کی بہتر چیز خودکھاتا ہے یا تمھیں زیادہ کھلانا پسند کرتا ہے ۔دوسری صورت ہو تو کاروبار کرو اگر پہلی صورت ہو تو اس کا مطلب واضح ہے ۔کہ وہ کاروبار میں تم سے زیادہ لینے کی کوشش کرےگا ۔
نمبر 2:
اگر کوئی آپ سے دوستی کرنا چاہے۔ تو اسکے ساتھ ایک پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرو۔اگر اس نے اپنے کو کرایہ سے بچایا کسی بھی طریقے سے ۔تو اس کامطلب ہے کہ وہ آپ سے فائدہ لیناچاہتاہے دوستی کے قابل نہیں۔کونکہ لالچ نے اس کا پردہ پاش کر دیا۔
نمبر 3:
اگر کوئی بھی تم سے تعلق جوڑنا چاہے۔ تو اسکی کسی چیز کو معمولی نقصان پہنچاؤ ۔مثلاً اسکے جوتے کو، یاموبائل فون کو میز کے انتہائی کنارے پر رکھنا، یا اس کے عینک کو چھیڑنا۔وغیرہ اگر اس نےاپنی چیز کی قیمتی ہونے کاچرچا کیا۔تو رشتہ مت جوڑنا کیونکہ اس کو رشتے اورتعلق سے زیادہ پیسہ پسند ہے ۔
نمبر 4:
اگر آپ کاروبار کرتے ہیں اور کوئی آپ سے اُدھار مانگتا ہے۔ تو اسکو قیمت بہت زیادہ بتانااور شرائط سخت رکھنا اگر اسنے قیمت کم کرنے کی کوئی کوشش نہ کی ،یا شرائط میں نرمی کا نہ کہا۔ تو ادھار نہ دینا ۔کیونکہ اس کو ادائیگی نہیں کرنی ہے اسلیے قیمت سے دلچسپی نہیں رکھتا۔
نمبر 5:
اگر کوئی اپنی ہر دوسری تیسری بات پر قسم اٹھاتا ہو ۔تو اسکی بات میں ضرور جھوٹ شامل ہے۔ وہ قسمیں اسلیے اٹھاتا ہے کہ اس کو اپنی جھوٹ سچ ثابت کر نا ہو تا ہے۔
نمبر 6:
اگر تمھارا کوئی دوست اپنی کوئی برائی چھپاتا ہے ۔تو آپ اس کے سامنے مت بولیں کہ تم کو سب کچھ معلوم ہے ۔اگر تم نے ایسا کیا تو پھر وہ اس برائی کو تمھارے سامنے بھی کرےگا ۔
نمبر 7:
بچوں کو برے کام سے منع کرو لیکن اس وقت جن، بلا، یاجانور سے نہ ڈرانا کیوں کہ جب وہ سمجھ جاتے ہیں کہ وہ چیزیں فرضی تھیں۔ تو وہ برائی واپس شروع کرلیں گے۔بلکہ اللہ سے یا جہنم سے ڈرانا کیونکہ اس کا تصور تمام عمر ہوتا ہے ۔
نمبر 8:
بچوں کی ہر غلطی پر سزا نہ دینا ۔کیونکہ اس سے اس کی ذہنیت ایسی بن جاتی ہے ۔کہ بڑے ہوکر ہر غلطی کرنے والے سے لڑےگا ۔پھر ساری عمر جھگڑوں میں گزریگی ۔
نمبر 9:
اپنے ماں باپ سے اپنے بچوں کے سامنے بہت محتاط رہنا ۔کیونکہ جو انداز تم اپناتے ہو وہی کل تمھاری اولادِ اپنائی گی اور تم دیکھتے رہہ جاؤگے ۔
نمبر10:
معاشرے میں جس کا کوئی کام برا لگے وہ خود نہ کرناورنہ تم لوگوں کے عتاب سے نہیں بچ پاؤگے،اور معاشرہ تمہیں بھی قبول نہیں کرے گا ۔
شاہ حسین سواتی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button