سیاحت

پاکستان کے پہاڑ ، شاہراہ ریشم ، وادیاں اور دریا

پاکستان کے پہاڑ ، شاہراہ ریشم ، وادیاں اور دریا نزہت قریشی السلام علیکم! ہمارا ملک پاکستان قدرتی نظاروں سے مالا مال ہے۔ اس کے پہاڑ ہوں، وادیاں ہوں یا دریا سب ہی قدرت کا شاہکار ہیں۔پہاڑ:۔ ہمارے ملک کے شمالی علاقے میں تین بڑے پہاڑی سلسلے ہیں۔ ہندو کش ، قراقرم اور ہمالیہ۔ ان کی بلند و بالا چوٹیاں ہمیشہ سفید سفید برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔ کے ٹو جسے ‘ماﺅنٹ گڈون آسٹن اور شاہ گوری’ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کی سب سے بلند جبکہ ماﺅنٹ ایورسٹ کے بعد دُنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے.

جس کی بلندی 8611 میٹر ہے اور یہ سلسلہ کوہِ قراقرم میں واقع ہے، اسے دو اطالوی کوہ پیماﺅں نے 31 جولائی 1954 کو سب سے پہلے سر کیا تھا۔اس کے بعد “ننگا پربت” ہے۔ یہ بھی بہت اُونچا پہاڑ ہے۔ ان کے علاوہ چھوٹے پہاڑی سلسلے بھی بہت ہیں۔شاہراہ ریشم:۔ دوستو ! کیا آپ کو پتا ہےکہ ان پہاڑی سلسلوں سے ایک مشہور سڑک گزرتی ہے ۔ شاہراہ ریشم یا قراقرم ہائی وے کہلاتی ہے۔ یہ سڑک ایبٹ آباد سے شروع ہو کر بےشام ، چِلاس اور گِلگت سے ہوتی ہوئی ہُنزہ تک جاتی ہے اور پاکستان کو خنجراب پاس کے ذریعے چین سے ملاتی ہے ۔ یہ سڑک بہت خطرناک موڑ کاٹتی ہے اور ہر موسم میں کھلی رہتی ہے۔ اسے بنانے کے مشکل کام میں 400 پاکستانی اور چینی جانیں چلی گئیں اور کئی سو لوگ شدید زخمی ہوئے۔ ان لوگوں کی وجہ سے ہم پاکستان کے یہ حسین علاقے دیکھ سکتے ہیں۔

اس سڑک سے پُرانی شاہراہ ریشم بھی نظر آتی ہے۔ جس سے گُزر کر سکندرِ اعظم کا لشکر ہمارے ملک میں داخل ہوا تھا۔ یہ پُرانی سڑک جو شاید ہی اب استعمال ہوتی ہو، بعض جگہوں سے اتنی پتلی ہے کہ یقین نہیں آتا کہ اس پر سے کارواں گُزرتے تھے۔ وادیاں:۔پاکستان کے ان چھوٹے بڑے پہاڑوں کے درمیان بہت خوبصورت اور دلفریب وادیاں پائی جاتی ہیں ۔ ان وادیوں میں رہنے والے لوگ بڑے محنتی ہیں۔ یہ لوگ پہاڑ کی ڈھلانوں پر کھیتی باڑی کرتے ہیں یا جانور پالتے ہیں۔ان پہاڑوں کی کچھ وادیاں یہ ہیں.

• ہندو کش کی وادیاں سوات ، چترال اور دیر ہیں۔ سوات کو پاکستان کا سوئٹزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں بہت زیادہ سیر و تفریح کے مقامات ہیں• قراقرم کی وادیاں گلگت ، ہُنزہ اور بلتستان ہیں۔پت جھڑ کا موسم شروع ہوتے ہی پاکستان کے شمالی علاقے بالخصوص گلگت بلتستان خزاں کے رنگ برنگے مناظر سے بھر جاتے ہیں۔ یوں تو اس خطے کا ہر علاقہ ہی حسین نظارے پیش کرتا ہے آپ یہاں پت جھڑ کے اس موسم سے اچھی طرح لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ گلگت سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وادی ہنزہ ایسی پُرکشش وادی ہے جس کا حسن یہاں آنے والے سیاحوں کو مبہوت کر کے رکھ دیتا ہے۔ خزاں کے موسم میں تو اس حُسن کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔• ہمالیہ کی وادیاں کاغان اور نیلم ہیں۔ یہ علاقہ جنگلات اور چراہ گاہوں سے اٹا ہوا ہے اور خوبصورت نظارے اس کو زمین پر جنت بناتے ہیں۔

• مری اور اس کے آس پاس کی ‘ گلیاں’ مثلاً نتھیاگلی ، جھیکا گلی اور ڈونگا گلی بہت مشہور ہیں۔دریا:۔ہمارے ملک کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ ہے۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم ، چناب ، راوی ، ستلج اور دریائے کابل ہمارے ملک کو ہرا بھرا رکھتے ہیں۔ خاص طور پر پنجاب اور ان دریاؤں کے ساتھ میدانی علاقے بہت زرخیز ہیں۔ ان دریاؤں پر بہت بڑے بڑے بند اور بیراج ہیں۔ جن میں سے کچھ کے نام یہ ہیں:1. سکھر بیراج 2. غلام مُحمد بیراج 3. چشمہ بیراج4. تربیلا بند5. منگلا بند 6. وارسک بند یہاں پانی کا بہاؤ اتنا خوبصورت ہوتا ہے اور دریا یہاں بہت شور مچاتا ہے۔

Show More

Quraishi Jahan

I am Nuzhat Quraishi. Principal The Smart School Shabqadar Campus. I am a writer and want to write articles.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button