خوفِ اللّٰہ ۔۔۔یا خوفِ زمانہ!؟

واٹس ایپ کی نئی privacy policy کے بارے میں جب سے خبر عام ہوئی تب سے ہر شخص کے ذہن میں میں ایک نئی کشمکش اجاگر ہوگئی ۔ ہر شخص کے ذہن میں ایک خوف طاری ہوگیا. سب ہی ذہنوں میں یہی سوال تھے کہ کیا ہماری privacy لِیک ہوجاۓ گی؟ کیا ہمارے سارے راز منظرِ عام پر آجاٸیں گے؟ کیا ہمای ساری باتیں، ساری activities پوری دنیا کی آنکھوں کے آگے آجائےگی؟
یہ اور اسطرح کے بہت سے سوالات اِن چند ایام میں بہت سُننے کو ملے،

اور لوگوں کے خوف کی انتہا یہ تھی کہ لوگوں نے جلد از جلد واٹس ایپ چھوڑنا شروع کردیا۔ جو واٹس ایپ آج کی زندگی کا اہم عنصر بن چکا ہے لوگوں کے لیے۔ جس سے ہر کام جڑا ہے ۔ جس کے بغیر نہ سویا جاتا ہے، نہ اُٹھا جاتا ہے۔ جس واٹس ایپ کیلیے نہ جانے کتنا قیمتی وقت اور چیزیں لوگوں نے کی۔۔۔ اب لوگوں نے وہ واٹس ایپ چھوڑدیا ، صرف اس خوف سے کہ ہمارے کام ، ہماری باتیں کسی کے سامنے نہ آجائیں۔اس لمحے میں میرے ذہن میں صرف یہ سوچ گھومتی رہی کہ کیا ہم میں خوفِ اللّٰہ بھی اتنا ہی ہے؟؟ آج اپنی عزت کی خاطر ہم اپنی زندگی ضروری چیز چھوڑنے پر رضا مند ہوگئے ،،،پر کیا ہم نے کبھی اللّٰہ کی محبت کی خاطر اُسکی نافرمانیاں چھوڑیں ؟آج اس خوف میں کہ ہمارے اعمال، ہماری privacies ،ہماری باتیں دنیا کے سامنے نہ آجائیں۔۔۔

صرف اس خوف سے ہم کانپ گئے ہیں ۔پر کل جب میدانِ حشر میں تمام مخلوقات کے درمیان جب ہمارا نامہٕ اعمال کھولا جاۓ گا۔۔۔تب کیا ہوگا؟ جب ہماری زبان کے علاوہ ہمارے ہاتھ، ہمارے پاٶں، ہماری آنکھ ، کان،دل، غرض کہ تمام اعضإ جب اپنے کیے ہوۓ اعمال کے بارے میں خود گواہی دیں گے، تب کیا ہوگا؟ جب ہمارے شفيق ، ہمارے حبيب نبیﷺ کے روبرو ہمارے سیاہ و سفید کھولے جاٸینگے تب کیا ہوگا؟کیا ہم اُس دن اپنی وضاحت دے سکیں گے؟!

کیا اُس دن ہم انکار کر سکیں گے؟!ہر گز نہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”کہ قیامت والے دن انکار کرنے والے مونہوں پر مہر لگادے جاٸیگی۔ اور ان کے اعضإ و جوارح بول کر ان کے خلاف گواہی دینگے“ ذرا اُس لمحے کو تصور میں لاٸیں۔۔ذرا آنکھیں بند کر کے اُس دن کے بارے میں سوچیں جہاں کسی کو فرار حاصل نہ ہوگا۔ جہاں کیے کا بدلہ برابر دیا جاۓ گا۔ جہاں ہمارے ماں باپ بھی ہمیں نہ بچا سکیں گے!کیا پھر بھی زمانے کا خوف اُس دن سے زیادہ ہے؟یہ سوچنے کا مقام ہے۔۔۔ آج اس تحریر کے ذریعے یہ سوال آپ تک چھوڑ رہی ہوں کہ۔۔۔ ”خوفِ اللّٰہ ۔۔۔یا خوفِ زمانہ“؟؟جواب آپ کو آپ کے ضمیر سے ہی ملے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں