اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو

قران میں کئی بار خدا نے حکم دیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اس لیے مسلمان ہمیشہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں ۔ اسلام سماجی اور معاشی انصاف کے لیے ہی خدا کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور یہ نا صرف ہماری روحانی ترقی کا سبب ہے بلکہ اس میں مادی ترقی کے بھی اصول بڑی وضاحت سے بیان کیے گئے ہیں ۔

مدینہ کی ریاست میں لوگ زکوۃ لے کر نکلتے مگر زکوۃ لینے والا نا ملتا تو اس کی بنیادی وجہ سماجی اور معاشی انصاف ہی تھا جس کی وجہ سے پورا سماج خوشحال تھا ۔اللہ کی راہ خرچ کرو کی علماء کرام نے الگ الگ انداز سے تشریح کی ہے اور ہمیں کہیں لوگ راشن تقسیم کرتے نظر آتے ہیں تو کہیں لنگر خانے موجود ہیں۔ کچھ لوگ کپڑے تقسيم کرتے ہیں تو چند لوگ پیسے تقسیم کرتے ہیں تاکہ انسانیت کی بھلائی کرسکیں ۔رسالت مآب ؐ کی ایک مثال اس پس منظر میں بیان کروں گا ۔آپؐ مسجد نبوی میں تشريف فرما تھے صحابہ کرام بھی آپ سرکار ؐ کی محفل میں موجود تھے ایک شخص آیا اور سوال کیا کہ یارسول اللہؐ میں غریب آدمی ہوں میری مدد کریں آپؐ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے اس نے عرض کی یارسول اللہؐ میرے پاس ایک پیالہ اور ایک کمبل ہے آپ نے حکم دیا کہ وہ لے آو وہ شخص پیالہ اور کمبل لے آیا تو اللہ کے رسول نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ یہ چیزیں خرید لو تو صحابہ میں سے دو لوگوں نے وہ خرید لیں آپؐ نے اس غریب شخص سے فرمایا ایک کلہاڑی اور رسی خریدو اور لکڑیاں کاٹ کر اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالو ۔ اس واقعہ سے دو باتیں سمجھ آتی ہیں پہلی تو یہ آپ بھیک مانگنے والوں کو محنت کا درس دے رہے ہیں اور دوسرا اس زمانے کی ٹیکنالوجی کلہاڑی تھی اور ہر کام میں اوزار کا استعمال ہوتا ہے تو وہ اس دور کا ایک پیداواری آلہ بھی تھا.

آپؐ پر صحابہ جان قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے تو اگر ہمارے پیارے نبیؐ صحابہ کو حکم دیتے تو کیا وہ اس شخص کو پیسے نا دیتے پر آپ کا ہر عمل امت کے لیے ایک مثال ہے جس کی پیروی ہمارا فرض ہے اس واقعہ کے کئی پہلو ہیں لیکن دو پہلو بڑے واضح ہیں محنت اور وقت کے مطابق آلات پیداوار کا استعمال کرنا تاکہ عزت کی روٹی کمائی جاسکے ۔ جب مدینہ کی ریاست اپنے عروج پر پہنچی تو پھر بیوہ،یتیم،بوڑھوں اور معذوروں کو وظائف بھی ملنے لگے تاکہ غریب اور پسماندہ خاندان بھیک نا مانگنے لگ جائیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی فرماتے ہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بھیک مانگنے والے پیدا کیے جائیں بلکہ انہیں پاؤں پر کھڑا کیا جائے تاکہ معاشرہ میں خودار افراد پیدا ہوں ۔ لیکن ہمارے معاشرے میں امیر لوگ جس طرح سے راشن کپڑے یا کھانا تقسیم کررہے ہیں یہ معاشرے میں بھیک مانگنے والے پیدا کررہے ہیں

اگر آپ اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو صرف ایک بندے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں اس کے مددگار بن جائیں تو چند سالوں میں کوئی بھیک مانگنے والا ہمارے ملک میں نظر نہیں آئے گا ریاست اور عوام مل کر بھیک مانگنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں اور انہیں روزگار پر لگائیں بوڑھوں ،معذوروں ،بیوہ اور یتیم بچوں کو ماہانہ وظائف ریاست دے سرمایہ دار خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ساتھ ریاست کوٹیکس بھی دیں تاکہ حکومت عوامی فلاح کے منصوبے شروع کرسکے ۔ لنگر خانے اور تین ہزار ماہانہ دینے سے غربت ختم نہیں ہوگی بلکہ مزید بھکاری پیدا ہوں گے اس لیے گھریلو صنعت کا فروغ بہت ضروری ہے آئیے مل ایک نئی امنگ سے اپنی آنے والوں نسلوں کامستقبل سنواریں اور صرف ایک بندے کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کرنے میں اس کے مددگار بنیں
عبدالرحمن شاہ

اپنا تبصرہ بھیجیں