آؤ بازار چلیں

آؤ بازار چلیں۔ چلیئے بازاروں کی سیر کریں ۔ اور وہاں ملنے والی بہت سی چیزیں بھی دیکھیں۔ کراچی بہت بڑا شہر ہے ۔ اس لیے اس میں نئے پُرانے کئی بازار ہیں۔ مثلاً کھجور بازار، ایمپریس مارکیٹ ، بوہری بازار ، جوڑیا بازار ، مچھی اور میانی بازار وغیرہ۔ کراچی کی کھجور مارکیٹ:۔ دوکروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر کراچی کی ‘کھجور مارکیٹ’ کھجورکی خرید و فروخت کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ ایمپریس مارکیٹ :۔ ایمپریس مارکیٹ کا سنگِ بنیاد اس وقت کے بمبئی کے گورنر جیمز فرگوسن نے رکھا تھا۔

اس کا ڈیزائن مشہور انجینیئر جیمز سٹریکن نے بنایا تھا۔ لیکن کراچی میں انھوں نے کراچی میں سٹی پلاننگ کے کئی منصوبوں میں حصہ لیا، جن میں ایمپریس مارکیٹ کے علاوہ کراچی کے شہریوں کو بجلی کی سہولت دینے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ ایمپریس مارکیٹ کے بیچوں بیچ ایک صحن رکھا گیا جس کا رقبہ 100 فٹ ضرب 130 فٹ تھا۔ اس کے چاروں طرف چار گیلریاں تھیں جن میں سے ہر ایک 46 فٹ چوڑی تھی۔ تکمیل کے وقت اس مارکیٹ میں کل 280 دکانوں کی گنجائش تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دکانوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی، حتیٰ کہ اب یہ ہزاروں تک پہنچ گئی۔ ان کے علاوہ ایم اے جناح روڈ پر بھی بہت سی دوکانیں ہیں۔ گلشن اقبال ، طارق روڈ اور کلفٹن کی دوکانوں پر بھی ہر وقت بھیڑ رہتی ہے۔

لاہور کے خاص بازاروں میں انار کلی بازار سب سے زیادہ مشہور ہے ۔انارکلی بازار جنوبی ایشیاء کا قدیم بازار ہے جو دو سو سال سے زیادہ پرانا ہے۔ یہ لاہور کی مال روڈ پر واقع ہے۔اس کا نام مغلیہ عہد کے مشہور کردار انارکلی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ لاہور کا پرانا انارکلی بازار پہلے وجود میں آیا جب کہ بارونق اور نئے بازار کا قیام بعد کا ہے۔ لیکن بانو بازار ، لبرٹی مارکیٹ اور شاہ عا لمی بھی بہت مقبول ہیں۔کوئٹہ کے مشہور بازار لیاقت بازار٬ سورج گنگ بازار اور قندھاری بازار ہیں اس کے علاوہ جناح روڈ بھی اس میں شامل ہیں۔

پشاور کا قصہ خوانی بازار بہت زیادہ مشہور بازار ہے اس بازار کا نام دراصل یہاں کے روایتی قہوہ خانوں، تکہ کباب، چپلی کباب اور خشک میوہ جات کی دکانوں کے ساتھ جڑی اس تجارت سے منسوب ہے یہاں پر بانس، مٹھائیوں، فالودہ اور کانسی کے برتنوں کا بڑے پیمانے پر کاروبار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں اردو، پشتو اور فارسی کتب کی چھپائی کا کام بھی کیا جاتا ہے۔ پشاور کا صرافہ بازار ، کوچی بازار ، بورڈ بازار اور شفیع مارکیٹ بہت مشہور ہیں۔ حیدر آباد کی ریشم گلی ہے۔غرض آپ کسی بھی بازار میں چلے جائیں پر طرف خوب چہل پہل رہتی ہے اور ہر طرف رنگ برنگ کے کپڑے نظر آتے ہیں ۔ چونکہ پاکستان میں کپاس کثرت سے اگایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کپڑا بنانے کی بہت بڑی صنعت ہے۔ رِلی سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں بننے والی خوبصورت چادر ہے جو رنگ برنگے ٹکڑوں کو جوڑ کر بنائی جاتی ہے.

فرشی دریاں ، قالین ، گدے ، چمڑے اور لکڑی سے بنی چھوٹی بڑی چیزیں اور لکڑی پر کھُدائی کا باریک کام ہوتا ہے۔ تانبے اور پیتل کے برتنوں پر بھی نقاشی ، سنگ مرمر کی بنی ہوئی بہت سی چیزیں بھی بازاروں میں بکتی ہیں۔ سونے اور چاندی کے دلکش زیورات بنائے جاتے ہیں ۔ سیالکوٹ کا کھیلوں کا سامان دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں سرجری کے آلات بھی بنتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا کہ مٹی کے برتنوں اور کاغذ کے بنے کھلونوں سے لے کر قیمتی زیورات تک ہر چیز ہمارے بازاروں میں ملتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں