اسلام

بنی اسرائیل میں عورت کی حیثیت

بنی اسرائیل یہود اورعیسائیت کامجموعہ ہےلہذا ان دونوں اقوام میں عورت کی کیاحیثیت تھی بیان کرتےہیں۔یہودیت میں عورت کی حیثیت
یہودیت میں عورت کی خواہشات اور عزت نفس کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ دنیا بھر کے مذاہب میں یہودیت کا ایسا مذہب ہے جو صرف چند عقائد ونظریات ہی نہیں کرتا بلکہ ان کی بنیاد پر زندگی کے عملی مسائل پر تفصیلی بحث کرتا ہے۔ توقع ایک ایسے مذہب سے کی جاسکتی تھی کہ وہ عورت کے بارے میں حقیقت پسندانہ خیالات کا اظہار کرے گا لیکن وہ یہ تصور رکھتا ہے کہ مرد نیک سرشست اور نیک کردار ہے اور عورت بدنیت اور مکار۔

نظریہ یہود کے مطابق آدم ؑ خدا کے فرمانبردار تھے اور جنت میں عیش کی زندگی بسر کررہے تھے۔ لیکن ان کی بیوی حوا نے ان کو شجر ممنوعہ کا پھل کھلادیا۔ نتیجتاً وہ خدا کی نعمتوں سے محروم ہوگئے۔ اور ان کو مشقت اور تکلیف کی زندگی نصیب ہوئی۔ عہد نامہ قدیم میں ہے جب خداتعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے دریافت کیا ’’کیا تو نے اس درخت کا پھل کھایا؟ جس کی بات پر میں نے تجھ کو حکم دیا تھا کہ اسے نہ کھانا! توآدمؑ نے جواب دیا کہ ’’جس عورت کو تو نے میرے ساتھ کیا ہے۔ اس نے مجھے اس درخت کا پھل دیا اور میں نے کھایا‘‘ تو اس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے حو اسے کہا: میں تیرے درد حمل کو بہت بڑھاؤں گا تو درد کے ساتھ بچے جنے گی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہوگی اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا۔یہود کے نزدیک عورت مال ومتاع اور جانوروں کی طرح خریدی اور بیچی جاسکتی ہے۔

انکے عقیدے میں عورت فطرتاً ناپاک تھی جو عورت لڑکا جنتی وہ محض سات دن ناپاک رہتی اور باقی تینتس دن وہ طہارت کے استعمال کے لیے دن پورے کرتی، اور چالیس دن تک عبادت گاہ میں اسکا آنا جانا ممنوع ہوتا اور جو عورت لڑکی جنتی اسے اس سے دوگنی مدت دن گزارنے پڑتے اور وہ دوگنے دن ناپاک سمجھی جاتی، یہ قانون بھی مردوں کی عورت پر فضیلت کے عقیدے کی ایک کڑی تھی۔ اگر کوئی شخص بے اولاد مرجاتا تو اس کا نام اسرائیل میں باقی رکھنے کے لیے لازمی قرار دے رکھا تھا کہ:

اس کی بیوہ کا نکاح کسی دوسرے آدمی سے نہ کیا جائے بلکہ اس کے شوہر کے بھائیوں میں سے کوئی اس سے خلوت کرکے اسے اپنی بیوی بنائے اور بھاوج کا حق ادا کرے۔ اس سے ہونے والا پہلا بچہ متوفی بھائی کے نام منسوب ہوگا اور مرنے والا کا نام اسرائیل سے مٹ نہیں پائے گا۔ اگر بھائیوں میں سے کوئی اس عورت کا شوہر بننے سے انکار کرے تو اس عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ ججوں کے سامنے اپنی جوتی اس کے نزدیک نکالے اور اس کے منہ پر تھوک دے اور کہے کہ ’’اس شخص کے ساتھ جو اپنے بھائی کا گھرنہ آباد کرے یہی کیا جائے گا، اور اس کا نام یہ رکھا جائے گا کہ یہ اس شخص کا گھر ہے جس کا جوتا اتارا گیا ہے۔ یہودیت عورت پر ظلم کی انتہا کردی گئی تھی۔ مرد کو ایک وقت میں کئی بیویاں رکھنے کی چھوٹ تھی۔ وراثت میں ان کا کوئی حصہ نہ تھا۔

مذہبی عقائد کے مطابق عورت عبادت کی حق دار نہیں ہے۔ انہی نظریات کی بناء پر عورت بہت سے مذہبی، عائلی اور معاشرتی حقوق سے محروم ہے اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہودی معاشرے میں عورت کو پسماندہ اور کمزور رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ عیسائیت میں عورت کی حیثیت شریعت عیسوی میں عورت کو باوقار مقام دینا مقصود تھا۔ عیسائی مذہب میں عورتوں سے متعلق احکام ہیں۔ مرد کو نہ چاہے کہ وہ اپنے سرکو ڈھانپے کیونکہ وہ خدا کی صورت اس کا جلال ہیں۔

مگر عورت مرد کا جلال ہے۔ اس لیے کہ مرد عورت سے نہیں بلکہ عورت مرد سے ہے اور مرد عورت کے لیے نہیں بلکہ عورت مرد کے لیے ہے۔ ترتولیاں (جو مسیحت کے اولین آئمہ میں سے ہیں) نے عورت کے متعلق کہا کہ وہ (عورت) شیطان کے آنے کا دروازہ اور شجر ممنوعہ کی طرف لے جانے والی ہے اور خدا کے قانون کو توڑنے والی اور خدا کی تصویر مرد کو غارت کرنے والی ہے۔ اسی طرح کرائی سوسسٹم ے عورت سے متعلق کہا ہے کہ وہ ایک ناگزیر برائی، ایک پیدائشی وسوسہ، ایک مرغوب آفت، ایک خانگی خطرہ، ایک غارت گردلربائی، ایک آراستہ مصیبت ہے۔ ڈاکٹر اسپرنگ نے لکھا ہے: ۱۵۰۰ء میں انگلستان میں عورتوں کو سزا دینے کے لیے ایک خاص مجلس وضع کی گئی جس نے ’’عورتوں‘‘ پر ظلم کرنے کے لیے جدید قانون وضع کئے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ’’عیسائیوں ‘‘نے نوے لاکھ عورتوں کو زندہ جلایا۔

ایک اور نظریے میں عیسائیوں کے نزدیک عورت اور مرد کا تعلق بجائے خود ایک نجاست اور قابل اعتراض چیز ہے، خواہ وہ نکاح ہی ہو۔ اخلاق کا یہ راہبانہ تصور پہلے اشرافی فلسفہ کے زیر اثر مغرب میں موجود تھا۔ مسیحت نے آکر اسے ازحد کردیا۔ بعد میں ایسا دور آیا کہ لوگ ازدواج سے پرہیز کو ہی تقوی اور تقدس کی علامت سمجھنے لگے۔ پاک مذہبی زندگی گزارنے کے لیے ضروری تھا کہ انسان شادی نہ کرے۔ اگر کر بھی لے تو میاں بیوی آپس میں زن وشونی کا تعلق نہ رکھیں۔

ان نظریات کی وجہ سے معاشرے میں عورت کی حیثیت بہت زیادہ گر گئی۔ کلیسا میں عورت کی حیثیت یہاں تک گرادی گئی کہ ۵۸۱ء میں آئمہ کلیسا کی مجلس منعقدہ کو لون میں اس بات پر زور دار بحث ہوئی کہ عورت انسان بھی ہے یا نہیں۔ بڑی ردوقدح کے بعد اس معمولی اکثریت کے بعد انسان تو مان لیا گیا۔ مگر کس درجے کا انسان مانا گیا، زیر نظر اقتباس سے واضح ہوتا ہے۔ عیسائی عورت کو نجاست کی پوت، سانپ کی نسل، منج شر، برائی کی جڑ، جہنم کا دروازہ وغیرہ کے القابات سے یاد کرتے تھے۔ ان عقائد اور معاشرے کی جھلک ہے جس میں مسیحی عورت یہودی عورت سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔

نیوز فلیکس 27 فروری 2021

ANWAR UL HAQ

انوارالحق عباسی پی ایچ ڈی (اسلامک سٹدیز) سکالر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
نوٹ: اگر آپ اپنی پروڈکٹس،سروسز یا آفرزکا مفت اشتہار لگوانا چاہتے ہیں تو نیوزفلیکس ٹیم، عوام تک آپ کا پیغام پہنچانےکا موقع فراہم کر رہی ہے. شکریہ_ اپنا پیغام یہاں لکھیں
error: Content is protected !!

Adblocker Detected

Note: Turn Off the AdBlocker For this Site