تاریخسائنس اور ٹیکنالوجی

تصویروں کی حرکت نے ایڈیسن کی کس ایجاد سے پردہ اٹھایا؟

ٹامس ایڈیسن نیٹ 6اکتوبر کو اپنی تجربہ گاہ میں نئے ایجاد کے مظاہرے کا انتظام کیا جسکے نام نے نیٹ ورک کو پرکھا اور آج دنیا میں یہ سینما کے نام سے مشہور ہے یہ اس طرح کی ایک مشین تھی جیسے آج کل بعض لوگ کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں اور اسے بین کہا جاتا ہے بس جہاں کسی نے چند پیسے دیے مشین زمین پر رکھی اور چند منٹ کے لئے تصویروں کا تماشہ دیکھا دیا ایڈیسن نے اس وقت اس ایجاد کو اہمیت نہ دیں دراصل وہ چاہتا تھا کہ بولنے والی مشین ایجاد کرکے ملک کا ہے.

اس کے ساتھ ساتھ تصویریں بھی دکھائی جائیں اس کی گویا اس نے چالیس سال پیشتر بولنے والی فلموں کا تصور قائم کر لیا تھا دو سال بعد اس نے اپنے بنائے ہوئے کیمرے کو رجسٹر کرایا اور قانونی نیویارک شہر کو پہلے پر متحرک تصویر دیکھنے کا شرف حاصل ہوا متحرک تصویر تیار کرنے والے کے لیے سنو سلائیڈ کے ایک فیصلے پر ایسے مسالے لگائے جو روشنی کا اثر ٹھیک بول کر سکتے تھے اور اس کا نام فلم رکھا تصویروں کے متحرک اور چلتے پھرتے نظر آنے کا راز یہ ہے کہ تصویر سیکنڈ کے ایک حصے کے لیے عام کے پردے پر جمی رہتی ہے پھر بہت ہی قلیل وقفے تک کوئی تصویر سامنے نہیں ہوتی اس کے بعد دوسری تصویر سامنے آجاتی ہے اس طرح ہے چلتا پھرتا سلسلہ نظروں کے سامنے قائم ہو جاتا ہے آج کل کے متعلق تصویروں کی فلم ایک کڑی پر لپٹی ہوتی ہے .

اور ایک جانب کی تلخیاں سے تیز روشنی میں کھلتی تھیں اور دوسری جانب چرسی پر لپٹی جاتی ہے تو سامنے آ کے برابر سمجھنا چاہیے ایڈیسن کی ایجاد سے متحرک تصویروں کی سند جاری ہوئی اس صنعت میں محض تفریحی مشاغل ہیں میں انقلاب پیدا نہیں کیا بلکہ اب فلمیں تعلیم دینے کا بھی ایک مؤثر ذریعہ بن گئی ہے.

نیوز فلیکس 03 مارچ 2021

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button