تاریخ

شاہی قلعے لاہور کا طلسماتی حمام! سائنس آج بھی حیران

پہلے دور میں لوگ اپنی موت کے بارے میں سوچتے تھے۔ وہ اپنی آخرت کے بارے میں سوچتے تھے۔وہ اپنے کاموں سے زیادو اللہ تعالی کی عبادت کرتے تھے ان کو دنیا سے کم لگن ہوتی تھی اور اپنی آخرت کی تیاری کرتے تھے۔لیکن آج ہماری ساری محنت دنیا پر ہے ساری محنت مخلوق پر ہے۔ہم اپنا سارا وقت کمپیوٹر پر کزار دیتے ہیں۔ ہم اپنی ساری محنتیں مخلوق پر کرتے ہیںتو ہماری محنتیں مخلوق پر ہوئیں خالق پر نہیں ہوئیں۔ پہلے دور میں لوگ ساری محنت خالق پر کرتے تھے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ جلد اللہ پاک انہیں بہت زیادہ عطا کر دیتے تھے ۔

آج کے سائنسدان اس دور کا مقابلہ کھبی نہیں کر سکتے۔شاہی قلعہ جب انگریزوں نے لوٹ لیا تو قلعے کے اندر ایک حمام تھا۔جس سے گرمیوں میں ٹھنڈا پانی نکلتا تھا اور سردیوں میں گرم پانی نکلتا تھا۔پانی کدھر سے آتا تھا کوئی سمجھ نہیں تھی آتی۔بڑے بڑے ماہرین کو اس حمام کی تحقیق کرنے کو کہا گیا۔لیکن سب ماہرین اس کی تحقیق کرنے کے باوجود اس مقصد تک نہ پہنچ سکے۔ آخر کار انہوں نے سوچا کہ اس حمام کو توڑا جائے۔جب حمام کو توڑا گیا تو دیکھا کہ وہاں ایک چراغ جل رہا ہے۔ اب وہ چراغ کیسے جلتا ہے کیوں جلتا ہے اس کا بھی کچھ پتا نہیں اور اس کے لیئے تیل کہاں سے آتا ہے کچھ پتا نہیں چلا ۔اور پھر جل بھی ایک خاص سمت میں رہا تھا۔ تو پیارے بہن بھائیوں تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جو چاہے کر سکتا ہے اس کا علم کامل ہے بندوں کا علم ناقص ہےاس دور کی ساری پرانی ریسرچ اور پرانی تحقیق کتابوں میں موجود ہے۔اور وہ ساری کی ساری کامل ہے آج کا سائنسدان اسے کھبی جھوٹا ثابت نہیں کر سکتا۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟

اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ لوگ صرف اللہ پر یقین رکھتے تھے اور اپنا زیادہ وقت اللہ کی عبادت میں گزارتے تھے۔جس چیز کی انسان زیادہ خواہش کرتا ہے اللہ اس چیز اللہ اس چیز کی خاصیت کو بندے کے سامنے کھول دیتا ہے۔تو اللہ تعالی نے ان کے دل اور سینوں کو کھول دیا.ہم سب کو اس دنیا سے جانا ہے ہمیں اپنی آخرت کی تیاری کرنی چائیے بجائے اس کے کہ ہم اپنا سارا وقت اپنے کاموں میں ہی گزار دیں .اللہ تعالی ہم سب کو آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے .آمین ثم آمین

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button