خواتین

حوصلے اور ہمت کی عظیم مثال ہیلن کیلر

ہیلن ۲۷جون ۱۸۸۰ کو امریکی ریاست الباط کے ایک قصبے میں پیدا ہوئی۔پہلے یہ بلکل ٹھیک تھی جیسے سب بچے بچپن میں نارمل ہوتے ہیں لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد جب یہ۱۹ ماہ کی ہوئی تو اسے ایک بیماری لگ گئی جس نے ہیلن کو قوت سماعت،قوت گویائی اور آنکھوں کی روشنی سے محروم کر دیا۔ جب ہیلن تعلیم حاصل کرنے کی عمر کو پہنچی تو والدین اپنی بچی کےلیے سخت پریشان تھے۔ انکی خواہش تھی کہ تعلیم کی کوئی صورت پیدا ہو جائے، اسی خواہش میں ہیلن کی والدہ کی ملاقات ایک دن گراہم بیل سے ہوئی، اس نے ایک خصوصی سکول کا پتہ دیا۔ والدہ بچی کو لےکرپرکنس سکول جاتی ہیں جو نابینا افراد کے لیے مخصوص ہے۔ سکول کے ڈائریکڑر ان کی ملاقات ایک استانی عینی سیلوان سے کراتے ہیں۔

ہیلن کی ٹیچر عینی نے گھر کے اندر ہی اسے تعلیم دینا شروع کی۔عینی کی انتھک محنت کے بعد ۱۸۸۸ میں ہیلن باقاعدہ سکول جانے لگتی ہے۔ وہاں اس کی ملاقات اپنے جیسے بہت سے نابینا بچوں سے ہوتی ہے، جن سے مل کر اس کے اندر بہت حوصلہ پیدا ہوا۔ اس کے بعد ہیلن نے بریل کی مدد سے تعلیم حاصل کرنا شروع کی،یہ ایک ایسی ایجاد ہے جس سے نابینا افراد اپنی انگلیوں کے لمس سے محسوس کر کے پڑھتے ہیں، اسی طرح بریل پر پن کی مدد سے نقطے بنا کرنابینا افراد لکھتے بھی ہیں۔اس کی مدد سے ہیلن نے پڑھنا لکھنا سیکھا اورباقاعدہ خطوط لکھنا شروع کیے ۔ ۱۸۹۰ میں ہیلن کی ٹیچر عینی نے کچھ خاص مشقیں کروانا شروع کیں جن کی مدد سے ہیلن انگریزی کے حروف تہجی کے مختلف الفاظ کی آوازیں نکالنے لگی۔ ہیلن دوسرے لوگوں کے ہونٹوں پر اپنی انگلیاں رکھ کر بولنا سیکھی۔ ہیلن ۱۸۹۴ میں دو سال راہیٹ ہماسین ڈیف سکول نیویارک سے تعلیم حاصل کرتی ہے۔ ۱۹۰۰ میں ہیلن نے یونانی، لاطینی اور جرمن زبانوں کے ساتھ الجبرا اور جیومیٹری کے امتحان پاس کیے۔ ۱۹۰۴ میں ۲۴ سال کی عمر میں ہیلن ریڈکلف یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرتی ہے۔

ہیلن کے ایک انٹرویو سے جس میں اس کی خواہشات اور جذبات کا اندازہ صرف تین دن کے لیے آنکھوں کی بینائی کی طلب سے لگایا جا سکتا ہے۔ میں نے اکثر سوچا کہ اگر انسان سے کچھ لمحوں یا کچھ دنوں کے لیے سماعت اور بصارت لے لی جائے تو یہ اس کے لیے رحمت کا باعث بنے گی۔ اندھیرا اسے بصارت کی قدر کرنا سکھائے گا اور خاموشی آواز کی خوشیوں کا سبق دے گی۔ اکثر میں نے اپنے بصارت والے دوستوں کو آزمایا کہ وہ کیا دیکھتے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے اپنے ایک سیر کر کے آنے والے دوست سے پوچھا کہ اس نے کیا دیکھا؟ اس نے جواب دیا کچھ خاص نہیں۔

میں نے خود سے سوال کیا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک گھنٹہ جنگل میں سیر کے باوجود بھی کچھ غور کرنے کے قابل نہی تھا۔ میں جو کچھ بھی نہی دیکھ سکتی سیکڑوں چیزیں صرف چھو کر ہی محسوس کر لیتی ہوں۔ اس وقت میرا دل رو پڑتا ہے ان سب چیزوں کو دیکھ سکنے کی خواہش کی وجہ سے۔ اگر میں صرف چھونے سے اتنا لطف اندوز ہو سکتی ہوں تو ان سب کو دیکھنا کتنا پرکیف ہو گا۔ میں نے تصور کیا اگر تین دن کے لیے ہی مجھے آنکھیں عطا کر دی جائیں تو پہلے دن میں ان لوگوں کو دیکھنا پسند کروں گی جن کی محبت اور رحمدلی کی وجہ سے میری زندگی اتنی خوبصورت ہوئی، میں وہ کتاب پڑھنا چاہوں گی جو میرے لیے پڑھی گئی ہو، دوپہر کے بعد میں جنگل کی سیر کرنا چاہوں گی اور اپنی آنکھوں کو کائنات کے حسن سے مسحور کرنا چاہوں گی، میں رنگدار غروب ہوتے سورج کی عظمت کو سلام کرنا چاہوں گی۔ اس رات میں سو نہ سکوں گی۔اپنے دوسرے دن میں انسانی ترقی کا مقابلہ دیکھنا چاہوں گی، میں انسانی روح کی کھوج اسکے فن سے لگانا چاہوں گی۔ وہ چیزیں جنہیں میں چھو کر جانتی تھی اب میں دیکھ سکوں گی اور اس دن کی شام میں کسی تھیٹر یا سینما میں گزارنا پسند کروں گی۔ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں اگر آپ بینائی کے بغیر چند دن بھی گزار چکے ہوں تو آپ اپنی آنکھوں کوایسے استعمال کریں گے جیسے کبھی نہی کیا ہو گا۔ آپ کی آنکھیں ہر اس چیز کو دیکھنا چاہیں گی جو ان کی دسترس میں آنا ممکن ہو گی، تب ہی آپ کو صحیح معنوں میں آنکھوں کی قدر ہو گی اور اس عظیم نعمت کو شناخت کر سکیں گے۔

اگلی صبح میں طلوع آفتاب سے دوبارہ ملنا چاہوں گی اور فطرت کی نئی رنگینیاں دریافت کرنے اور خوبصورتیاں آشکار کرنے کو بے چین ہوں گی۔ آج اس تیسرے دن کو میں روزانہ کی دنیا جیسا گزاروں گی اور پھر آدھی رات کے بعد ایک مستقل اندھیرا پھر سے چھا جائے گا اور پھر یہی تاریکی مجھے احساس دلائے گی کہ میں نے کتنی انگنت چیزیں چھوڑی ہیں۔ میں جو نابینا ہوں آنکھوں والوں سے کہنا چاہوں گی اپنی آنکھوں کو ایسے استعمال کریں جیسے آپ کل اس نعمت سے محروم ہونے والے ہیں۔ پرندوں کے گیت اور آوازوں کو سنیں، کسی پیانو کی آواز وہ بھی اتنی توجہ سے جیسے آپ کل بہرے ہونے والے ہیں۔ ہر چیز کو چھو کر محسوس کریں جیسے آج ہی کے لیے آپ کو نوازا گیا ہے۔ پھولوں کی خوشبو کو الگ الگ محسوس کریں جیسے آج کے بعد آپ محسوس کرنے اور چکھنے سے محروم ہونے والے ہیں۔ ہر حس کو بھرپور استعمال کریں اور انکی خوبصورتی اور عظمت کے لیے شکر گزار بن جائیں، کیونکہ انہی کی مدد سے آپ وسیع کائنات کو دیکھ پا رہے ہیں، لیکن میرے نزدیک ان سب میں سے خوبصورت احساس دیکھنے کا احساس ہے۔

بلند حوصلوں کی مالک ہیلن نےہر اندھیرے،بےبسی اورمشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس کا روشن چہرہ فقط دنیا کو خوشی کے آنسو ہی دکھاتا رہا۔ ہیلن کیلر کی کہانی ہم سے یہ تقاضہ کرتی ہے کہ ہر نعمت کے لیے ہم اپنے رب کے ہمیشہ شکرگزار رہیں۔ ہیلن کیلر نے ۸۸ سال کی طویل عمر پائی اور ۱۹۶۸ میں گھر میں سوتے ہوے وفات پائی.

Show More

Related Articles

3 Comments

  1. بیشک اللہ کے شکر میں ہی کامیابی ہے۔ ہیلن کی کامیابیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔

  2. Helen Keller was a conscientious and good thinker. I think if every person in the world lived with such thoughts and actions, then this world would really become a paradise.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button