معاشیات

ہمارا قومی المیہ

جب حکمران بے حس ہو جائیں,ملک میں بےروزگاری اور مہنگائ بڑھ جاۓ,لاقانونیت کو ملک کے صدر سے لیکر ایک عام آدمی تک نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہو, رشوت ستانی, سفارش, جعلسازی, دھوکہ دہی دروغ گوئ دھونس دھاندلی چوربازاری لوٹ مار ڈکیٹی غبن کنبہ پروری حق تلفی ناانصافی عیاش پرستی حرام کاری کام چوری اور سہل پرستی جب حکمرانوں رہنماؤں منتظمین اور سرکاری افسران کا وتیرہ بن چکی ہو۔ جب صدر وزیراعظم وزراء مشیران منتظمین سیاستدان اور اعلی افسران سے لیکر چپراسی تک عوام اور ملکی خزانوں کو لوٹنے میں مصروف ہو جایئں جب سیاستدان اور عوامی راہنما اقتدار کے حصول کےلئے ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوں۔

ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے تمام حکومتی و سرکاری ادارے خسارے میں جا رہے ہوں اور ان اداروں کے منتظمین بجٹ پر ہاتھ صاف کرنے میں لگے ہوں۔ سرمایہ کاروں کے لیۓ حالات ناسازگار ہوں اور سرمایہ دار اپنا سرمایہ باہر منتکل کر رہا ہو غرض اقتصادی تنزلی معاشی پستی افراط زر صنعتی زوال دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم سردبازاری خوراک کی قلت زخیرہ اندوزی اور مزدور کا استحصال ملک کا مقدر بن چکی ہوں۔ جب مذہب اور دین کو قدامت پرستی سمجھ کر چھوڑ دیا جاۓ اس کی تعلیمات سے دوری اختیار کر لی جاۓ یا اس پر عمل کرنے میں سستی برتی جا رہی ہو بلکہ الٹا دین پر کیچڑ اچھالا جارہا ہو اور جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف مزید یہ کہ دین کے علماء کا دین کے نام پر دولت اور اقتدار کے لیۓ تگ وداؤ کرنا اور عبادت گاہو کی آڑ میں چندہ مانگنے جیسے شرمناک افعال کا دور دورہ ہو۔ آیئن اور قانون کی پاسداری بےعزتی اور مذاق بن چکی ہو۔ مذید بڑھ کر یہ کہ آیئن اور قانون کی خلاف ورزی پر استثنی مانگا جا رہاہو۔ اپنی ہی عوام پر غیرملکی فوجوں اور ایجنسیوں کے ذریعے آپریشن ہو رہے ہوں اور اپنے ہی لوگوں کو غیر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھوں فروخت کیا جا رہا ہو۔ عوام بھوک اور افلاس اور غیر یقینی حالات پر چیخ و پکار کر رہے ہوں اخبارات کے صفحات روزانہ کی وارداتوں سے بھرے پڑے ہوں مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی ہو اور وہ ایسے لاپرواہ ہوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو بلکہ وہ اپنے اقتدار کو طول دینے میں لگے ہوے ہوں اپنے جانشینوں کے لیے جگہ بنانے پر تلے ہوے ہوں چوروں ڈکیٹوں غنڈوں ظالموں اور بدمعاشوں کی پشت پناہی کررہے ہوں

بلکہ خود انہی میں سے اکثر چور ڈکیٹ غنڈے بدمعاش اور ظالم ہوں اور منصف کے عہدۂ جلیلہ پر تعینات افراد انصاف کا ہی بےدردی سے قتل کرنے میں مہارت رکھتے ہوئے اپنے فن کا بےدریغ استعمال کرتےہوں اور اسے اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوں تو سمجھ نہی آرہا دل دماغ مفلوج ہو رہے ہیں ہاتھ شل ہیں اور آنکھیں اشکبار کہ کیا لکھوں کس کو موضوع بناوں اور کسے مخاطب کروں۔ ہاتھ کانپ رہے ہیں قلم چھلنی ہے سر شرم سے جھکا ہوا ہے کہ آخر یہ سب ہماری ہی قسمت میں کیوں۔

ضمیر بار بار ملامت کرتا ہے کہ جب دین اور مذہب سے دوری اغیار کی غلامی اور انکی ثقافت تہذیب و تمدن کو اپنانے اور ان کی زبان کو استعمال کرنے پر فخر محسوس کرنا عورتوں کی بےحرمتی کرنا اور ان کو ہوس کا نشانہ بنانا عورتوں کا گھروں کی بجاۓ بازاروں اورگلیوں کی زینت بننا غیرمحرموں سے بے تکلفی اپنانا سیکولرزم کو فروغ دینا اپنی غلطیوں کو نظرانداز کرنا اور دوسروں پر تنقید کرنا دنیا کے پجاریوں کی پیروی کرنا ذہنی طور پر ان کا غلام ہونا اور ان پر جان چھڑکنا اپنے اصلاف کو بھلا دینا ملکی اور قومی تاریخ کے اہم کرداروں سے نابلد ہونا ادب اداب کو بھول جانا فیشن کی دوڑ میں شامل ہونا ایجادات کا غلط استعمال کرنا امیر اور غریب میں فرق برتنا ظالم کے سامنے حق بات کہنے سے ڈرنا بلکہ الٹا اس کی مدد کرنا جھوٹی شھادتیں دینا نہی عن المنکر سے آنکھیں پھیر لینا قانون کی خلاف ورزی کرنے میں فخر محسوس کرنا حتی کہ ہر طرح کی معاشرتی برائیوں میں ہر شخص کے ہاتھ رنگے ہوں گے تو حکمران بھی ہمیں عذاب الہی کی صورت میں ایسے ملیں گے اور یہی حالات بھی ہمارا مقدر اور نصیب ہوں گے پھر ان حالات سے نکلنے کے لیۓ سیاسی گرؤں پر اندھا اعتقاد کام نہی آئیگا جو میری قوم کا طرۂ امتیاز ہے کہ کبھی تو روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے پر مر مٹتے ہیں کبھی نظام کی تبدیلی کے نعرے پر اور کبھی سیاست نہیں ریاست بچاؤ جیسے نعروں پر سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ اگر تبدیلی چاھتے ہو تو آغاز خود سے کرو ورنہ تبدیلی تمہارے لیۓ خواب بن جاۓگی اور تم دوسروں کے ہاتھوں کھلونا۔

Show More

Related Articles

2 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button