ادب

کتاب سے تعلق ٹوٹنے نہ پائے

وقت ہے کہ بدلتا چلا جاتا ہے، اور زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے انسان جو کبھی جنگل کا باسی ہوا کرتا تھا اس نے آج چاند پہ قدم جمانے اور مریخ پہ ڈیرہ ڈالنے کے دعوے و وعدے کرنا شروع کر دئیے ہیں_ مہینوں کا سفر گھنٹوں میں ہونے لگا ہے اور ہزاروں میل دور بیٹھے انسان ایک کلک کے فاصلے پہ ہیں__

مزید بر آں انٹرنیٹ کی ایجاد نے تہلکہ مچایا اور اتنی بڑی دنیا کو سمیٹ کر ایک گاؤں میں بدل دیا_انسان نے جسمانی تھکاوٹ کے لئیے روبوٹ ایجاد کر لئیے ہیں تو دماغ کا بوجھ کم کرتے ہوئے حساب و کتاب کو کمپیوٹر سسٹم پہ منتقل کر دیا_ انٹرنیٹ نے بلاشبہ ہمیں سہولیات کا ایک نا ختم ہونے والا ذخیرہ فراہم کیا ہے اور ہمارے کام آسان کر دئیے ہیں لیکن سچ بات تو یہ ہے کہ انسان سہل پسند ہونے کے ساتھ ساتھ روحانیت کی چاشنی و مٹھاس سے محروم ہوتا جا رہا ہے_

کوئی شک نہیں ایک وقت تھا کہ کتابیں اور ناول پڑھنے کے لئیے جیب خرچ یا ایسا دوست رشتہ دار ڈھونڈا جاتا کہ جو کتابیں پرھنے کا شوقین ہو اور اس سے ناول مستعار لیا جاتا یا پھر لائبریری کا سفر کرنا پڑتا جو ہر چھوٹے بڑے شہر میں اور بالخصوص گاؤں میں تو لائبریری کا ملنا محال تھا لیکن اب ہم چند سیکنڈ مین صرف ایک کلک پہ دنیا جہاں کی ہر کتاب باآسانی پڑھ لیتے ہیں_

لیکن سکے کا دوسرا رخ دیکھیے تو جدیدیت،مادیت اور سہولت کی فراوانی نے روحانیت، اہمیت اور قدر و احساس سے ہمیں کوسوں دور کر دیا ہے_ ایک کہانی یا کتاب جو ہم پیسوں سے. دوست سے مانگ کر یا لائبریری سے لیکر پڑھتے تھے .تو نا صرف کتاب سے محظوظ ہوتے بلکہ اس کتاب کی اہمیت بھی پیشںِ نظر ہوتی تھی. جو لطف گاؤ تکیہ لگائے، لحاف میں دبکے اور ڈرائی فروٹ کیساتھ ناول پڑھنے میں آتا تھا. وہ لیپ ٹاپ یا موبائل سے پڑھنے میں دور دور تک بھی نہیں ملتا.سب سے پہلے تو کتاب کا دیدہ زیب سرِورق اپنی طرف کھینچتا تھا. اور پھر کتاب کھولنے پہ جو سوندھی خوشبو آتی تھی وہ آج بھی دل و دماغ میں رچ بس کر یادوں کا .خوبصورت جھونکا ثابت ہوتی ہے__

مجھے یاد ہےمیں ان دنوں تلسی کھانے کا شوقین ہوا کرتا تھا. میرا کتاب پڑھنے کا طریقہ یہ ہوتا کہ میں ہدف بناتا تھا. اور بہت سے صفحات آگے پلٹ کر تلسی رکھ دیتا .کہ جب میں یہاں تک پہنچوں گا تو میں نے یہ تلسی کھانی ہے. اور پھر تلسی یا ٹافی تک پہنچتے ہوئے میں اس ناول کی طلسماتی وادیوں میں لفظوں سے بنے قالین پہ اڑتے ہوئے ناول کے ہیرو کے ساتھ ناول کی سیر سے لطف .اندوز ہوتا تھا__

میں کتاب کو درمیان میں سے کھولتا اور سوچتا تھا کہ کسی وقت تو میں یہاں بھی پہنچ چکا ہوں گا .اور پھر نشانی کے طور پہ وہ جگہ فولڈ کر لیا کرتا تھا. اور جب اس مقام پہ پہنچتا تو انجانی خوشی ملتی__ مشاہدات و تجربات کی بنیاد پہ میرا یہ ماننا ہے کہ جتنا وقت ہم کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں. لیپ ٹاپ یا کتاب پہ ہم اسکا تین چوتھائی بھی نہیں پڑھ پاتے_ کتاب سے مطالعہ کرتے ہوئے سکون .محسوس ہوتا ہے. اور طبیعت ہشاش بشاش ہوتی ہے جبکہ سوفٹ کاپی انسان کو الٹا تھکا دیتی ہے_

لیکن وقت کا تقاضا ہے اور ضرورت بھی ہے تو ہمیں وقت کے ساتھ چلتے ہوئے خود کو جدید چیزوں کا عادی بننا پڑتا ہے،.بس لازم .یہ ہے کتاب سے تعلق ٹوٹنے پائے اور اس سے رشتہ جڑے رہنا چاہئیے__

#ابوہریرہ

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button