افسانے

محبت زندگی یا موت؟

محبت زندگی یا موت؟
؂ دل کے قصے میں ہماری پھر سے ہار ہوئی
ایسا کئی بار ہوا ہمیشہ ہر بار ہوئی
کیسا لگا میرا شعر؟
زویا نے پوچھا اپنے سامنے بیٹھی زرمین سے۔ زرمین مسکراتے ہوئے اپنے اُبرو کو جنبش دی اور کہا
“تمہارے جیسا ہی ہے۔” (زویا پیارے سے زرمین کو زمی پکارتی ہے۔)
زمی میں تم سے ملنے آئی ہون وہ بھی اتنی سردی میں اور تم ہو کہ اس پینٹگ میں بزی ہو۔ ویسے ایک خبر ہے تمہارے لیے، مجھے پھر سے محبت ہوگئی ہے۔
زرمین نے زویا کی بات سن کر ہنسنا شروع کردیا اور کہا زویا پچھلے دس سال میں غالباً چھ سات دفعہ تم یہ اعزاز حاصل کرچکی ہو ۔ زویا نے کہا”اس بار سچی محبت ہے”
“کیا محبت بھی جھوٹی ہوتی ہے؟ زویا مجھے اچھی طرح یاد ہے تمہیں چودہ پندرہ سال کی عمر میں پہلی محبت ہوئی تھی اور آج دس سالوں بعد چھٹی یا ساتویں بار یہ اعتراف تم نے پھر کیا ہے۔”
زرمین نے کہا !
یہ فائنل ہے ہفتہ پہلے پارک میں اُس سے ملاقات ہوئی مجھے رافع اچھا لگا تھا۔ تیسری ملاقات میں اُس نے دل کی بات کہہ دی ، کل اس نے اپنے والدین کو بھیجا تھا امی ابو کو رافع پسند آیا ہے اس کے پاپا کو میرے پاپا پہلے سے بھی جانتے ہیں انھوں نے فوراً ہاں کہہ دی۔
زویا نے پوری تفصیل ایک رپوٹر کی طرح دے دی۔
زویا تم نے ہمیشہ دماغ سے محبت کی ہے ، تم لوگ محبت کے معیار دیکھتے ہو، خوب صورتی کا معیار پھر خاندانی رتبہ مقام اگر وہ لڑکا تمہارے معیار پر پورا اتر جائے تو پھر تمہاری شرطیں شروع ہوجاتی ہیں۔ محبت عقل سے عقل والوں کے ساتھ نہیں کی جاتی بلکہ محبت دل رکھنے والوں کے ساتھ ہوجاتی ہے۔ زرمین نے سنجیدگی سے کہا
زمی ایسی محبت صرف کتابوں میں ملے گی ۔ حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ چھ بار کا تجربہ ہے۔ تین لڑکے مجھے صرف اس لیے چھوڑ گئے کہ انھیں مجھے سے زیادہ امیر اور اچھی لڑکیاں مل گئیں تھیں۔ زویا نے افسردگی سے جواب دیا۔
زرمین مسکرائی اور بولی : دو دفعہ تو تم نے گھروالوں کو خود کشی کی دھمکی دی تھی۔ ایک دفعہ نیند کی گولیاں بھی کھالیں تھیں۔ وہ کیا تھا؟
چھوڑو دفعہ کرو پرانی باتیں تم چائے کا بولو ساتھ کچھ کھانے کو بھی ہو۔ زویا نے مزید شرمندگی سے بچنے کےلیے جلدی سے بات بدل دی۔
زرمین اور زویا بچپن کی دوست تھیں ۔ ابا پاک فوج میں تھے جنگ کے میدان میں شہید ہوگئے اس کے ماں کالج میں اُردو کی پروفیسر تھیں۔ زرمین کی ماں نے دوبارہ سہاگن بننے کے بجائے شہید کی بیوہ رہنے کو ترجیح دی۔ زرمین بڑی تھی اس سے چھوٹا بھائی تھا۔
زویا کا تعلق ایک بڑے خاندان سے تھا۔ وہ مالی طور پر مستحکم تھے ۔ زویا کے خاندان میں رشتہ داری اور تعلق داری، مالی نفع نقصان دیکھ کرکی جاتی تھی۔  والد نے یہ رشتہ بھی بزنس ڈیل کی طرح کیا تھا۔ زویا تعلیم کے بعد فروغ تھی زیادہ وقت گھومنے پھرنے میں لگاتی تھی جبکہ زرمین گھر کے ساتھ ساتھ پینٹگ بھی کرتی تھی۔
زرمین نے برش پینٹ پلیٹ رکھی اور کمرے سے چلی گئی زویا اس پینٹگ کے پاس آکر کھڑی ہوگئی جو کہ زرمین بنا رہی تھی ۔ تھوڑی دیر بعد زرمین ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی۔
” اماں بی نے پہلے ہی چائے بنا دی تھی” زرمین نے ٹرے رکھتے ہوئے زویا کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
” یہ تصویر تو کسی لڑکے کی ہے” زویا نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا اور اپنی چائے پینے میں مصروف ہوگئی اس کی نظریں پینٹگ پر ٹکی ہوئی تھیں اور زویا کی اس کے ہئیر سٹائل پر
سیدھی طرھ کہو میرے جیجوکی تصویر بنارہی ہو شرارت سے کہا، اور پھر فوراً سے کہا” تصویریں بنانے والے جہنم میں جائیں گے” زویا نے کہا !
زرمین نے اس کی طرف ایسی نگاہ سے دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو تمہیں بھی پتا ہے؟ توزویا نے جلدی سے کہا مولوی صاحب بتا رہے تھے ۔ اس مولوی صاحب سے پوچھنا “سلفی” بنانے والے بھی اُس میں شامل ہیں یا صرف پینٹرز ہی کو دوزخ میں جانا ہے؟ زرمین نے چائے ختم کرکے اپنا برش پکڑتے ہوئے کہا
(زویا کو سلفی لینے کا بہت شوق تھا)
سنس آف ہومر تو تمہارا بچپن سے بہت اچھا ہے۔ زویا بھی چائے ختم کرکے زرمین کے پاس آکر کھڑی ہوگئی ۔
“تم نے رنگوں کی مدد سے اپنی محبت کو اس پینٹگ میں قید کردیا ہے۔” زویا کی بات میں تعریف کم شرارت زیادہ تھی۔ زویا ! محبت رنگوں کی قید نہیں ہوتی وہ رنگوں کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔
جو بھی کرلو یہ لڑکے کسی قید کی نہیں مانتے۔ زویا نے کہا ! کیوں کرنا چاہتی ہو لڑکوں کو قید ؟ زرمین نے بغیر دیکھتے پوچھا۔ زرمین نے برش رکھا اور دو قدم پیچھے ہوکر اپنے ہاتھوں کو پیچھے کی طرف باندھ کر کھڑی ہوگئی اور اپنی ہی تخلیق کو دیکھنے لگی۔
” ماتھے پر گرتے بال، پرکشش آنکھیں ، اٹھی ہوئی ناک ، گندمی رنگت کے تیکھے نقوش بالکل وہ سکندر کی تصویر تھی۔”
سکندر زرمین کا تایا ذاد کزن تھا اور دونوں کا بچپن میں رشتہ طے ہوگیا تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگ گئے تھے ۔ کئی سال ہوئے سکندر کو بیرون ملک گئے ہوئے اس نے زرمین سے اپنا رابط آہستہ آہستہ بالکل ختم کردیا تھا لیکن زرمین کے دل میں آج بھی وہ پہلے کی طرح موجود تھا۔ زرمین نے بھی کئی سالوں سے سکندر کی تصویر یں بنانا چھوڑ دی تھیں۔ یلکن آج بے خیالی میں کئی سالوں بعد وہ پھر اس کے چہرے کو پینٹ کر بیٹھی تھی۔
زویا نے بھی تصویر پر غور کرتے ہوئے کہا زرمین یہ تو سکندر کی تصویر تم نے بنائی ہے ۔ ”ہاں” زرمین نے افسردہ لہجے میں

کہا اور ساتھ ہی زرمین کی آنکھوں سے دو آنسوں ڈھلکے جو زویا نے بھی دیکھے لیے تھے۔ زویا کو یاد آیا کہ آجکل اماں بی زرمین کی شادی کرنے پر طولی ہوئی ہے۔
زویا نے زرمین سے مخاطب ہوکر کہا !
اگر تم رحیل سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو انکار کیوں نہیں کردیتی، اس سے کیا ہوگا؟ زرمین نے کہا !
اماں بی دوبارہ سے کوئی اور رشتہ لے آئیں گئی ” اچھا بتاؤ ماجر کیا ہے۔” زویا نے کہا!
کچھ نہیں زرمین نے ٹالنے والے انداز میں بات کی اور پھر سے اپنی پینٹگ کی طرف متوجہ ہوکر برش اٹھا لیا۔
زویا اپنی جگہ سے اٹھی اور زرمین کے ہاتھ سے برش لے کر رکھ دیا اور اس کے ہاتھ پکڑ کر بولی بتاؤ کیا ہوا ہے؟
زویا کے استفسار کرنے پر زرمین نے بتایا اماں بی ہاں کرچکی ہیں۔ رحیل اماں بی کا رشتہ دار ہے اور وہ جب اپنی امی کے ساتھ اماں بی سے ملنے آئے تو ان کو خاموش طبیعت کی زرمین بہت پسند آئی اور انہوں نے رشتہ بھی ڈال دیا ۔ رحیل بھی زرمین کو پسند کرنے لگ گیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کی شادی زرمین سے ہوجائے ۔ لیکن زرمین کے ہر بار انکار میں اماں بی بھی ساتھ دیتی تھی لیکن اب وہ انتظار کرکے تھک چکی تھی اس لیے جب پچھلی رات کو رحیل کی ماں نے زیادہ اسرار کیا تو اماں بی نے ہاں کر دی۔
تب سے زرمین کو سکندر بہت یاد آرہا تھا ، اور وہ سوچ رہی تھی کہ لڑکیاں بھی کتنی پاگل ہوتی ہیں۔ ان چاہئے رشتوں کیڈور سے بندھنے کے بعد خود کو کیوں فراموش کر دیتی ہیں۔ آخر صرف لڑکیوں کے حصے میں ہی کیوں قربانی آتی ہے ۔ کاش سکندر مجھے ایک بار تم رابط ختم کرنے کی وجہ بتا دیتے تو میرے دل کو قرار آجاتا ۔ کئی سالوں سے میں صرف اسی انتظار میں تھی کہ تم آؤ گئے میرے پاس. لیکن اماں بی کو کون سمجھے وہ بھی تو سچی ہے ۔ کاش ایک بار وجہ بتا دیتے سکندر ۔
اس کا کاش کئی سالوں سے اسی لفظ کاش میں ہی اٹک گیا تھا۔ زویا کافی دیر بحث کرنے کے بعد جاچکی تھی اور وہ اسی طرح پینٹگ کے سامنے بیٹھی سکندر کے چہرے کو یک ٹک دیکھئے جارہی تھی۔ اپنے خیالوں سے اس وقت چونکی جب اس کے نتھوں نے خوشبو کو سونگھا اور کوئی نرم و نازک شے اس کے چہرے سے ٹکرائی اس نے دیکھا تو وہ گلاب کے پھول تھے اور جب مٹر کر دیکھا تو پیچھے سکندر ٹھہرا تھا اور وہ حیرت سے اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button