تاریخ

سب سے بڑا اسلامی ملک کیسے وجود میں آیا؟

پاکستان کی تحریک مسلم لیگ کے ہاتھوں پروان چڑھی مسلم لیگ کی بنیاد 1906 میں رکھی گئی تھی اس کی زندگی کے تین دور ہے پہلے دور میں وہ مسلمانوں کی جداگانہ قومیت پرستی منوانے کے لئے کوشاں ہیں اور مسلمانوں کے جداگانہ انتخاب چودہ میں کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا جو میثاق لکھنو کے نام سے مشہور ہے.

دوسرے دور میں مسلم لیگ کی کوشش یہ نہیں کہ کانگریس کے ساتھ ایسا سمجھوتا ہو جائے جس میں مسلمانوں کی جداگانہ قومی حقوق کے لیے کوئی خطرہ باقی نہ رہے اس سے بالکل نا امیدی ہوگی تو مسلم لیگ نے قائداعظم کی سرکردگی میں آزاد اسلامی حکومت کا نعرہ بلند کیا اور وہ اپنی زندگی کے تیسرے دور میں داخل ہو گئی آزاد حکومت کی قرارداد مسلم لیگ میں 23 مارچ 1940 کے اجلاس لاہور میں منظور کی تھی اس وقت اسلامی ریاست کا رخ بدلا اور مسلمانوں نے ملی جلی حکومت بنانے کا خیال ترک کر کے مستقل حکومت کے لیے جدوجہد شروع کی مسلمانوں کو ایک روشن نصب العین مل گیا تھا قائداعظم تحریک کے علمبردار تھے جن کے خلوص تبت اور عزم و ہمت کی اس ملک کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا تھا تھوڑے ہی عرصے میں انگریزوں کو بھی یقین ہو گیا کہ ہندوستان کی آزادی کا مسلمانوں کو متعین کئے بغیر نہیں ہو سکتا یہ تحریک پاکستان کی کامیابی کا پہلا سنگ میل تھا اب حکومت اور کانگریس کی طرف سے یہ خوشی ہونے لگی کہ کسی طرح مسلم لیگ کو راضی کر کے تقسیم کو روکا جائے .

مسلمانوں کی طرف سے تنہا قائداعظم ترجمانی فرما رہے تھے انہوں نے ہر موقع پر یہ نہیں کہا کہ مسلمان کسی طریقے کا کوئی جائز حق چھیننا نہیں چاہتے انہیں خدا نے مستقل قومی حیثیت عطا کی ہے اس ملک کو دو حصوں میں بانٹ دو ایک میں مسلمانوں کی اکثریت ہو اور دوسرے میں غیر مسلموں کی دونوں حصوں کی اقلیتوں کے تمام حقوق پوری طرح محفوظ ہو جانا چاہیے آخرکار یہ فیصلہ ہوا کہ ملک بھر کے قانون ساز مجلس و کے انتخاب انتخابات نئے سرے سے ہو اور جو نمائندے چلے جائیں ان کی مرضی کے مطابق ملک کے آئندہ نظام کا فیصلہ کردیا جائے انتخابات کا مقصد یہ تھا کہ کانگریس اور مسلم لیگ کے اثرات داد کی حقیقی حیثیت واضح ہو جائے لیکن پولیس میں انتخابات ہوئے مسلمانوں کی بہت زیادہ نشستیں لیگ کے قبضے میں آ گئی اور غیر مسلموں کی اکثر نشستوں پر کانگریس قابض ہوگی ان میں سے دس فیصد نمائندے دستور ساز اسمبلی کے لیے منتخب ہونے تھے.

غیر مسلموں کی کل نشستیں 210 تھی جن میں سے دو سو ایک کانگریس کو ملی مسلمانوں کی کل نشستیں ہے 78 تھی ان میں سے تہتر لیگ کے حصے میں آئی یہ اس کی قضا آخری ثبوت تھا کہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ صرف لیگ اور کانگریس کے ذریعے سے ہوسکتا ہے تیسری کسی جماعت کو توجہ کے قابل نہیں سمجھا جاسکتا جب واضح ہوگیا کہ مسلم لیگ تقسیم ملک کے سوا راضی نہ ہو گی تو مخالفوں نے یہ فتنہ اٹھایا کہ پنجاب اور بنگال کے جن اسلامی غیر مسلموں کی تعداد زیادہ ہے انہیں الگ کر کے ہندوستان میں شامل کر لیا جائے حکومت نے یہ مطالبہ مان لیا دراصل وہ تقسیم کو روکنا چاہتی تھی اب مسلم لیگ کے سامنے دو راستے تھے ایک یہ کہ تقسیم کا مطالبہ چھوڑ کر ملی جلی حکومت بنانے پر راضی ہو جائے دوسرا یہ کہ جتنی اسلامی خطے کو آزاد کرایا جا سکتا تھا آزاد کرا لیا جائے لیکن غور و فکر کے بعد دوسرا راستہ اختیار کیا چنانچہ اس کے مطابق تین جون کو ملک کی تقسیم کے متعلق حکومت کا اعلان جاری ہو گیا چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو کانگریس حکومت کا دور ختم ہوگیا اور متحدہ ہندوستان کی جگہ دو آزاد حکومت وجود میں آگئے ایک پاکستان دوسری ہندوستان۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button