سیاحت

دنیا کا سب سے بڑا جنگل _ ایمازون

انسان کے جسم میں پھیپھڑے مرکزی حیثيت رکھتے ہیں اسی لئے اگر یہ کام کرنا بند کر دیں تو فورا” موت ہو جاتی ہے۔کیونکہ پھیپھڑوں کا کام خون میں آکسیجن شامل کرنا ہے جو کہ ہماری زندگی کے لئے سب سے ضروری چیز ہے۔ کیا آپ کو معلم ہےکہ انسانی جسم کی طرح ہماری زمین کے بھی پھیپھڑے ہیں جو اس کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں! زھین کی %30 آکسیجن پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا جنگل ایمازون کو زمین کے پھیپھڑے کہا جاتا ہے۔

رقبہ:
دنیا کا سب سے بڑا جنگل تقریبا” 55 لاکھ مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یاد رہے ہمارے پیارے پاکستان کا رقبہ تقریبا” 8 لاکھ مربع کلو میٹر ہے یعنی پاکستان جتنے سات ممالک اس جنگل میں سماں سکتے ہیں۔ اس جنگل کا رقبہ پورے جنوبی امریکا کا تقریبا” %20 ہے۔ یہ جنگل 9 ممالک میں پھیلا ہوا ہے؛ جن میں برازیل، کولمبیا، پیرو، وینزویلا، ایکواڈور، ویانا، اور فرنچ گیانا شامل ہیں۔ ایمازون %60 برازیل، %13 پیرو، %10 کولمبیا جبکہ %17 باقی ممالک کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

دریائے ایمازون:
دریائے ایمازون مصرکے دریائے نیل کے بعد دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے۔ حجم کے لحاظ سے یہ دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے۔ اس کی لمبائی تقریبا” 6500 کلو میٹر ہے۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خشک موسم میں اس دریا کا پاٹ 9-3 کلو میٹر تک چوڑا ہوتا ہے اور برسات یعنی بارشوں کے موسم میں اس کے پاٹ کی چوڑائی 48 کلو میٹر تک پھیل جاتا ہے۔پانی کے بہاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے بعد آنے والے دوسرے سے ساتویں نمبر پر آنے والے تمام دریاؤں کا پانی مل کر بھی اس کے پانی کے حجم کے برابر نہیں ہے۔ دریائے ایمازون بحر اوقیانوس میں گرتا ہے۔ اس دریا سے نکلنے والے ندی نالے اس جنگل میں پائی جانی زندگی کو سیراب۔ کرتا ہے۔

حیوانات و نباتات:
دنیا کے %30 جانور اس جنگل میںپائے جاتے ہیں اور بہت سے جاندار ایسے ہیں جو یہاں کے علاوہ دنیا میں اور کہیں نہیں۔ پائے جاتے۔ ان میں سب سے مشہور افریقا کا “مکاؤ طوطا” ہے۔ اس جنگل میں صرف حشرات الارض کی ہی 25 لاکھ اقسام پائی جاتی ہیں۔ جانوروں کی طرح پودوں کی کئ ایسی اقسام اس جنگل میں موجود ہیں جو باقی دنیا میں ناپید ہیں۔ اس میں تقریبا” 40 ہزار اقسام کے پودے پائے جاتے ہیں جن میں سے 17 ہزار نایاب ہیں۔

تو کیسی لگی آپ کو یہ حیرت انگیز معلومات! اس پر نیچے تبصرہ ضرور کیجئے گا۔ آپ کی قیمتی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ شکریہ۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button