خواتین

ایمپیوٹی کوہ پیما ارونما سنہا

ارونما ہندوستان اترپردیش میں لکھنوء کے قریب امیڈکرنگر میں ۲۰ جولائی ۱۹۸۹ کو پیدا ہوئی۔ ارونما کے والد ہندوستانی فوج میں انجئنیر تھے اور والدہ محکمہ صحت میں سپروائزر تھیں۔ وہ بچپن سے ہی ہونہار، قابل اور محنتی لڑکی تھی۔ ارونما سکول کے ہر پروگرام میں حصہ لینے کی کوشش کرتی، سکول میں اس کا دل پڑھائی میں کم اور کھیل کود میں ذیادہ لگتا۔ ارونما کو فٹ بال، والی بال اور ہاکی کھیلنا بہت پسند تھا۔ ارونما نے کئی مقابلوں میں حصہ لیا اور اپنی قابلیت سے لوگوں کو متاثر کیا اور کئی ایوارڈ اپنے نام کیے۔
سخت محنت اور قابلیت سے اس نے خود کو ایک بہترین کھلاڑی منوایا، اور کالج کی والی بال ٹیم سے قومی ٹیم میں منتخب ہو گئی۔ ارونما اپنی محنت کے رنگ لانے پر بے حد خوش تھی لیکن اسی دوران اس کے باپ کا انتقال ہوگیا۔
باپ کی موت کے بعد گھر چلانے میں ماں کی مدد کرنے کے مقصد سے ارونما نے ملازمت کے لیے کئی جگہ درخواست دی، ایک دن اے سی آئی ایس ایف کے دفتر سے کال لیٹر آتا ہے۔ ارونما امتحان دینے کےلیے ۱۲ اپریل ۲۰۱۱ کو لکھنوٴ سے دہلی جانے والی ٹرین میں سوار ہوتی ہے۔ راستے میں کچھ بدمعاش اس کے گلے سے سونے کی چین چھیننے کی کوشش کرتے ہیں جس پر وہ مز احمت کرتی ہے آخرکار بدمعاش اس کو چلتی ہوئی ٹرین سے ایسے وقت میں دھکا دیتے ہیں جب دوسری پٹڑی پر بھی ٹرین جا رہی ہوتی ہے۔ وہ اس سے ٹکرا کر دونوں پٹڑیوں کے درمیان گر جاتی ہے۔ اس حادثے کے باعث اس کا ایک پاوٴں کٹ جاتا ہے اور دوسرا کچلا جاتا ہے اور بیشمار ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔
ساری رات زندگی اور موت کی کشمکش میں ارونما وہی پڑی رہتی ہے صبح جب لوگ اس کو دیکھتے ہیں تو ہسپتال پہنچاتے ہیں۔ جہاں سہولتیں نہ ہونے کے باعث اس کا پاوٴں بغیر بے ہوش کیے کا ٹا جاتا ہے۔ اس کے بعد نیشنل کھلاڑی ہونے کی وجہ سے اس کا بہتر علاج شروع ہوتا ہے اور وہ زندگی کی طرف لوٹنا شروع ہو تی ہے۔
ہسپتال میں علاج کے دوران وقت گزارنے کے لیے ارونما نے اخبار پڑھنا شروع کیا۔ ایک دن اس نے اخبار میں پڑھا کہ ارجن واجپائی جس نے ۲۰۱۰ میں صرف ۱۶ سال ۱۱ ماہ اور ۱۸ دن کی عمر میں ماوٴنٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کی۔ ارونما نے سوچا جب ارجن ماوٴنٹ ایورسٹ سر کر سکتا ہے تو وہ کیوں نہی؟ اسی حالت میں اس نے دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کا فیصلہ کیا۔ علاج کے دوران ہی ارونما کو ایک مصنوئی پاوٴں مہیا کیا جا تا ہے۔
ہسپتال سے نکل کر ارونما نے باچندری پال سے رابطہ کیا جو ۱۹۸۴ میں ماوٴنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون تھی۔جب ارونما نے اسے اپنا مقصد بتایا تو اس کی آنکھیں حیرت کے آنسووں سے بھر جاتی ہیں اور وہ کہتی ہے ارونما تم نے اس حالت میں ایورسٹ جیسا خواب چن لیا تم نے اپنے اندر تو اایورسٹ سر کر لیا اب تو بس لوگوں کو تاریخ بتانا باقی ہے۔
جس طرح مایوس لوگ ہمیشہ مایوسی بانٹتے ہیں اسی طرح بلند حوصلہ لوگ ہمیشہ حوصلہ ہی تقسیم کرتے ہیں۔ یوں ارونما کے مشکل ترین خواب کی تکمیل کا سفر شروع ہوتا ہے۔ حقیقی مشکلات کا اندازہ اسے ٹرینگ کیمپ میں ہوتا ہے۔ جب روڈ ہیڈ سے بیس کیمپ تک باقی ساتھی ۲ منٹ میں اور یہ ۳ گھنٹوں میں پہنچتی ہے۔ اس کے زخم ابھی تازہ تھے جن کی وجہ سے ٹرینگ کے دوران اس کے جوتے اکثرخون سے بھر جاتے۔ آخرکار ۸ ماہ کی تکلیف دہ پریکٹس رنگ لاتی ہے اور ارونما ۳ گھنٹے والا سفر ۲ منٹ سے بھی پہلے طے کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔
ارونما اب چھ لوگوں کے گروپ کے ساتھ باقاعدہ ماوٴنٹ ایورسٹ کا سفر شروع کرتی ہے۔ ارونما کو اس سفر میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماوٴنٹ ایورسٹ کے قریب پہنچ کر ارونما کے سیلینڈر سے آکسیجن ختم ہوجاتی ہے لیکن اسی دوران انھیں برف میں پڑا ہوا کسی کوہ پیما کا اضافی آکسیجن سیلینڈر مل جاتا ہے۔ آخرکار یہ بلند ہمت لڑکی ماوٴنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی معذور لڑکی کا اعزاز اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
مئی ۲۰۱۳ کی صبح ۱۰ بج کر ۵۵ منٹ پر ارونما سنہا دنیا کی پہلی ماوٴنٹ ایورسٹ سر کرنے والی ایمپیوٹی کوہ پیما تھی۔ اس کا خواب ہے کہ وہ عالمی لیول کا سپورٹس کمپلیکس بنائے اور دنیا کی تمام بلند چوٹیاں سر کرے۔
اس کے بعد ارونما نے افریقہ میں کلیمانجارو، یورپ میں البرس، آسٹریلیا میں کو سیسکو، ارجنٹائن میں ایکونکاگو، انڈونیشیا میں کارسٹنز پیرامڈ اور ۱ جنوری ۲۰۱۹ کو انٹارکٹیکا میں ماوٴنٹ ونسن کو سر کیا۔

Show More

Related Articles

2 Comments

  1. اللہ ایسے لوگوں کو مدد اور وسائل فراہم کرتا ہے جن کے ارادے مضبوط اور حوصلے بلند اور دنیا میں کچھ کرنے کی ہمت کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button