وائرل نیوز

حاتم طائی ثانی شیخ سلیمان الراجحی

شیخ سلیمان الراجحی سعودی عرب کے صوبے القصیم میں واقع البقریہ میں 30 نومبر 1928 کو پیدا ہوئے، اور صحرائے نجد میں پرورش پائی۔ حاتم طائی ثانی کے نام سے مشہور سلیمان الراجحی کا شمار سعودی عرب کے امیر لوگوں میں ہوتا ہے۔ سلیمان خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

شیخ سلیمان نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کھجوروں کے باغ میں مزدوری سے کیا جب ان کی عمرصرف 12 سال تھی، اس وقت انھیں چھ ریال مہینے کے ملتے تھے۔ اس کے بعد سلیمان نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر پیسوں کے عیوض مکہ اور مدینہ جانے والے قافلوں کے اونٹوں کو صحرا عبور کروانے کا کام شروع کیا۔ انھوں نے سخت محنت سے کام کیا اور اپنے لیے پیسے بھی بچاتے گئے اور پھر دونوں بھائیوں نے کاروبار شروع کیا۔ وہ محنت اور ایمانداری سے کام کرتے رہے ایک دن ان کا شمار سعوی عرب کے امیر افراد میں ہونے لگا۔
بچپن میں سلیمان کا خاندان بہت غریب تھا، ایک دفعہ سلیمان جس سکول میں پڑھتا تھا سکول انتظامیاں کی طرف سے سیروتفریح کا پروگرام بنایا، جس میں ہر بچے کی طرف سے ایک ریال جمع کروانا تھا۔ لیکن سلیمان کے گھر والے غربت کی وجہ سے ایک ریال کا بندوبست بھی نہ کر پائے جس پر انھیں بہت دکھ ہوا اور وہ بہت روئے۔ اسی دوران امتحانات کے نتائج آ گئے جس میں سلیمان پہلی پوزیشن سے پاس ہوا۔ انھیں اپنے ایک استاد کی طرف سے ایک ریال انعام دیا گیا جس کا تعلق فلسطین سے تھا۔ وہی ایک ریال سلیمان نے پروگرام میں جمع کروا دیا۔

ایک جریدے نے سلیمان الراجحی کے اثاثوں کی مالیت تقریباً 4.8 ارب ڈالر لگائی اور اندازے کے مطابق وہ دنیا کے 107 ویں امیر ترین فرد ہیں۔ اللہ نے سلیمان کو زندہ دلی کی صفت سے نوازا ہے اور وہ سخاوت اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ انکی مشہوری دولت سے زیادہ سخاوت کی وجہ سے ہے۔ جس کی ایک مثال القصیم میں واقع کھجوروں کے باغ کو اللہ کی راہ میں وقف کرنا ہے۔ اس باغ میں تقریباً 45 قسم کی کھجوروں کے دو لاکھ درخت ہیں۔ اس وقت اسے دنیا کا سب سے بڑا باغ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس کی سا لانہ پیدا وار تقریباً 10 ہزار ٹن کے لگ بھگ ہے۔ اس باغ کی آمدن سے دنیا بھر میں مساجد کی تعمیرو ترقی، حرمین شریفین میں افطاری اور دنیا بھر میں فلاحی اور خیراتی کام سر انجام دیئے جاتے ہیں۔

دنیا کے امیر فرد ہونے کے باوجود وہ اپنے فلسطینی استاد کو نہی بھولے جس نے ایک ریال انعام دیا تھا۔ سلیمان نے اپنے استاد کو تلاش کیا۔ جب وہ ان سے ملے تو اس وقت استاد کے حالات بہت خراب تھے۔ سلیمان نے اسے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا اور بتایا کہ میں آپ کا مقروض ہوں، استاد بڑے تعجب سے بولے مجھ جیسے غریب کا کسی پر کیا قرض ہو گا ؟ سلیمان نے انھیں بتایا کہ بہت سالوں پہلے جب میں سکول میں آپ کے پاس پڑھتا تھا تو آپ نے مجھے ایک ریال انعام دیا تھا۔ استاد نے کہا تو کیا تم وہ ریال واپس کرنے کے لیے آئے ہو؟ ۔ سلیمان راجحی نے ایک خوبصورت اور عالیشان بنگلے کے سامنے گاڑی روکی اور استاد سے کہا آج سے یہ آپ کا گھر ہے اور آپ اس گاڑی کے مالک ہیں اور آپ کے باقی تمام اخراجات بھی میں پورے کروںگا۔ استاد نے کہا یہ تو بہت قیمتی اور زیادہ ہے، استاد کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو دیکھ کر سلیمان الراجحی نے کہا جب میرے پاس کچھ نہیں تھا آپ نے ایک ریال دیا تو اس وقت میری خوشی آپ کی خوشی سے کہیں ذیادہ تھی۔

Show More

Related Articles

2 Comments

  1. اللہ جسے چاہتا ہے بیشک بے حساب رزق دیتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button