اسلامک

فلسطین کی تاریخ اور جغرافیہ

فلسطین تمام مسلمانوں کی دل کی دھڑکن ہے . نہایت منصوبہ بند طریقے سے فلسطین کے تاریخی حقائق اور جغرافیہ کو بدلنے کی جو سازش ہو رہی ہے اس تناظر میں ضروری ہے کہ ہم فلسطین کی تاریخ اور اس کے جغرافیے سے نہ صرف خود واقف ہوں بلکہ اپنی نسلوں کو بھی اس سے با خبر رکھیں.اللہ تعالی نے فلسطین میں کون کون سے انبیاء کرام علیہ السلام مبعوث فرمائے اور وہ کون سا مقام ہے جہاں حضور پاک صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی؟

یہودیوں نے اچانک اور طاقتور حملہ کرکے پورے فلسطین بلکہ عرب ملکوں کے کئی مقامات پر قبضہ کر لیا. اور انہوں نے بیت المقدس کے نئے اور پرانے حصے کو ایک کرلیا جب کہ ان کا ملک فلسطین کے مشرق میں اس سے ملا ہوا تھا اس کے اور فلسطین کے درمیان ایک لمبی سمندری خلیج اور اس کے شمال میں دریائے اردن تھا جو کہ دونوں کے درمیان سرحد تھا. مسلمانوں نے ایک سال سے زیادہ عرصہ تک اس کا رخ کر کے نماز پڑھی .اور اسی فلسطین میں شہرالخلیل ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام اور دوسری اہلبیت مدفون ہیں .اسی حوالے سے آپ کو اہم معلومات دیں گے لیکن یہاں پر پہلے بات کر لیتے ہے یہودیوں کے بارے میں. یہودی دن میں تین مرتبہ اپنی عبادت کرتے ہیں. اور ان کی جماعت کے لیے ضروری ہے کہ 10لوگوں کی جماعت ہو. اگر دس لوگ نہ ہوں تو یہ لوگ اپنی جماعت نہیں کرتے . ان کا بچہ جب تیرہ سال کا ہو جاتا ہے تو اس کو یہاں یعنی کہ وہ تو رات کو ہاتھ لگائے ہیں .یہودیوں کے کان کے سامنے والے حصے پر داڑھی کے بال لمبے ہوتے ہیں کچھ داڑھی کے رکھتے ہیں بعض کے بال بڑھے ہوئے ہیں. ان کا ماننا ہے کہ تورات میں لکھا ہے کہ مرد حضرات کو داڑھی کے بالوں کو نہیں کاٹنا چاہیے. یہودی ہر وقت سیاہ لباس زیب تن کرتے ہیں. کالے کپڑے اس لیے پیتے ہیں کہ یہ سوگ میں ہوتے ہیں. کہ جب تک دجال نہ آ جائے اور پوری دنیا پر دوبارہ حکومت قائم کرے. تب ہی وہ اس سوگ کو ختم کریں گے .یہودی مسلمانوں کو دیکھ کر تیز چلنا شروع کر دیتے ہیں. اپنا راستہ بدل لیتے ہیں وہ ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان بہت گنہگار لوگ ہیں.

یہودی لڑکا تیرا سال کی عمر میں بالغ ہوتا ہے جبکہ لڑکی 12 سال کی عمر میں بالغ ہوتی ہے. وہ مانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو اپنےبیٹے اسحاق علیہ السلام کی قربانی دی تو اس وقت ان کی عمر 13 سال تھی. حالانکہ قربانی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تھی .ان کے نزدیک حضرت اسحاق علیہ السلام کی قربانی دی گئی تھی تو اس وقت ان کی عمر 13 سال تھی اسی لیے 13 سال کے بچے کے ختنہ کرتے ہیں. یہودیعورت کی جب شادی کی جاتی ہے تو وہ سارے اپنے سر کے بال منڈوا دیتی ہے کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ بال صرف اس کا شوہر دیکھ سکتا ہے .اور کوئی نہیں دیکھ سکتا .جو پہلے والے بال اور لوگوں نے دیکھے ہیں اسی لئے وہ کاٹ دئیے جاتے ہیں. اور اسی لیے زیادہ تر یہودی خواتین سکارف نہیں پہنتی بلکہ وگ پہنتی ہیں تاکہ اپنے بالوں کو چھپا سکے.

معلومات کے حوالے سےاب آپ کو شہر بیت المقدس کے بارے میں بتاتے ہیں. اس شہر کا سب سے پہلا نام جو تاریخ میں منقول رہے وہ پندرہ سو سال قبل مسیح میں بتایا جاتا ہے اس کے بعد بدل کر یروشلم کہتے ہیں.بیت المقدس بڑا تاریخی اور پرانا شہر ہے .یہ دو پہاڑیوں پر آباد ہے . مشرق کی جانب وادی ہے جس کو وادی مریم بھی کہتے ہیں. گلیاں تنگ اور تمدن نسبتاً قدیم ہے. عبادت خانوں اورگرجا گھروں کی کثرت میں الگ حیثیت رکھتا ہے .مسلمانوں کی تیسری مسجد مسجد اقصیٰ ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ

تین مقامات کا سفر درست ہے ایک مسجد الحرام دوسرا مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تیسرا مسجد اقصیٰ

یہودیوں کی عبادت کا وقت کوئی مخصوص نہیں. مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول تھا .مسلمان اس کا رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے. فلسطین میں جگہ جگہ گھاس کی کیاریاں اور درخت ہیں مسجد کے دروازے ہیں سات دروازے ایک قطار میں ہیں. مسجد میں ایک چٹان ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اس پر کھڑے ہوتے تھے اور یہ نسبت زمین سے اونچی ہے. مسجد اقصیٰ میں سب سے ممتاز اور خوبصورت جگہیں ہیں گنبد اور مسجد نبوی کا گنبد بعد کے مسلمان سلاطین نے بنوایا تھا. مسجد دوسو کے قریب میناروں پر قائم ہیں. بیت المقدس سے تیس کلومیٹر دور جنات کا بنایا ہوا حضرت داؤد ّ کا محل ہے.جس میں قیمتی خزانے دفن ہیں اور جو مکمل طور پر یہودیوں کے قبضے میں ہے اور وہ ان تمام تر خزانوں کے مالک بنے بیٹھے ہیں.

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button