وائرل نیوز

یونانی کمانڈر نے ارطغرل غازی کے مقبرےپر گولیاں برسا کر کیا کہا؟

ارطغرل کا مقبرہ سوت شہر کے علاقے بیلیجک میں موجود ہے. یاد رہے کہ یہ وہی علاقہ ہے جس پرارطغرل غازی نے حکومت کی تھی اور اسی علاقے پر آپ کچھ عرصہ بےمقرر ہوئے تھے .ارطغرل غازی کا مقبرہ کب تعمیر کیا گیا ؟ اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا. مگر یہ بات طےہے کہ عثمان غازی کے دور میں یہ صرف ایککچی قبرتھی .مگر چوتھی صدی میں ان کا مقبرہ بنا دیا گیا تھا .اور کس نے بنایا؟ چوھدویں سدی میں آپ کی قبر کوچیلیبے اول نے مقبرے میں بدل دیا .چیلیبے سلطان محمد فاتح کا نک نیم تھا.

چیلیبے کے علاوہ سلطان محمد فاتح کرسچیا کے نام سے بھی مشہور ہیں. کرسچیا کا مطلب ہے سردار کا بیٹا جبکہ چیلیبے کا مطلب ہے شریف اور خاندانی. ارطغرل کاجو مقبرہ اب تعمیر کروایا گیا اس کے خاص بات یہ بھی تھی کہ یہ ان آیات سے ظاہر نہیں کی گئی تھی جیسا کہ اب ہے بلکہ مقبرے کی دیوار اور چھتوں پر وسیع عمارت بنائی گئی تھی .چھت پر آسمان کی تصویر تھی جو تین جنگجو والی کائنات کی طرف اشارہ کرتے تھے اور چھت پر آسمان کا منظر بنایا گیا تھا ا.ور دیواروں پر ایسی تصاویر تھی جو کہ سورج شجر حیات یعنی زندگی کا درخت اور زندگی کی طرف اشارہ کرتے تھے تاہم ان کی کھدائی جب کی گئی تھی ان کے بارے میں بہت سی تفصیلات سے آگاہ کیا .غازی کا مقبرہ تین بار تعمیر کروایا گیا اور اس کی اصل شکل تبدیل ہوگئی اور 1886 میں سلطان عبدالحمید دوم نے اس کو تعمیر کروایا اور اس میں ایک فوارے کا بھی اضافہ کیا .

مقبرے کی دیواریں پتھروں اور اینٹوں کی ہی طرح کے بارے میں دوسری حیرت انگیز بات یہ ہے کہ1919 سے 1922 کے درمیان لڑی جانے والی ترکی کی جنگ آزادی میں یونانی فوجوں نے سوت پر قبضہ کر لیا تھا .یونانی کمانڈر جس کا نام سوفیلیکس تھا وہ دروازے کے مقبرے میں داخل ہوا اور کہا

اٹھو ارطغرل اور اس جگہ کو فورا خالی کرو اور اپنی موجودہ اولاد کو ہمارےقہر سے بچالو

اس سے ملتے جلتے واقعات تاریخ کئی بار دیکھ چکی ہے جیسے برٹش جرنل نےسلطان صلاح الدین کی قبر کو ٹھوکر مار کر کہا کہ

اٹھو ہم دوبارہ آ گئے ہیں

اور استنبول پر حملے کے دوران فرانسیسی جنرل سفیدگھوڑے پرایسے سوار ہو کر استنبول شہر میں داخل ہوا جیسے سلطان محمد فاتح داخل ہوا تھا.یہ تمام واقعات مسلمانوں سے نفرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں.یونانی فوجی کمانڈر نے ایک ارطغرل کی قبر پر گولیاں برسائیں اور یونانی فوجی دستے نے بھی مقبرے پر گولی چلائی جب تک سوت پر قبضہ رہا انہوں نے اس مقبرے پر نشانہ بازی کی مشق کی اور اس دوران مقبرہ نشانہ بازی کے لیے ہی استعمال ہوتا رہا. اور آج بھی جب دوبارہ اس مقبرے کو نئی شان وشوکت دی گئی ہے اور گولیوں کے سوراخوں کو ترکوں نے نہیں بھرا تاکہ انہیں یونانی فوجی سپاہیوں کی یہ جرات اور جسارت یاد رہے.

بلجیک اور سوت کو یونانی فوجوں نے تین بار فتح کیا تھا. پہلی بار 8 جنوری سے11 جنوری 1921 تک، دوسری بار 24 مارچ سے 21اپریل 1921 تک اور تیسری بار12 جولائی 1921 سے 6 ستمبر 1922 تک. مگر یہ بات سن کر شاید آپ لوگوں کو حیرت کے ساتھ ساتھ افسوس ہو کہ فتح کے بعد سوت شہر کو پانچ بار جلایا گیا تھا اور کے وہ تمام یادگار اور نوادرات جل کر راکھ ہوگئے. ایک تختی پر یونانی فوج کی نشانہ بازی کی گستاخیوں کی تفصیل درج ہیں جو انھوں نے مقبرے پر گولیاں برسا کر کی تھی. جبکہ کمرے کے باہر ایک تختی پر ارطغرل غازی کی وصیت درج ہے. ارطغرل کے مقبرے کے بارے میں تیسری حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ اللہ کے قریبی دوست اور ولی تھے تو غلط نہ ہوگا .کیونکہ تاریخ میں ایک واقعہ جو ہے کہ ایک مرتبہ اس کنویں میں جہا ارطغرل کا قبیلہ پانی پیا کرتا تھا اس میں زہر ڈال دیا گیااس زہر سے فوری موت واقع نہیں ہوتی تھی مگرقبیلے میں بیماریاں پھوٹ پڑی .یہ حالات دیکھ کرارطغرل پریشان تھے مگر وہ کوئی حل تلاش نہ کر سکے. ایک رات کو آپ اپنی تعمیر کردہ مسجد میں نماز پڑھ کر سو گئے تو انہوں نے خواب دیکھا کہ مسجد کے ساتھ ہرے بھرے درخت اگنے لگے ہیں .اگلے دن انہوں نے خاموشی سے اس جگہ کی کھدائی شروع کر دی اور تین دن کی کھدائی کے بعد وہاں سے پانی نکل آیامگر انہوں نے روایات کے مطابق کسی کو بھی وہ پانی پلانے سے پہلے خود کو اور اپنے گھوڑے کو بلایا اور تین دن تک وہ ان کا گھوڑا وہ پانی پیتے رہے. اس کے بعد انہوں نے قبیلے کو ہدایت کی کہ آئندہ پانی اس کنویں سے لیا جائے اور اس طرح قبیلے سے بیماریوں کا خاتمہ ہوا اور اس پانی کی برکت سے زہر کا اثر بھی ختم ہوگیا .

علاوہ ازیں نے اس کے متعلق اعلان کر دیا تھا کہ اس علاقے کے مسلمان اور غیر مسلم تمام اس پانی کو استعمال کرسکتے ہیں .اور ناظرین کرام اس سخاوت کے باعث بہت سے دیگرغیر مسلم بھی مسلمان ہو گئے.

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button