افسانے

عمر کا آخری پڑاؤ

میں اور میرا شوہر بہت اچھی زندگی گزار رہے تھے. ہمارے ہاں اولاد نرینہ بھی ہوئی اور اولاد نورینہ بھی. وقت گزرتا گیا اور بچے تھوڑے بڑے ہو گۓ. ہم اتنے صاحب استطاعت نہ تھے. لیکن اس سے بڑھ کر بچوں کی پرورش کی. ان کو اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائی. غرض یہ کہ ان کے لیے سب کچھ کیا.

بچے اچھا پڑھ لکھ کر اچھے عہدوں پر فائز ہو گۓ. بڑا بیٹا پولیس افسر لگ گیا جبکہ چھوٹا بیٹا ڈاکٹر بن گیا. بیٹی سب سے چھوٹ تھی اس لیے وہ ابھی پڑھ رہی تھی. بیٹے اپنا کمانے لگے لیکن میرے شوہر کی ذمہ داریاں ختم نہ ہوئی. وہ دن رات محنت کرتے اور گھر کا خرچ اٹھاتے. بیٹوں کی غفلت محسوس ہوتی لیکن ہم چپ کر کے سہہ جاتے. بیٹی بہت حساس تھی وہ کہتی کہ ” اماں آپ بھائیوں کو کچھ نہیں کہتی. ابا سارا دن کام کرتے تھک جاتے ہیں. ان کی صحت کا ہی خیال کر لیں” پر میں اسے ڈانٹ پلا کر چپ کرا دیتی.

ہم نے دونوں بیٹوں کی شادی ان کی پسند سے کردی. پہلے جو ہفتے میں ایک بار حال احوال پوچھ لیا کرتے تھے اب تو وہ بھی در کنار… شوہر کی صحت کام کی اجازت نہ دیتی تھی تو میں نے ضد کر کے ان کو کام سے روک دیا اور مکمل آرام کروانے لگی. ایک روز بڑی بہو سے کھانا مانگا تو کہنے لگی آپ لوگ کتنا کھائیں گے؟ اتنا کھانے کو نہیں ہوتا کہ آپ کو تین وقت کھانا دوں. میرے ہزبینڈ میرے اور بچوں کے لیے کماتے ہیں. آپ ایسے ہی حصہ دار بن رہے ہیں” اس کا یہ کہنا تھا کہ میرے شوہر کو یہ سب سن کر ہارٹ اٹیک ہو گیا. وہ ان طعنوں کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گۓ. میں اور بیٹی تو بالکل تنہا ہوگۓ. اب بہو بیٹے ہمارا خیال نہ رکھتے اور یہی طعنے ملتے کہ آپ ہمارے شوہروں کا کھاتے ہیں.  دل تو چاہتا کہ چیخ چیخ کر بتاؤں کہ “ان کو اس مقام تک ہم نے پہنچایا. ان کے لیے اتنا کچھ کیا. وہ میری اولاد پہلے اور ان کے شوہر بعد میں ہیں.” مگر میں خاموش رہتی کہ رہنے کو ٹھکانہ ہے اور دو وقت کی روٹی نصیب ہو رہی ہے.

یہ حالات دیکھتے ہوۓ میں نے ایک فیصلہ کر لیا. میری بیٹی بی-اے کر چکی تھی. میں نے مناسب رشتہ دیکھ کر اس کا بیاہ کردیا. شوہر کی کمائی کی کچھ جمع پونجی باقی تھی. بیٹی کو اچھا جہیز دیا اور رخصت کر دیا. رفتہ رفتہ عمر ڈھلنے لگی. میں ہر وقت عبادت میں مگن رہتی اور لوگوں کی باتیں نظر انداز کرتی. بہوؤں نے تنگ آکر گھر سے نکال دیا. بیٹے بھی کچھ نہ بولے. یہ سب دیکھتے ہوۓ بیٹی اپنے گھر لے گئی.لیکن جب  اپنوں نے ہی ٹھکرا دیا تو اس کے سسرال والے بھی کب تک برداشت کرتے. میں ان کی دبی دبی باتیں سمجھ چکی تھی. تب ہی گھر واپس آگئی. بیٹوں کے دل میں ایک دو دن تو ماں کی محبت جوش میں رہی لیکن پھر وہ بھی بھول گۓ کہ کوئی ماں بھی ہے.
بہو بیٹے بالکل بے گانہ ہوگۓ. ایک دن تو پوتے نے آکر بول دیا کہ ماما کہہ رہی تھی آپ کی دادی مر جائیں گی تو ان کا روم آپ کو دے دوں گی. میرا دل کرچی کرچی ہو گیا.

میں ہر وقت روتی رہتی اور کچھ نہ کہتی . پھر ایک روز میرے بیٹے مجھے “اولڈ ایج ہوم ” چھوڑ آۓ. یہاں میں نے زندگی کا آخری پڑاؤ ڈالا. عمر کے اس حصے میں سب سے پر سکون جگہ یہی لگی. میں جب یہاں آئی تو مجھے محسوس ہوا کہ بہت سے والدین جن کی اولادیں ان کا سہارا بننے کے بجاۓ ان کو بوجھ سمجھتی ہیں ان کی عمر کا آخری پڑاؤ یہی اولڈ ایج ہوم ہی ہوتا ہے. میں یہاں اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہی ہوں. میری بیٹی ہفتہ دو کے بعد مجھ سے ملنے آجاتی ہے جبکہ بیٹے مہینہ بعد اپنی بیویوں سے چھپ کر دو گھڑیاں میرے ساتھ گزار لیتے ہیں…!

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button