اسلامک

عورت کی حیثیت مختلف تہذیبوں میں

اسلا م کے ظہور سے قبل دنیائے انسانیت میں صنف انسانیت یعنی عورت کی کوئی آئینی وقانونی حیثیت نہیں تھی۔ اس کو محض شہوت رانی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ اس کو مال کی طرح تقسیم کرنے اور تحفے کے طورپر پیش کرنے کا رواج تھا۔ رومن تہذیب میں تو عورت کو سرے سے انسان ہی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ عرب کی تہذیب میں عورت ننگ وعار کی علامت تھی۔ لڑکی کو زندہ دفن کرنے سے ہی ان کا وقار قائم اور ناک سلامت رہ سکتی تھی۔ ہندوستان کی تہذیب میں عورت متضاد حیثیت کی حامل تھی جو انتہائی حیرت انگیز تھی۔ نومولود بچی کا جل پرواہ (ٹوکری میں رکھ کر بہادینا) بیوہ عورت کا ستی ہونا یعنی شوہر کے ساتھ چتامیں بیوہ کو زندہ جلانے کا رواج اور پتی نہ ہونے کی شکل میں سماج میں اس کا سوشل بائیکاٹ ، منحوس ، ڈائن اور کلنک کی تصویر ، تمام تر حقوق ، مراعات او رخوشیوں سے محروم، حسرت ویاس وغم واندوہ کی زندہ مورت، تو دوسری طرف اسی صنف کی درگا لکشمی ، سرسوتی، کالی وغیرہ ہزاروں دیویوں کو پوجا کی جاتی تھی۔ غرضیکہ تمام بڑی چھوٹی تہذیبوں میں عورت کی حیثیت انتہائی ناگفتہ بہ تھی،اسلام نے نہ صرف عورت کو صنف انسانیت کے شرف سے نوازا بلکہ مردوں کے مساوی اس کے حقوق متعین کئے ۔ ترکے میں اس کو وارث بنایا، اس کو حصول علم کا حق دیا، ذاتی ملکیت کا حق عطا کیا، مذہبی ،آئینی ،سماجی اور بنیادی حقوق سے نوازا جن کی وہ مستحق تھیں اور جن کو نفس پرست، خود غرض ، مفاد اور ہوس پر ست لوگوں نے مذہبی وسماجی رسوم ورواج کے نام پر اور کچھ نے بہ زور قوت سلب کررکھا تھا۔ مردوں کی غلامی اور ان کے جبر واستبداد سے عورت کو آزاد کرنے کا سہرا صرف اور صرف اسلام ہی کے سر ھے،
وید ک اور مغربی تہذیب میں عورت کا مقام قدیم زمانے کی عورت کی ہی طرح ہے۔ وہ آج بھی مجبور، مقہور اور غلام ہے، آج بھی وہ اپنے فطری حقوق اور معیار سے محروم ہے۔ وہ کل بھی شہوت رانی کا ذریعہ تھی آج بھی تسکین ہوس کا سامان ہے، وہ کل بھی مال تجارت تھی آج بھی حصول زر کا ذریعہ ہے۔ کل اس کی قبر پانی اور زمین تھے آج رحم مادر اس کی قتل گاہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت کی جتنی حالت خراب پہلے تھی اس سے کہیں زیادہ بدتر حالت اس ’’مہذب ‘‘ اور ’’روشن‘‘ دور میں ہے۔ بس فرق ہے تو عنوان کا جسے پہلے اس کو طوائف کہا جاتا تھا۔ آج سیکس ورکر، پہلے داشتہ کہلاتی تھی آج لیوان ریلیشن کا عنوان دے دیا۔ کوٹھوں کی جگہ یونیورسٹی اور کالجوں نے لے لی۔ جہاں کلچرل پروگراموں کے نام پر باپ کے سامنے ہی بیٹی کو نچایا جاتا ہے۔ گھر کی شوبھا کہلانے والی آج دفتروں اور محفلوں کی زینت ہے، ریسٹور ینٹ ، ہوٹل، پارک اور نائٹ کلب تمام سہولیات اور آرائش کے ساتھ موجود ہیں۔ جو کل تک معیوب اور قبیح تھا آج وہ آرٹ کلچر کے نام سے فیشن بن گیا ہے۔ مغربی حیوانی تہذیب سارے عالم کے اہل خیر وفکر کے لئے نمونہ عبرت ہے، جس نے انسان کو شرف انسانیت سے محروم کردیا ہے۔ رشتے ناتوں کی تقدیس پامال ہوچکی ہے۔ جنسی انار کی کی حالت یہ ہے کہ بچوں کو اپنے ماں باپ کا پتہ تک نہیں ہے۔ خاندانی نظام پارہ پارہ ہوچکا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!