BUSINESS

2020کس طرح سال تھا

ہر سال کا اختتام لوگوں کے ذہنوں میں بہت کچھ چھوڑ دیتا ہے بہت سے لوگ تھے جن سے ہم نے تھوڑی دیر کے لئے ملاقات کی ہوتی ہے ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں رہ جاتے ہیں ہم ہر سال بہت سے تجربات سے گزرتے ہیں کچھ تجربات اچھے ہوتے ہیں اور کچھ اچھے نہیں ہوتے اس سال کے شروع میں زندگی تھوڑی مختلف تھی نہ صرف ایشین ممالک بلکہ یورپی ممالک بھی ایک وبا کے لپیٹ میں آ چکے تھے
کرونا وائرس ایک مہلک وائرس ہے جو دنیا میں بہت نیا ہے اور اس سے پہلے اس وائرس کے بارے میں معلوم کسی کو بھی نہ تھااس وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے خصوصاً یورپی ممالک میں بہت ہی بری صورتحال رہی اور ایشیائی ممالک میں بھی صورتحال اس کرونا وائرس کے بارے میں کچھ خاص اچھی نہ تھی ناہیں اس وائرس کے بارے میں کوئی پہلے کبھی تحقیق ہوئی تھی اور نہ ہی اس کے لیے کوئی دوائی ایجاد کی گئی تھی اب ڈاکٹروں نے ماسک پہننے اور باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کی تجویز دی ہے ڈاکٹروں کے مطابق اگر کوئی شخص اس وائرس سے متاثر ہو جائے تو فوری طور پر وہ علیحدگی اختیار کرے اور اپنے آپ کو گھر کے ایک کمرے میں چودہ دن کے لئے الگ تھلگ رہے
یہ مہلک وائرس گزشتہ سال شروع ہوا چین سے پہلا کیس رپورٹ ہوا اور پھر اس کے بعد یہ شہر چینی حکومت کی طرف سے بند کر دیا یعنی نہ کوئی شہر میں آ سکتا تھا اور نہ ہی اس شہر سے باہر جاسکتا تھا تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے لیکن بعد میں وائرس باقی ممالک میں بھی پھیل گیا اور ہر ملک میں اس سے متاثر لوگ نکلنے لگے جو بھی اس وائرس سے متاثر ہوتا تو تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اس کے پھیپھڑے بڑے بہت متاثر ہو ئے ہیں اگر جسم کے اعضاء زیادہ مضبوط نہ ہو تو اس وائرس سے لڑنا ناممکن ہے
اس بیماری سے ہمارے بہت سے ڈاکٹر بھی متاثر ہو ئے ہیں اور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ناصر ڈاکٹر کے اور شعبہ زندگی کے لوگ بھی اس بیماری سے متاثر ہو ئے ہیں بہت سے سیاستدانوں وزیر اعظم صدر اور انجینئرز اور دوسرے شہر اس بیماری سے دوچار ہوئے ہیں ان متاثر لوگوں میں سے کچھ تو صحت یاب ہو گئے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو صحت یاب نہیں ہو ئے ہر ملک کا دوسرے ملک سے زمینی اور فضائی رابطہ معطل کر دیا گیا تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے اس کے علاوہ حکومت نے بہت سے اقدامات اٹھائے جس سے اس کے لوگوں کو محفوظ رکھا جا سکے اس وائرس سے بچا جا ے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button