تعلیم

تعلیمی بنیادوں کا تحزیہ

جس طرح کسی بھی عمارت کو کھڑا کرنے کے لیے پہلے بنیاد بنائی جاتی ہے اسی طرح تعلیم کی عمارت کن بنیادوں پر کھڑی ہے ۔اس کا آج ہم جائزہ لیں گے ۔

ما ہرین تعلیم :

ماہرین نے تعلیم کو چار بنیادوں پر کھڑا کیا  ہے ۔

مذہبی

معاشرتی

فلسفیانہ

نفسیاتی

تعلیم ایک مسلسل جاری و ساری رہنے والا عمل ہے یہ ز مانے اور ماحول کے مطابق جاری رہتا ہے۔ تعلیم ایک معاشرتی عمل ہے  جو طلباء اور استاد کے باہمی اشتراک سے فروغ پاتا ہے ۔

جہاں تعلیم نہیں وہاں جہل اپنی برُی حرکات و سکنات کے ذریعے معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ مثلا لڑائی جھگڑے ، خون خرابے ، قتل و غارت گری وغیرہ کی ایسی عادات جو معاشر ے کو پستی کی طرف دھکیل دیتی ہیں ۔ لہذا تعلیم حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” مہد سے لہد تک حاصل کرتے رہو ۔

کسی بھی معاشرے میں تعلیمی نصاب اس قسم کا ہونا  لازمی ہےجس سے فرد میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوں اور منفی عاداتو کردار کی اصلاح ہو ۔ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو ہماری معاشی و ثقافتی  قدروں کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرتی ہے

مذہبی نظریہ حیات:

کسی بھی معاشرے میں تعلیم کو مذہبی بنیادوں پر استوار کرنا ضروری ہے کیونکہ تعلیم ہی ایک ایسا وسیلہ ہے جو آنے والی نسلوں کو مذہبی اقدار سے متعارف کراتی ہے اور ان کو اپنے نظریے حیات پر کار بند ہونے کی تلقین کرتی ہے ۔

ہم پا کستانی ہیں اور ہمارا طرز حیات بھی دین اسلام پر مبنی ہے ہمارے ملک کی تعلیمی عمارت کو مذہبی بنیادوں پر استوار ہونا چاہیےتاکہ ہماری پروان چڑھنے والی نسلوں میں ایک سچے اور مخلص مسلمان کے اوصاف پیدا ہوں ۔اگر ہمیں دنیا اور آخر ت دونوں کو سنوارنا ہے تو تعلیم میں

مذہبی اقدار کو ذیادہ سے ذیادہ شامل کرنا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی پہلی وحی میں ارشاد فرمایا کہ ” پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا “

اس لیے تعلیم حاصل کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی  سے بچیں اور اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق اس کے پھیلاو

کا ذریعہ بنیں تاکہ آپ دین و دنیا دونوں میں سر خرو ہو سکیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
error: Content is protected !!