تاریخ

شیطانی سامراجی طاقتیں کس طرح انسانیت کو اپنا غلام بناتی ہیں؟

زمانہ قدیم سے بدنیت طاقتور لوگ کمزور انسانیت کو اپنا غلام بناتے چلے آئے ہیں .غلامی کی یہ شکل آج بھی اسی طرح اپنے عروج پر ہے فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے انسانوں کو جسمانی طور پر غلام بنایا جاتا تھا اور غلاموں کو بھی اپنی غلامی کا علم ہوتا تھا پھر وقت گزرتا رہا اور وقت کے ساتھ ساتھ غلام بنانے میں بھی جدت آگئی اور دور حاضر میں غلاموں کو اس بات کا شائبہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ غلام ہیں اور یہ غلام نادانستہ طور پر اپنے خودساختہ آقاؤں کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں .

دور حاضر میں اس طرح کی درجنوں مثالیں موجود ہیں ہم فقط متحدہ سوڈان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں — افریقہ کا تیل و دیگر معدنیات سے مالامال ملک متحدہ سوڈان 1956 میں آزاد ہوا -مذاہب کے لحاظ سے اکثریت مسلمان دوسرے نمبر پر کرسچن اور دیسی افریقی تھے -1978 میں متحدہ سوڈان میں تیل کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے جو سوڈان کی ترقی کی راہ میں بہت اہم کردار ادا کرسکتے تھے -لیکن سامراجی طاقتوں کو ان سیاہ فام افراد کا ترقی کرنا منظور نہ تھا کیونکہ وہ تو ان لوگوں کو انسانیت کے برابر حقوق دینے کے بھی خلاف تھے ان سامراجی طاقتوں نے اپنے اوچھے ہتھکنڈے استعال کیے .شمالی سوڈان میں تیل کا ایک چوتھائی جبکہ جنوب میں تین چوتھائی حصہ تھا اس بات سے شیطانی سامراجی طاقتوں نے فائدہ اٹھانے کا شیطانی منصوبہ بنایا اور کامیاب ہوگئے ان طاقتوں نےجنوبی سوڈان کے عوام ، جو غیر عرب اور دیسی افریقی تھے انکو قوم مذہب ثقافت اور رسم و رواج کے تعصب کی بنیاد پر احساس دلایا گیا کہ وہ ہر طرح سے شمالی سوڈان سے الگ حیثیت رکھتے ہیں تیل کے 75% ذخائر جنوب میں ہیں جبکہ شمالی حصہ جنوب کے حقوق پورے نہیں کرتا اور انکا نسلی و معاشی استحصال کیا جارہا ہے اور انکو اقلیت میں تبدیل کیا جارہا ہے (اس طرح کا غلط تاثر جنوب کے عوام کے ذہن میں ڈالا گیا۔

حالانکہ امریکی لائبریری آف کانگریس کے فیڈرل ریسرچ ڈویژن کی ریسرچ کے مطابق 1990 کی دہائی کے شروع میں جنوبی سوڈان کی عیسائی آبادی 10٪ سے بھی کم تھی)- جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ متحدہ سوڈان جو تیل کے ذخائر دریافت ہونے کی وجہ سے ترقی کی طرف گامزن ہونا چاہتا تھا خانہ جنگی سے دوچار ہوا جو کہ 20 سال تک جاری رہی -جسکے نتیجے میں ملک کو شدید نقصان پہنچا، بنیادی ڈھانچہ یکسر تباہ ہوگیا بڑی تباہی اور نقل مکانی کے باعث 25 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور اور 40 لاکھ سے زیادہ افراد داخلی طور پر بے گھر ہوئے یا وہ مہاجر بن گئے۔اور 2011 میں شیطانی سامراجی طاقتیں اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب ہوگئیں اور بدقسمتی سے جنوب کے عوام نئے اور الگ ملک کے نام پر دھوکا کھاتے ہوئے مزید تباہی کی طرف چلے گئے اور جن سامراجی طاقتوں نے جنوب کے عوام کو سبز باغ دکھائے تھے وہ سامراجی طاقتیں خود جنوبی سوڈان کے ان وسائل پر قبضہ کرکے بیٹھ گئیں جن وسائل کے نام پر جنوبی سوڈان کو شمال سے الگ کیا گیا تھا اور جنوب کے عوام کو دوبارا اپنا غلام بنالیا –

اگر ہم جنوبی سوڈان کے وسائل کی بات کریں تو یہ بین الاقوامی منڈی میں لکڑی کی برآمد کرتا ہے۔ اس خطے میں پٹرولیم ، آئرن ایسک ، تانبا ، کرومیم ایسک ، زنک ، ٹنگسٹن ، میکا ، چاندی ، سونا ، ہیرے ، ہارڈ ووڈس ، چونا پتھر اور پن بجلی شامل ۔ جنوبی سوڈان کے پاس سب صحارا افریقہ میں تیل کا تیسرا سب سے بڑا ذخیرہ ہونے کے باوجود بھی جنوبی سوڈان کے حالات نہایت ابتر ہیں۔ موجودہ جنوبی سوڈان اکثریت زندگی کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہوکر ناخواندگی ، صحت کی ناقص دیکھ بھال ، بنیادی فوج کی بنیادی سہولیات کا فقدان کے ساتھ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں- اور یہ سامراجی طاقتیں جنہوں نے جنوبی سوڈان کو شمالی سوڈان سے الگ کیا یہ انکے 75% تیل پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں اور ان کے تیل کا بھی ناحق استعمال کے ساتھ ساتھ انکو بیرونی قرض کے معاملے میں ، سوڈان اور جنوبی سوڈان تقریبا 38 $ بلین امریکی ڈالر کا مشترکہ قرض کے نیچے دبا رکھا ہے ، جو کہ پچھلے 50 سالوں میں ان پر واجب ادا ہوچکا ہے

اہم بات یہ کہ رنگ ، نسل و مذہب کے نام پر ٹکڑے کرنے کے بعد آج بھی جنوبی سوڈان کو مزید خانہ جنگی میں دھکیلا جارہا ہے اور آزادی حاصل کرکے بھی اپنی 10 ریاستوں میں سے 9 میں کم از کم سات مسلح گروہوں کے ساتھ جنگ ​​کر رہا ہے ، جسکے نتیجے میں دسیوں ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔جہاں اندرونی طور پر ملک میں خانہ جنگی پھیلائی جارہی ہے وہیں دوسری طرف شمال میں سوڈان کے ساتھ جنوبی سوڈان کی فوج کو شمالی سوڈان کے ساتھ برسرپیکار کیا ہوا ہے تاکہ عوام آپس کی لڑائیوں میں ہی الجھی رہے اور سامراجی طاقتیں انکے وسائل پر قابض رہیں اور انہیں سامراجی طاقتوں نے دینا کو دکھانے کے لیے اپنے نام نہاد خیراتی ادارے یہاں قائم کیے ہوئے ہیں ۔ اور اس ملک کے وسائل کی 100 فیصد آمدنی میں سے 10فیصد آمدنی اپنے ان خودساختہ نام نہاد ارادوں کے نام پر جنوبی سوڈان کے عوام کو انہیں کے وسائل کا 10فیصد حصہ انکو دیا جاتا ہے لیکن وہ بھی انکی عزت نفس کو مجروح کرنے کے بعد بھیک کی صورت میں احسان جتلا کر انکو دیا جاتا ہے آج وہی سوڈانی دو وقت کی روٹی کے لیے اور پانی کے چند گھونٹوں کے لیے بھی انہیں سامراجی طاقتوں کے خیراتی اداروں کے محتاج ہیں اور یہ محتاجی انکی کتنی نسلوں کو بھگتنی پڑے گی!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!