ادب

دھرتی

آج میں گھر بیٹھا کھانے کی ٹیبل پر كھانا تَناوُل فرما رہا تھا کے میری بھانجی چار سال کی اچانک كھانا کھاتے ہوئے بولی ” جب دھرتی ٹوٹ جاتی ہے تو گھر ٹوٹ جاتا ہے ” تو میں نے اس سے پوچھا کے دھرتی کیا ہے تو کہنے لگی ” موبائل میں دیکھا ہے ” .

یہ بات درست ہے کے دھرتی ٹوٹ جاتے ہے تو گھر خود بخود ٹوٹ جاتا ہے مگر یہ بات اس بچی کے سمجھ میں آنے والی نہیں ہے اس نے صرف موبائل پر اسٹوری دیکھی اور بول دیا یہ ہمارے سمجھنے کی ہے کے لفظ ” دھرتی ” ہے کیا .

دھرتی ایک ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں پر ہم اپنے تمام رسومات اور اپنی نشونوما اپنے اباواجداد کے بتائے ہوئے قوانین کئی مطابق گزار سکیں . اگر دھرتی یعنی ہمارا ملک پاکستان نہیں رہے گا تو ہم اپنی ناشونوما سہی طریقے سائی نہیں کر پائیں گئی اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہمارے آپس کے لوگوں میں اتحاد ہو

فرد قائم رابطے ملت سے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں بیرونے دریا دریا کچھ نہیں

علامہ اقبال بہت بہتر اتحاد کو بیان کر کے جا چکے ہیں کے آپس میں یکجان ہو کر رہنا چاہیے یعنی کے اگر ایک بھائی کو کوئی تکلیف پوحنچای تو دوسرا اسکی تکلیف کو محسوس کرے .

آپس میں اتحاد کیسے پیدا ہو گا ؟

آپس میں اتحاد کے لیے ضروری ہے کے ہمیں آپس کے تمام یختیلافاات بھولا دینا چاہنے چاحیین چاہے انکا تعلق رنگ نسل زبان یا پِھر فرقے سائی ہو . ہمارا مذہب اسلام ہے اسلام ہمیں آپس میں اخوت ، بحاییچارجی کا سبق دیتا ہے وہ ہمیں کبھی یہ درس نہیں دیتا کے ہم صرف رنگ ، زبان ، فرقہ واریات کے ماسلون میں پڑھ کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جا ئیں ہمیں چاہیے کے ایک کلمہ گو ہو کر علم حاصل کریں اور باطل کے منہ پر تامانچا ماریں چاہے وہ ہم میں سے بھی ہو جب ہم ایک کلمہ گو ہو کر حرام کی پااسبانی کے لیے کھڑے ہوں گئی خود باطل ہمارای سام نئے آئے گا اور مختلف طریقوں سے ہم پر وار کرے گا اور ہم با آسانی اُسکی تمام حربوں کو سمجھ سکیں گئی . تو آئی آج سے عہد کریں کے ہم آپس کے تمام یختیلافاات کو بھلا کر وکجان ہو کر رہیں گئی اور اپنے ملک پاکستان کا نام روشن کریں گئی .

اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور آپس میں مل جھل کر رہنے کی توفیق فرمائے .
آمین

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!