244 views 0 secs 0 comments

یہ قبر کیوں نہیں ڈوبتی؟ سندھ میں ہزاروں فٹ گہرے سمندر میں تیرتی یہ پُراسرار قبرآخر کس کی ہے؟

In تاریخ
June 17, 2021
یہ قبر کیوں نہیں ڈوبتی؟ سندھ میں ہزاروں فٹ گہرے سمندر میں تیرتی یہ پُراسرار قبرآخر کس کی ہے؟

یہ پُر اسرار مزار جھیل کے بھیچ میں کیسے تعمیر ہوا؟ اور اسکو تعمیر کروانے والا کون تھا ؟یہ قبر سندھ کے شہر ٹھٹھہ میں موجود کینجھرجھیل بیچ و بیچ موجود ہےاس حیران کن قبر کو دیکھنے کےلئے ہر روز ہزاروں لوگ اس جگہ کا رُخ کرتے ہیں۔لیکن یہ قبر ہے کس کی؟ یہ قبر نوری جام تما چی کی ہے۔دراصل کہانی کچھ اسطرح ہے کہ یہ لڑکی کینجھر جھیل کے ساتھ آباد مچھیروں کی آبادی میں رہا کرتی تھی۔نوری کو پانی سے بہت لگاؤ تھا۔وہ روز جھیل کے کنارے جا کے بیٹھا کرتی تھی۔نوری کے والد بھی ایک مچھیرے تھے۔

noori

ایک دن نوری بھی اپنے والدکی مدر کرنے کے لیے اُنکے ہمراہ کشتی میں موجود تھی کہ اچانک ایک آدمی انکی طرف بھاگتا ہوا آیا۔اور بولا کہ بادشاہ سلامت آرہے ہیں بستی کے سب مچھیرے بادشاہ کا استقبال کرنے کےلیے پہنچ گئے ۔اس بادشاہ کا نام جام تماچی تھا اور یہ ٹھٹھہ کا حکمران تھا ۔یہ شکار کی غرض سے جھیل سے آیا تھا اور کچھ دیر کے لیے یہاں آرام کرنا تھا ۔نوری بادشاہ کو دیکھنے کے لیے بہت بےچین تھی۔ جام تماچی جب لوگوں سے مل رہا تھا تو اس کی نظر نوری پر پڑی ۔ نوری ایک خوبصورت لڑکی تھی اور اسکا نام بھی نوری اسی لیے رکھا گیا تھا کہ اس کا چہرہ چاند کی طرح چمکتا تھا ۔کہا جاتا ہے کہ بادشاہ جام تماچی کو نوری پہلی ہی نظر میں اچھی لگی اور اسی وجہ سے اس نے کچھ دنوں کے بعد نوری کے ہاں شادی کا پیغام بھیجوا ور گاؤں والے بھی حیران تھے کہ ایک بادشاہ بھلا کیسے ایک مچھیرے سے شادی کر سکتا ہے۔ لیکن نوری بہت خوش تھی کہ اسکی شادی ایک بادشاہ سے ہونے والی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ غمگین بھی تھی کہ اس کو اپنا گاؤں بھی چھوڑنا پڑ رہا تھا۔

:نوری جام تماچی کی شادی

کہا جاتا ہے کہ جب نوری شادی کے بعد محل آئی تو محل کے زیادہ تر لوگوں کے لیے ایک مچھیرے کی بیٹی کوملکہ تسلیم کرنا مشکل تھا ۔ دراصل اصل مسئلہ بادشاہ کی پہلی چھہ بیویوں کاتھا ۔ جن کو اس سے حسد ہونے لگی اور سب نے باشاہ کے کان بھرنا شروع کر دیے لیکن باشاہ نے ان کے باتوں پر کان نہ دھرے لیکن ایک بات بادشاہ کو کھٹکنے لگی جب اس کو اپنی پہلی بیویوں سے یہ سنانے کو ملا کہ نوری محل سے قیمتی زیورات چوری کر کے اپنے بھائی کو دیتی ہےجو کہ وہ اپنی بستی لے جاتا ہے اور اسکے علاوہ بھی محل کے دوسروں لوگوں سے بادشاہ کو یہ سنانے کو ملا کہ نوری اپنے بھائی کو ایک لکڑی کا صندوق دیتی ہےاس پر بادشاہ کو بہت غصہ آیا اور نوری کو رنگے ہاتھوں پکڑنےکا فیصلہ کر لیا۔چناچہ جب نوری کا بھائی اس سے ملنے محل آیا تو باشاہ نے اپنے کچھ محافظ نوری کے آس پاس مقرر کر دیے ۔ اب ہونا کیا تھا جیسے ہی نوری نے اپنے بھائی کو لکڑی کا صندوق دیا تو محافظوں نوری کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ اورصندوق چھین لیا۔اس کے بعد اسکو بادشاہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔بادشاہ بہت غصے میں تھا۔اورصندوق کھولنے کا حکم دیا۔جب صندوق کھولا گیا تو بادشاہ کی حیرت کی انتہانہ رہی کیونکہ اس صندوق میں ہیرے جوارات کی بجائےمچھلی کے کانٹے موجود تھے۔:بادشاہ کےدریافت کرنے پر نوری نےجواب دیا

بادشاہ سلامت مجھے گاؤں کے کھانے کی عادت ہو گئی تھی اور مجھ سے محل کے کھانے نہیں کھائے جاتے تھے اسی وجہ سے میں نے اپنے بھائی کو گاؤں سے کھانا لانے کو بولا تھا اور آپکو اسی وجہ سے نہیں بتایا تھا کہ آپکو برا نہ لگ جائے کہ محل کےاچھے کھانے چھوڑ کرگاؤں کے کھانوں کو ترجیح دی یہ بات سن کر بادشاہ کے دل میں نوری کے لیے محبت اور عزت اور بڑہ گئی ۔اسکے بعد بادشاہ نے کبھی نوری کے خلاف کسی کی بات نہ سنی۔ بادشاہ اور نوری کی یہ داستان کافی مشہور ہوئی ۔بادشاہ نوری کو کے کر اکثر اس کے گاؤں لے کے جایا کرتا اور دونوں گھنٹوں کینجھر جھیل کے کنارے بیٹھے رہتےتھے ۔

:نوری جام تماچی کی موت

نوری کی موت بادشاہ کی زندگی میں ہی ہو گئی تھی ۔بادشاہ نے نوری کے مقبرے کو جھیل کے بیچ و بیچ بنانے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ پہلی بار دونوں اسی جھیل کے کنارے ملے تھے۔اور یہ پراسرار دکھنے والی قبر نوری جام تماچی کی ہی ہے۔ہر روز سینکڑوں لوگ کشتی پر سوار ہو کر اس مقبرے تک جاتے ہیں۔

noori

:ایک افسوس ناک واقعہ

یہاں ایک افسوس ناک واقعہ بھی پیش آیا تھا جب نوری کی قبرسے پانچ لوگوں کی لاشیں ملی تھی ۔جو کراچی سے یہاں گاڑی میں آئے تھے ۔ان سب کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا ۔ ان لوگوں نے کشتی والے کو کہا تھا کہ ہمیں دو گھنٹے بعد لینے آجائے۔لیکن جب کشتی والا نوری کی قبر پر پہنچا تو یہ سب لوگ مر چکے تھے۔آج کے لیے اتنا ہی مزید دلچسپ کہانیوں کے لیے میرے اس پیج کو لائک اور شیئر کریں ۔

شکریہ

 

/ Published posts: 3

Work as an IT instructor in Pak Emirates Institute.