تاریخ

روسی ڈاکٹر کا کارنامہ

سینٹ مارٹن کی موت سے ہضم کے بارے میں تحقیقات میں جو تعطل پیدا ہوا تھا ایک روسی ڈاکٹر پیولاف نے اپنی فراست سے حل کر دیا- سب سے پہلے اس نے ایک کتا لے کر اس کا آپریشن کر کے سینٹ مارٹن کے معدہ کی طرح کا سورخ مصنوی طور پر بنا دیا- اس سورخ کے راستے اسی طرح کھانے پینے کی چیزیں داخل کی جاتی رہیں- ابتدائی معلومات کے بعد کتے کو منہ کے راستے باقاعدہ خوراک دی جاتی اور پھر معدہ میں اس کے مدارج ہضم کا پتہ چلانے کے لئے سرنج کے ذریعے نمونے حاصل کئے جاتے رہے-

ڈاکٹر پیولاف نے محسوس کیا کہ معدہ میں ہضم کرنے والے جوہر اور ان کی مقدارضروریات اور حالات کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے- اس نے کتے ک منہ میں بھی سوراخ بنا دیا- اس سے صوتحال یہ ہوئی کہ کتا جو کچھ کھاتا وہ سوراخ کے راستے باہر نکل جاتا- گلے میں ایک دوسرے سوراخ کے ذریعہ ایک مختلف خوراک داخل کی جاتی- کتے نے ذائقہ چکھا لیکن معدہ میں دودھ گیا اس تبدیلی سے معدہ پر کیا اثر ہوا؟ان مطالبات کے بعد پیولاف نے خوراک دینے کے اوقات مقرر کئے-اوقات کے تعین سے نئی نئی باتیں معلوم ہوئیں- پیولاف کے تجربات سے جانوروں میں خوراک کے بارے میں جو دلچسب حقائق معلوم ہوۓ ان کا خلاصہ یہ ہے-جس کسی کو بھوک لگتی ہے تو اس کے منہ اور پیٹ میں خصوصی قسم کے کھانا ہضم کرنے والے لعاب پیدا ہوتے ہیں جن کو کا نام دیا گیا-

کھانا کھائے جب عرصہ گزر جاۓ تو بھوک لگتی ہے- یہ بھوک کھانے کا وقت ہونے، کھانے کا سننے، کھانے کی خوشبو یا اپنے سامنے کسی کو کھاتے دیکھ کر بڑھ جاتی ہے-بھوک والے لعاب مشروط حالات میں پیدا ہوتے ہیں جیسے کہ بورڈنگ ہاؤس میں بچوں کو کھانے والے کمرے میں بلانے کے لئے گھنٹی بجتی ہے- پیولاف اپنے جانوروں کی خوراک کو اسی طرح مدتوں دیتا رہا- ان کو احساس ہوا کہ جب گھنٹی بجتی ہے تو کھانا ملتا ہے- جب بھی گھنٹی بجتی جانوروں کے پیٹ میں غذا کو ہضم کرنے والے لعاب پیدا ہونے لگتے- کئی مرتبہ گھنٹی بجنے کے بعد کھانا نہ دیا گیا- لیکن لعاب کا پیدا ہونا گھنٹی سے مشروط ہو گیا conditioned reflex کا نام دیا گیا-

اس مشروط ردعمل کی روزمرہ مثال ماہ رمضان میں مغرب کی اذان ہے- روزہ دار دن بھر بھوک پیاس محسوس نہیں کرتے لیکن افطاری کا ڈھول بجنے یا اذان کی آواز سنتے ہی بھوک اور پیاس لگ جاتی ہے- حواس خمسہ کے اکثر ارکان بھوک پر اثر انداز ہوتے ہیں- خوشی یا غم کی صورت میں Hormone پیدا ہوتے ھو جو بھوک اڑا دیتے ہیں- جبکہ گھی میں تلی جانے والی مٹھائی کو آنکھوں کے ذریعہ دیکھ کر خواہش پیدا ہوتی ہے- اسی طرح کباب پکتے وقت گوشت کا جو پانی کوئلوں پر گرتا ہے اس کی خو شبو ناک کے راستے جا کر بھوک کو بیدار کرتی ہے- ہنڈیا میں چمچہ چلانے کی آواز یا میز پر برتن بجنے کی آواز بھوک لگاتی ہے-

جسم کا کنٹرول اتنا شاندار ہے کہ کھانا ہضم کرنے والے لعاب کھانے کی نوعیت کے مطابق پیدا کئے جاتے ہیں- تجرباتی جانورں کو جب خشک گوشت پیس کر دیا گیا تو لعاب میں پانی زیادہ ہوتا ہے اس کے برعکس تازہ یا پکے ہوۓ گوشت کو ہضم کرنےکے لئے جو لعاب پیدا کئے جاتے ہیں وہ گاڑھے اور ان میں پانی کا تناسب نسبتاً کم ہوتا ہے-

غذا کو ہضم کرنے کا عمل منہ سے شروع ہو کر چھوٹی آنت میں جا کر ختم ہوتا ہے- ڈاکٹر پیولاف کے دریافت کردہ یہ نکات ہاضمہ کے عمل کو سمجھنے، اس کی خرابیوں کی تشخیص اور علاج میں بڑی اہمیت رکتھے ہیں-

Related Articles

3 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!