قوت

In اسلام
July 06, 2021
quat

المٶمن قوی “ طاقتور مومن اللہ تعالی کے ہاں کمزور مومن سے زیادہ بہتر اور محبوب ہے۔الحدیث

ترغیب ہے کہ مومن ایمانی قوت کے ساتھ جسمانی قوت کو بھی پڑھائے اور اسے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ یہ بھی اللہ تعالی کا قرب پانے کا ایک طریقہ اور ذریعہ ہے۔ لیکن طاقت اور قوت وہ پسندیدہ ہے جو ایمان کی بنیاد پر حاصل کی جائے۔ جس طاقت کی بنیاد ایمان پر نہ ہو وہ اکثر اوقات خیر نہیں بد ترین شر ثابت ہوتی ہے۔ اس سےظلم جنم لیتا ہے، زیادتیاں وجود پاتی ہیں، گناہ سرزد ہوتے ہیں، تکبر ظاہر ہوتا ہے، ریاکاری اور شہوات کے لئے ان کا استعمال ہوتا ہے۔

غرضیکہ کہ وہ ہزار قسم کی ایمان سوز برائیوں کا سرچشمہ بن سکتی ہے۔ جبکہ جو طاقت ایمان کی بنیاد پر حاصل کی جائے وہ ہزار قسم کی نیکیوں کا منبع اور سرچشمہ بن کر مومن کوقرب اور محبوبیت کی منازل تک پہنچاتی ہے۔ دیکھیے جو نماز ایک قوی مومن کی ہو سکتی ہے ضعیف کی نہیں ہو سکتی۔ یہ طویل قیام کی سنت جس میں بسا اوقات ایک رکعت میں سورۃ بقرہ بھی پڑھی جاتی اور پھر اسی کے بقدر طویل رکوع اور سجودکیا انکی انجام دہی ممتاز جسمانی قوت کے بغیر ممکن ہو سکتی ہے؟ کیا ایک طاقتور اور مشقت کے عادی مومن کے روزے والی شان ایک ضعیف شخص کے روزے میں آ سکتی ہے؟ کیا قوی اور ضعیف کا حج ایک جیسا ہو سکتا ہے؟

ان اعمال کا حقیقی حسن اور خوبی تو یقینا ایمان اور روح کی قوت ہے لیکن ان کی یہ ظاہری شان و شوکت اقر کثرت روح کے ساتھ جسم کی غیر معمولی طاقت کی بھی محتاج ہے۔ اب اگر دو مسلمان ایک جیسے ایمانی اور روحانی قوت کے حامل ہوں تو ان میں جو شخص ساتھ ساتھ جسمانی قوت میں ممتاز ہوگا وہ اپنی عمل کی کثرت اور شوکت کے سبب بالیقین زیادہ قرب اور محبوبیت پالےگا۔ اس لیے طاقت وہی محمود اور مطلوب ہے جو ایمان کے ساتھ ہو اور صاحب ایمان جب طاقت پاٸے تو وہ محبوب اور مقرب ہو جاتا ہے۔ اسی کی طرف اس روایت میں توجہ دلائی گئی ہے۔

اللہ تعالی کے بندوں کو..”المؤمن القوی“بننے کی دعوت دینا..یہ کوئی نئی دعوت نہیں..یہ کوئی ”بدعت“ نہیں..یہ کوئی ”معمولی“ دعوت نہیں..یہ ”قرآن مجید“ کی دعوت ہے..قرآن مجید میں سورہ ”الانفال“ ہے..مال غنیمت طاقت سے ملتا ہے..قرآن مجید میں سورہ ”البراۃ“ ہے..برات طاقتور ہی کر سکتے ہیں..قرآن مجید میں سورہ ”الحدید ہے“..لوہے کی طاقت..سورہ ”الصف“ ہے..سورہ ”الممتحنہ“ ہے..سورہ ”الفتح“ ہے..سورہ ”النصر“ ہے..سورہ ”العادیات“ ہے..اور بہت کچھ..”المؤمن القوی“ بننے کی دعوت دینا..یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے.

یہ خلفاء راشدین کی تاکیدی نصیحت ہے..بھائیو! دل کے درد کے ساتھ یہ دعوت مسلمانوں میں عام کرو تاکہ..”امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ واپس ”شیروں“ کی امت بن جائے..کوئی موذی انہیں ذبح نہ کر سکے..کوئی مودی ان کو دھمکا نہ سکے..کوئی انہیں تر نوالہ نہ بنا سکے..امت مسلمہ پر شیطان نے سستی،کمزوری اور بیماری کا جو حملہ کر رکھا ہے..اسے توڑنے کے لئے..جنون کے ساتھ ”المؤمن القوی“ بننے اور بنانے کی ترتیب ہر مسلمان اپنا لے..والسلام